107 total views, 1 views today

پانی زندگی ہے اور دریا، ندیاں، چشمے، آبشاریں زندگی کے منابع، خزانے اور سرمایہ ہوتی ہیں۔
کسی بھی ملک کے لیے پانی کے ذخائر بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر زندگی کے سانسوں اور لمحوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آج کل ملکوں کے درمیان پانی کے تنازعات چل رہے ہیں اور ماہرین یہ پیشین گوئیاں کر رہے ہیں کہ دنیا کی تیسری جنگ اگر ہوگی، تو وہ پانی ہی پر ہوگی۔
دنیا کے تمام ممالک اس حوالے سے بہت حساس واقع ہوئے ہیں۔ قومیں اپنے پانی کے ذخائر کی حفاظت کررہی ہیں۔ انہیں محفوظ اور صاف ستھرا رکھتی ہیں، لیکن افسوس……! ہم ایسے بے حس اور غیر ذمہ دار قوم بن گئے ہیں کہ ہمیں اپنے پانی کے ذخائر کی پروا ہی نہیں، بلکہ ہم اسے بے دردی سے ضائع کررہے ہیں۔ انہیں گندا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
باالفاظِ دیگر پانی اگر زندگی ہے، تو ہم اپنی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے پر ہر وقت تلے ہوئے ہیں۔ ہم خوبصورتی کو مانتے ہیں اور نہ کسی کا حق مانتے ہیں۔ ہر چیز پر اپنا حق جتاتے ہیں اور زور زبردستی بھی کسی کا حق چھیننے سے دریغ نہیں کرتے۔ قبضہ جمانے اور ماحول خراب کرنے اور اسے تہس نس کرنے میں ہم دیر نہیں لگاتے۔
قارئین، قومی شعور اور اجتماعی سوچ سے ہم ماورا قسم کی مخلوق ہیں۔ ہمیں صرف اپنے ذاتی مفاد کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ قومی اور اجتماعی مفاد جائے بھاڑ میں۔حالاں کہ ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکات کرکے ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مار رہے ہوتے ہیں۔
قارئین! اس وقت مینگورہ کے بااثر خان خوانین ’’دریائے سوات‘‘ کو فتح کرنے پر تل گئے ہیں۔ اسے بہنے سے اور موجیں مارنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی خوبصورتی کو بدصورتی میں بدلنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ پہلے تو دریائے سوات کے صاف شفاف پانی کو انسانی فضلوں سے بے دریغ گندا کیا گیا۔ پھر اس میں گہرے گڑھے کھود کر اس کے بہاؤ کی روانی اور خوبصورتی کو ختم کیا گیا اور اب اُس کے خوب صورت لہروں کے کناروں پر قبضہ کرکے خدا کی مخلوق کو کائناتی نظاروں سے لطف اندوز ہونے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس وقت فضاگٹ کے پرانے پارک سے لے کر امیر مقام صاحب کی عمارتی امپائر تک اور سڑک کے کنارے ایک غریب کے مٹی کے برتنوں کی حدود تک کوئی ایسا راستہ نہیں کہ دریائے سوات کے کناروں تک کوئی بندہ بشر پہنچ سکے۔
جہاں ایک راستہ ہے، اُس پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ اللہ کی مخلوق کو فطری نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک زمینی خدا کو فیس دینا پڑتی ہے۔ یہ قبضہ مافیا سڑک کا حق مانتی ہے اور نہ دریائے سوات کا حق ماننے پر تیار ہے۔ بس یہ ہر جائز و ناجائز طریقے سے پیسے بنانے اور کمانے میں مصروفِ عمل رہتا ہے، تو کیا کوئی روک ٹوک والا نہیں، کوئی حکومت اور انتظامیہ نہیں؟
قارئین، ہر ملک میں پہاڑ، دریا اور شاہراہیں ریاستی ملکیت ہوتی ہیں۔ یہاں آپ اندازہ لگائیں کہ فضاگٹ روڈ پر (جہاں آج کل گنے کا رَس ملتا ہے) ذرا سی کھلی جگہ پر بالکل برلبِ سڑک کئی منزلہ عمارت بن رہی ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ آخر ’’رایٹ آف وے‘‘ یعنی راستوں اور سڑکوں کا حق کدھر ہے؟
دوسری جانب سڑک کے نیچے دریا کنارے زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ تجاوزات بڑھ رہے ہیں۔ دریا کے حقوق غصب ہورہے ہیں۔ دریا کی لہروں تک پر قبضہ مافیا قبضہ جمانا چاہتاہے۔
دوسری جانب حکومتی دعوے آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور عملی طور پر کارروائی صفر کے برابر ہے۔ آپ کالام کوہستان کو چھوڑئیے، خدا کے لیے یہاں مینگورہ میں مشہور پرانی اکرم مسجد (اکرم جمات) سے شروع کیجیے۔ دریائے سوات کے اس خوب صورت کنارے کو آبادی سے اور قبضہ مافیا سے واگزار کیجیے۔ اس میں کوئی خان ملک، اپنا پرایا نہ کیجیے۔
اس طرح دریا کے کنارے اور روڈ کے درمیان ایک لمبا سرسبز اور خوبصورت لالہ زار بنایئے۔ اس میں جگہ جگہ بینچ بنایئے۔ پھول اُگایئے، تاکہ والیِ سوات مرحوم کی یاد تازہ ہوجائے۔ وہ بادشاہِ وقت جب اپنے دور میں حکمران تھے، کسی کی مجال تھی کہ دریا کے کنارے ایک انچ زمین قبضہ کرنے کی جرأت کرتا۔ اُس کے جاتے ہی مقامی خانوں اور ملکوں نے لنگوٹ کس لیا۔ جو جتنا زور آور اور طاقت ور تھا، اُس نے اُس حساب سے ناجائز قبضہ جمالیا۔
مَیں ان سطور کے ذریعے عمران کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قومی اسمبلی میں بل پاس کرائے کہ تمام پہاڑ، شاہراہیں، جنگلات، دریا، نہریں اور چشمے بہ حقِ سرکار ضبط ہوں اور انہیں قومی ملکیت قرار دیں۔
اس کے بعد شاہراہوں اور دریاؤں کے آس پاس کے حقوق کا پاس کرتے ہوئے تمام ناجائز تجاوزات کو گرا کر ملیامیٹ کردیا جائے۔ اندازہ لگا ئیں انسانی ظلم و بربریت کا کہ دریا کی لہروں کے اوپر ہوٹل بنائے گئے ہیں۔ فلش کی تمام گندگی کو بھی دریا برد کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی جاتی۔ یعنی جس دریا کے ماحول سے مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، اُسی دریا کے پانی کو گندہ کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی جاتی۔ باالفاظِ دیگر جس تھالی میں کھاتے ہیں، اُس میں چھید کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جا رہی۔ حکومتی انتظامیہ کو اس حوالے سے قانونی کارروائی کرتے ہوئے سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔
دریائے سوات کی خوبصورتی اور حدود کی پاس داری کو ہر لحاظ سے اولیت دینی چاہیے۔ دریائے سوات کے ساحل اور کناروں کو ہر لحاظ سے تحفظ دینا چاہیے۔ کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے اور نہ کسی کے اثر و رسوخ کا خیال رکھنا چاہیے۔
قارئین، جو حضرات یہ مؤقف اختیار فرما رہے ہیں کہ انتقال اور رجسٹری کے بعد عمارات گرانا اور زمینوں پر قبضہ زیادتی اور ظلم ہے۔ ایسا کہنا اُنہیں زیب نہیں دیتا۔ آخر انہوں نے حکومتی پراپرٹی کے حقوق کیوں غصب کیے؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ غلط اور غیر قانونی پراپرٹی خرید رہے ہیں؟ دراصل یہ قبضہ مافیا کا طریقۂ کار ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اس طرح انجان بن کر پرائے حقوق کو غصب نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے لیے کوئی جواز ہی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
تبدیلی سرکار سے درخواست ہے، اپیل ہے، مطالبہ ہے کہ وہ دریائے سوات کو امن و سکون سے بہنے کا موقعہ فراہم کرے۔ دریائے سوات کے کنارے تمام تجاوزات (خواہ کسی بھی شکل میں ہوں) بلا کسی خوف و خطر کے اور بلا کسی کے اثر و رسوخ سے مرعوب ہونے کے مٹانے کا عزم کرے۔ دریائے سوات کے کنارے تمام ہوٹلوں کے فلش بند کروائے۔ کوئی گندگی دریائے سوات کی صاف و شفاف لہروں میں شامل نہ ہونے دے۔ دریائے سوات کے زمینی حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ اقدامات کرکے کناروں پر پشتے یا مضبوط خاردار باڑ لگایا جائے۔ ایسا کرکے موجودہ حکومت سوات کی تاریخ میں اپنا ایک مقام بنالے گی۔ ورنہ دوسری صورت میں اگر مزید سُستی کی گئی، تو ہم اپنے دریا، ساحلوں، پہاڑوں، چشموں، درختوں، وادیوں اور شاہراہوں سے ہاتھ دھولیں گے۔ گارے، اینٹ، سیمنٹ اور بلاک کی تعمیرات اور آبادی کا جنون اس حد تک بڑھ جائے گا کہ کوئی خالی جگہ، کوئی سر سبز میدان، کوئی پارک اور سر سبز و شاداب میدان نہیں بچے گا۔ یوں ہم سیمنٹ کے قلعوں میں محصور ہوکر رہ جائیں گے۔ کوئی تازہ ہوا نہیں چلے گی۔ کوئی درخت ہواؤں کے ساتھ اٹھکیلیاں نہیں کرے گا۔ کوئی بلبل صبح سویرے اپنے نغمے نہیں بکھیرے گا۔ کوئی صبح کی سیر نہیں ہوگی اور نہ پرندے صبح کی گیت ہی گائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے، کائنات کا فیصلہ ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ’’دریائے سوات کو بہنے دیا جائے!‘‘
………………………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے