112 total views, 1 views today

ٍ’’کیا تعلیم یافتہ ہی تہذیب یافتہ ہوتے ہیں؟‘‘
قارئین، یہ آج کا سوال ہے۔ یہ سوال اہم اس لیے ہے کہ گذشتہ ہفتے 14 اور 15 جون کو پارلیمان میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم دیکھ چکی ہے۔ پارلیمان جہاں قانون سازی ہوتی ہے، وہاں کتابیں پھینکی جا رہی تھیں۔ بوتلیں اُڑان بھر رہی تھیں۔ گالیاں بکی جا رہی تھیں اور یہ سب کچھ براہِ راست (live) نشر ہورہا تھا۔ اس کا بھی کسی کو پچھتاوا ہے، نہ ندامت۔ شائد قوم کی قسمت میں یہ لکھا ہو یا اسی کو نصیب مان کر صبر کیا جائے؟
آئیں، ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ اس پارلیمان میں جہاں ایک ایک منٹ قوم کو لاکھوں میں پڑتا ہے، کتنے تعلیم یافتہ ہیں؟ اور اگر یہ تعلیم یافتہ، منتخب اور باشعور لوگوں کا حال ہے، تو اس تعلیم، شعور اور طریقۂ انتخاب پر بے شمار سوالات کھڑے ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
شروع کرتے ہیں وزیرِ اعظم پاکستان سے جو تعلیم یافتہ ہیں، برطانیہ کی مشہورِ زمانہ اکسفورڈ یونیورسٹی سے۔ ایک کامیاب کرکٹ کپتان بھی ہیں اور ملکوں ملکوں گھومے بھی ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر جہاں دیدہ ہیں۔
ان کے بعد باری آتی ہے وفاقی وزیر شفقت محمود کی جو ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔
اس طرح وفاقی وزیر شیریں مزاری امریکہ سے سند یافتہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔
وفاقی وزیر فواد چودھری وکیل اور اعلا تعلیمی یافتہ ہیں۔ نیز سیاسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔
وفاقی وزیر اور تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین گدی نشین پیر محترم شاہ محمود قریشی کیمبرج برطانیہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر مراد سعید پشاور یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر فخر امام برطانیہ جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار بھی برطانیہ سے سند یافتہ ہیں۔
اس طرح وفاقی وزیر حماد اظہر لیڈز یونیورسٹی برطانیہ جب کہ وفاقی وزیر اسد عمر ای بی اے کراچی سے تعلیم یافتہ ہیں۔
الغرض، ایک طویل فہرست ہے حکومتی وزرا، مشیروں اور ممبرانِ اسمبلی کی جو ڈاکٹر، انجینئر اور اندرون و بیرونِ ملک سے اعلا تعلیم یافتہ ہیں۔
اس طرح صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف جو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سند یافتہ ہیں۔ تین بار پنجاب کے وزیرِ اعلا رہے ہیں اور خود کو وزیرِ اعظم کا متبادل بھی خیال کرتے ہیں۔
احسن اقبال مسلم لیگ ن کے سابقہ وزیرِ منصوبہ بندی اور داخلہ ہیں۔ ’’امریکہ‘‘ سے پڑھے ہوئے ہیں۔
اس طرح محسن شاہنواز بیرسٹر اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔
شاہد خاقان عباسی سابقہ وزیرِاعظم پاکستان امریکہ کے لاس اینجلس یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں اسپیکر کو جوتا ماروں گا۔
مریم اورنگزیب پارٹی کی ترجمان، ممبر اسمبلی اور سابقہ وزیر ’’لندن‘‘ سے پڑھی ہوئی ہیں۔
پرویز ملک ممبر اسمبلی برطانیہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق، سابقہ وفاقی وزیر اور ممبر قومی اسمبلی، جامعۂ پنجاب سے پڑھے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف ممبر اسمبلی اور سابقہ وفاقی وزیر جامعۂ پنجاب سے پڑھے ہوئے ہیں۔
رانا تنویر حالیہ چیئرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی، سابقہ وفاقی وزیر، جامعۂ پنجاب سے پڑھے ہوئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ سابقہ صوبائی وزیر اور حالیہ ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ ساتھ ساتھ وکیل بھی ہیں۔
ان صاحبان کے علاوہ مسلم لیگ ن میں کتنے ہی ایسے ہیں جو کبھی سابقہ صوبائی یا وفاقی وزرا رہے ہیں اور اب ممبرانِ قومی اسمبلی ہیں اور اندرون و بیرونِ ملک کے اعلا تعلیمی اداروں سے ڈگری یافتہ ہیں۔
بلاول زرادی جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور ممبر قومی اسمبلی ہیں، وہ بھی اکسفورڈ برطانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
اس طرح پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سابقہ وزیرِ اعظم پاکستان ہیں اور آج کل ممبر قومی اسمبلی سندھ ہیں، یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں۔
نوید قمر ممبر قومی اسمبلی، امریکہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔
قادر پٹیل فیڈرل یونیورسٹی سے سند یافتہ ہیں۔
ان کے علاوہ شازیہ مری، ناز بلوچ، خورشید شاہ اور دیگر کتنے ہی ایسے ہیں جو ملکی و غیرملکی اعلا تعلیمی اداروں سے سند یافتہ ہیں اور آج کل ممبرانِ قومی اسمبلی ہیں۔
الغرض، پاکستان کی قومی اسمبلی میں بمشکل ہی چند ایسے ہوں گے جو بالکل غیر تعلیم یافتہ یا مذہبی اداروں سے پڑھے ہوں گے۔ ایسے میں گذشتہ ہفتے جو کچھ ہوا، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شعور اور تہذیب کا تعلیمِ نو سے کوئی سروکار نہیں؟ کیا قومی اسمبلی کے دنگل سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈگری یافتہ اور تعلیم یافتہ میں بہرحال فرق ہوتا ہے؟ یہ لازمی نہیں کہ ہر ڈگری یافتہ باشعور و تہذیب یافتہ بھی ہو؟
قوم کو سوچنا ہوگا کہ کیا اس طرح جمہوریت چلے گی اور یہی لوگ ملک و قوم کے فیصلے کریں گے؟ کیا خواتین کو گالیاں دینے والے ہی تحفظِ خواتین کے نعرے لگائیں گے اور ہم ایسے لوگوں کو سپورٹ کریں گے؟ کیا پارلیمان اسی طرح مچھلی بازار کی طرح دکھائی دے گا؟
…………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے