94 total views, 2 views today

’’عوام کے ذریعے، عوام کے لیے عوام کی حکومت۔‘‘ اس تعریف کا ہمارے الیکشن سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ یہ نعرہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ سب سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار ملک و قوم کو بدلنے، سابقہ فرسودہ نظام سے جان چھڑانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے نعروں اور منشور کے ساتھ میدان میں اُترتے ہیں۔ پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آج تک روائتی سیاست ہی اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ آٹے میں نمک کے برابرنئے چہروں میں سے اکثر موروثیت یا کسی پارٹی کی چھاپ لیے ہوئے ہیں۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے کچھ نہیں کیا۔ حالاں کہ یہ کہنے والوں کی اکثر یت ایوانوں کا حصہ رہ چکی ہے۔ ایسے نایاب سیاست دان بھی موجود ہیں جو رات کو ایک پارٹی کے وزیر تھے، سورج طلوع ہوتے ہی وہ دوسری پارٹی پر قربان ہوگئے۔ منطق پیش کرتے کہ ان کے عوامی کام نہ ہونے پر پارٹی چھوڑ دی۔ کتنی مِزاحیہ بات ہے کہ پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹتے انہیں عوامی کاموں کا خیال نہیں آیا۔ کچھ ایک پارٹی کا ٹکٹ لے کر دوسری میں چلے جاتے۔
جہاں تک سیاسی پارٹیوں کا تعلق ہے، وہ بھی میرٹ کے بجائے لوٹا کریسی کے فارمولے پر عمل کرتی ہیں۔ آزادکشمیر میں گنتی کے سیاست دان ہیں، وہی پارٹیاں بدل بدل کر عوام کا استحصال کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ ایم سی نے پی پی کے ایم ایل ایز توڑے، پی پی نے ایم سی کے، ن لیگ نے پی پی اور ایم سی کے، اب پی ٹی آئی نے سبھی کے ایم ایل اے توڑ کر ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ اگر ’’لوٹا کریسی‘‘ ہی تبدیلی ہے، تو اللہ ہمیں ایسی تبدیلی سے محفوظ رکھے۔ اس بار تو آزادکشمیر کی تقریباً سبھی پارٹیوں نے ٹکٹوں کی تقسیم پر ’’یو ٹرن‘‘ کے ریکارڑ قائم کر دیے ہیں۔ سابقہ مقتدر سیاست دان تو آزمائے ہوئے ہیں، ان کا ہدف عوام نہیں ایوان ہے۔ پارٹی ٹکٹ اور بطورِ آزاد الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواران اس بات پر متفق ہیں کہ سابقہ ایم ایل ایے نے عوام کا استحصال کیا اور مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔ اب نئے چہروں کو موقعہ دیا جائے۔ پرانے سیاست دانوں نے اپنے لیے خطرہ سمجھے جانے والے نئے چہروں میں سے اکثر کو سیاسی داؤ پیچ کے ذریعے دنگل سے باہر پھینک دیا ہے۔
ضلع نیلم میں پیر مظہر سعید شاہ، ثمر سراج، مفتی منصور، قاضی اسرائیل، راجہ الیاس، صداقت شاہ، نصیر اعوان، میاں عبدالقدوس، نواز اعوان اور کئی دیگر کو سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے۔ ہوا ان کے ساتھ بہت اچھا ہے۔ کم از کم سیاست تو کرنی آئے گی۔ چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور آزاد امیدوار سابقہ سیاست دانوں کو پس ماندگی کی وجہ گردانتے ہیں اور سابقہ حکومتوں کو ناکام قرار دینے پر متفق ہیں۔ سب کا اتفاق ہے کہ سابقہ ایم ایل اے کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں۔ سب اس بات پر بھی بضد ہیں کہ ان کا ایک بڑا ووٹ بینک موجود ہے اور بلامبالغہ اکثر کا ہے بھی۔ ایسی کیا بات ہے سب نے ہلکی پھلکی موسیقی کے بعد چپ سادھ لی ہے۔ ان میں سے کچھ پارٹی ٹکٹ کی تبدیلی اور کچھ عدالتی فیصلے سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ کچھ نے ٹکٹ نہ ملنے پر روائتی احتجاج کے بعد چپ سادھ کر پارٹی میں ہی رہنے کو عافیت سمجھا اور کچھ نے پارٹی بدل لی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کا واقعی ووٹ بینک اور عوامی پذیرائی ہے، تو پھر یہ بطورِ آزاد امیدوار میدان میں اترنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ ان تمام افراد نے نئی نسل کو غلط راہ پر چلا نے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ پارٹی کے بغیر آپ نہ الیکشن لڑسکتے اور نہ جیت سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے نئی نسل کو سرمایہ دارانہ، جاگیر دارانہ اور موروثی نظام سے آزاد کرنے کے بجائے ان کے چرنوں میں بیٹھنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ ان کی فکرونظر میں سیاسی زندگی کا دارومدار پارٹی پر منحصر ہے۔ جو افراد پارٹیوں کے بغیر الیکشن نہیں لڑسکتے، وہ کشمیر کو خاک تبدیل کریں گے!
اس ضمن میں پیر مظہر سعید شاہ نے تمام امیدواران کو متفقہ امیدوار لانے کے لیے تین نِکاتی فارمولا دیا جس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پہلا نکتہ، سب بات چیت کے زریعے کسی ایک امیدوار پر اتفاق کرلیں اوروہ اپنی پارٹی چھوڑ کر بطورِ آزاد امیدوار الیکشن لڑے گا۔ دوسرا، سب اپنی جانب سے چند افراد کونامزد کریں، وہ جسے متفقہ طور پر منتخب کریں، اس پر اتفاق کرلیں۔ تیسرا، سب مل کر قرعہ اندازی کرلیں، جس کا نام نکلے اس کو سامنے لائیں۔
پیر مظہر سعید شاہ صاحب تو بری الذمہ ہوگئے۔ اب اہلِ نیلم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے نیلم کے بجائے مفادات کو ترجیح دی۔ ماضی میں بھی پیر مظہر سعید شاہ ’’نیلم عوامی محاذ‘‘ کے ذریعے عوامی مسائل اور نیلم کے حقوق کی جنگ لڑ چکے ہیں،جس کا سب ریکارڈ موجود ہے۔ دراصل یہ سب اقتدار کی جنگ ہے۔ ان کا محور و مرکز کبھی عوام تھے نہ ہیں اور نہ کبھی آگے ہوسکتے ہیں۔ ان کی سوچ پارٹی سے شروع ہو کر پارٹی ہی پر ختم ہوتی ہے۔ ان کو نیلم کی فکر نہیں انہیں اپنی پارٹی، اپنی شہرت ، اپنی باری، اپنے اقتدار ، اپنی ایڈجسٹمنٹ اوراپنے مفادات کی فکر ہے۔اگر یہ کشمیر اور نیلم کے اتنے ہی ہمدرد ہیں، تو سب مل کر سابقہ ایم ایل اے کے خلاف متحدہ و متفقہ امیدوار لاکر الیکشن کیوں نہیں لڑتے؟
اگر نیلم میں جیتنے کے لیے متوقع ووٹوں کا حساب لگائیں، تومتذکرہ بالا امیدوار دیگر امیدواران اورناراض ارکان کے ووٹ ملا کر بھاری اکثریت سے الیکشن جیت سکتے ہیں، مگر قربانی دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اتحاد نہ بنا کر ان سب نے ہارنا ہے۔ یہ سب اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں او ر میری نظر میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی سیاست کا مقصد کشمیر، نیلم یا وہاں کے عوام ہے۔ ان کا مقصد عوام نہیں ایوان ہے۔ جب مقصد ایک ہے، منزل ایک ہے، رقیب مشترکہ ہے، تو پھر ہچکچاہٹ کس بات کی؟ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ کیوں کہ ہر کوئی کشمیر اور نیلم پر اپنی پارٹی، اپنے نشان، اپنے مفادات اور اپنے اقتدار کو ترجیح دیتا ہے بلکہ ان کی ترجیح کشمیر کبھی تھا اور نہ اب ہی ہے۔
اگر ہم اپنے اذہان سے وابستگیوں، رشتہ داریوں، پارٹیوں اور مفادات کے پردے اٹھا کر دیکھیں، تو یہ سب بھی نیلم کے لیے اتنے ہی نقصان دہ ہیں جتنے سابقہ ایم ایل ایز رہ چکے ہیں۔ موسمی امیدواروں نے الیکشن کے نتائج آتے ہی اپنے ٹھکانوں اور آستانوں کی طرف اڑان بھر لینی ہے اور پھر اگلے الیکشن کے دوران میں محوِ پرواز ہوں گے۔ کچھ امیدوار شائد الیکشن نتائج کا انتظار بھی نہ کریں اورواپسی کی راہ لیں۔ ان میں سے اکثر نام کے ساتھ سابقہ امیدوار اسمبلی لکھوانے کے شوق والے ہیں جو کاغذاتِ نام زدگی سے ایک دو دن پہلے اعلان کر دیتے۔
تعجب کی بات یہ ہے اگر پی ٹی آئی اور ایم سی اتحاد کر سکتی ہیں، سپیکر اسمبلی 42000 ووٹ لے کر ایک حلقہ قربان کر سکتا ہے، حاجی گل خاندان، میاں شفیق جھاگوی اور سردار شفیق کمانڈر کو ٹکٹ مل سکتا ہے، میاں قدوس، پیر مظہر، مفتی منصور، قاضی اسرائیل، راجہ الیاس، صداقت شاہ اورثمر سراج کو سیاسی دوڑ سے باہر کیا جا سکتا ہے، تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جن افراد سے نیلم کے پڑھے لکھے طبقے کی امیدیں وابستہ ہیں اور انہوں نے یہ ڈراما بازی کرنی ہے، تو جناب! پھر ہمیں پہلے ٹھگ ہی منظور ہیں۔ نئے بہروپیوں کو کیا کرنا ہے؟ سابقہ کو کچھ حد تک تو سمجھ پائے ہیں۔ اگر یہ نئے مفاد پرست مسلط ہوگئے، تو دس سال انہیں سمجھنے میں لگ جائیں گے۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ الیکشن کے بعد بھی ہم مفاد پرستوں کو معافی نہیں دیں گے۔ کراچی ایکسپریس والے بھی ذہن نشین کرلیں سیرو تفریح کرنے اور چند رفاعی کام کرنے سے ووٹ نہیں ملتا۔ اگر نیلم پیار ا ہے، تو نیلم میں رہیں اور عوام کے ساتھ پانچھ سال گزار کر ٹکٹ کے لیے کسی پارٹی کی دم پکڑنے کے بجائے عوام سے ٹکٹ لے کر الیکشن لڑیں۔کچھ امیدوار ایسے بھی ہیں جو اپنے چند اچھے کاموں کی وجہ سے بننے والے ووٹوں کی بارگیننگ کرکے ذاتی مفادات لے کر چلتے بنتے۔ عوام ادھر ہی دھکے کھاتے رہتے ہیں۔ ووٹ کسی کا، موج کسی کی۔ ووٹروں کے بدلے خطبہ جمعہ یا رفاہی امداد میں سے کچھ حصہ ہی ملتا ہے۔ وہ اسے بھی بھاگتے چور کی لنگوٹی سمجھ کر غنیمت جان لیتے۔
………………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے