49 total views, 1 views today

ٹی وی پر ’’ٹِکر‘‘ (Ticker) چل رہی تھی:’’سینیٹر عثمان کاکڑ شدید زخمی، ہسپتال داخل۔‘‘ تفصیلات کے لیے چینل بدلے مگر مرغی کی وہی ایک ٹانگ۔ وہ کوئٹہ کے تین مختلف نجی ہسپتالوں میں یکے بعد دیگرے داخل کیے گئے۔ کوما میں تھے۔ آپریشن بھی ہوا مگر حالت بگڑتی گئی۔ سو ائیر ایمبولنس کے ذریعے کراچی منتقل کیے گئے، مگر جاں بر نہ ہوسکے اور وہیں انتقال کرگئے۔ وہاں سے سڑک کے ذریعے جب ان کا جسدِ خاکی لایا جا رہا تھا، تو سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے لے کر موصوف کے گھر مسلم باغ تک ہر جگہ لوگ قِطاروں کی شکل میں کھڑے تھے۔ کوئی میت والی گاڑی پر پھول نچھاور کررہا تھا، کوئی اسی گاڑی کو روک کر بوسہ دے رہا تھا، تو کوئی مرحوم کو سلام پیش کر رہا تھا۔
عمومی طور پر بلوچستان، پختون اور بلوچ خطوں میں تقسیم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی، سرداری نظام کی بدولت دونوں قوموں میں عام طور پر دوری سمجھی جاتی ہے۔ قوم پرستانہ سیاست کی وجہ سے عثمان کاکڑ کا شمار پختون قوم پرست قائدین میں ہوتا تھا۔ باوجود اس کے کہ بلوچستان کے بلوچ، پختون اور ہزارہ برادری نے جس طرح انہیں خراج تحسین پیش کیا، ایسا بہت کم کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ
ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود و ایاز
بالکل اسی طرح مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کرنے والے پارٹی، عقیدے، علاقے، نسل، رنگ اور زبان سے مبرا ایک ساتھ کھڑے تھے۔ اس کے گھر اور پارٹی والے سمجھتے ہیں کہ اس کو قتل کیا گیا ہے؟ موصوف کی کچھ تقاریر سے جملے اُٹھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملکی خفیہ اداروں نے ایسا کیا ہے ویسا کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
کچھ لوگ تو اس کو باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیا جانے والا قتل کہتے ہیں۔ ہمارے سامنے چوں کہ کوئی قوی یا حتمی شواہد موجود نہیں، اس لیے اس معاملے میں رائے زنی سے گریز کرتے ہیں کہ مرحوم واقعی مارا گیا ہے یا حادثاتی موت سدھار گئے ہیں؟ اس حوالہ سے ان کے لواحقین اور پارٹی کا فرض بنتا ہے کہ اس معاملے کو سلجھائیں۔
ہم تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدانخواستہ واقعی اگر مرحوم کو قتل کیا گیا ہے، تو جس نے بھی کیا ہے، عظیم گناہ کیا ہے۔ خواہ وجوہات کچھ بھی ہوں۔ کیوں کہ بغیر جرم، عدالت اور گواہ کے کسی کو قتل کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں۔ بہرحال اب چوں کہ وہ اللہ کے ہاں جاچکے ہیں اور معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے، تو ہم ان کی مغفرت کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔
میرا مدعا مگر مرحوم کی سیاست اور ذات نہیں۔ کیوں کہ ذاتی تعلق ان سے کبھی رہا نہیں اور سیاست میں مجھے محدود علاقائی یا قوم پرستانہ سیاست کا کماحقہ ادراک نہیں۔ اس لیے ان دونوں سے آگے جاتے ہوئے صرف ملکی روایتی میڈیا خاص کر ٹی چینلوں کے کردار پر بات کرتے ہیں۔
جیسا کہ پہلی سطر میں ’’ٹیکر‘‘ کا ذکر کیا، تو اس کے بعد تفصیلات کے لیے غیر ملکی نشریاتی اداروں، سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر انحصار کرنا پڑا۔ ذکر شدہ تینوں ذرائع سے ہاتھ آنے والی معلومات نے سوچ کا دھارا بدلا۔ باوجود اس کے کہ مَیں پاکستانی ٹی وی چینلوں پر اس معاملے کو ’’فالو‘‘ کرتا رہا، مگر ماسوائے ’’پلے ڈاؤن‘‘ اور ’’سٹوری کلنگ‘‘ کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔
اسی لمحے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ کسی طرح میڈیا ’’کنٹرول‘‘ یا ’’مجبور‘‘ ہے؟ ایک نکتۂ نظر یہ بھی ہے جو میڈیا سے وابستہ تحقیق کاروں کے لیے بہترین موضوع بھی ہے کہ روایتی میڈیا شہروں اور دیہاتوں کی کوریج میں اتنا فرق کیوں رکھتا ہے؟ شہر میں وقوع پذیر چھوٹے واقعے پر گھنٹوں ’’بریکنگ نیوز‘‘ اور ٹاک شوز کا بھرمار جب کہ برعکس اس کے شہروں سے دور وقوع پذیر ہونے والے بڑے واقعات پر صرف معمولی یک سطری یا دو سطری ’’ٹِکر‘‘ یا خاموشی؟
میڈیا کی یہ سنسر شپ اگر خود ساختہ ہے، تو شرمناک بھی ہے کہ اس سے میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن اگر ایسا مجبوراً ہو رہا ہے، یعنی کہ میڈیا کو ’’مینج‘‘ یا ’’کنٹرول‘‘ کیا جا رہا ہے، تو اس حوالہ سے ریاستی اداروں اور حکومت کو سوچنا چاہیے کہ آج کے زمانے میں ’’سٹیزن جرنلزم‘‘ کا عروج ہے۔ آپ روایتی ٹی وی چینل یا اخبار کو تو کنٹرول کرسکتے ہیں، سوشل میڈیا کو ہرگز نہیں۔
مزید یہ کہ میڈیا کو ’’مینج‘‘ کرنے کا نتیجہ ہم سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ جب ڈھاکہ فال ہو رہا تھا، تو یہاں میڈیا کے ذریعے پیش قدمی کی خوش خبریاں سنائی جا رہی تھیں۔
قارئین، میرے خیال میں اب اس روش کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ عثمان خان کاکڑ کی رحلت کی خبر کو میڈیا میں بے شک ’’موت کے گھاٹ اتارا گیا۔‘‘ مگر اس واقعہ نے پورے بلوچستان میں خاص کر نوجوانوں کو جو فکر کا نیا زاویہ دیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے ’’یارانِ نکتہ داں‘‘ کے لیے۔ لہٰذا قبل اس کے کہ دیر ہو جائے، روشنی کا انتظام کیا جانا چاہیے، کہیں اندھیرا نہ ہوجائے!
……………………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے