126 total views, 1 views today

کوئی بھی کھیل ہو، اس میں کسی ملک کے کھلاڑی فتح حاصل کرتے ہیں، تو اس ملک کے حکمران اور عوام اپنے ہیروز کا والہانہ استقبال کرتے ہیں۔
اگر ہم کرکٹ کو لے لیں اور پاکستان کی ٹیم کو، تو اس کو کرکٹ بورڈ بھاری تنخواہیں اور مراعات دیتا ہے۔ کسی بھی ملک میں ٹیم جاتی ہے، تو فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتی ہے اور کافی پیسے کماتی ہے۔ فارغ اوقات میں ٹیم کے ارکان کسی مشروب، سرف، صابن، شیمپو وغیرہ کے لیے ایک منٹ سے کم اشتہار میں کام کرکے کروڑوں روپے حاصل کرتے ہیں۔ فارسی کی اس کہاوت کے مصداق ’’ہُم خرما و ہُم ثواب‘‘ کھیلتے بھی ہیں اور کماتے بھی ہیں۔
اب آتے ہیں اصل ہیروز کی جانب جو دنیا کا سب سے خطرناک کھیل کھیلتے ہیں۔ علی سدپارہ مرحوم ہوں یا ان کے ساتھ لاپتا ہونے والے دو غیر ملکی کوہِ پیما، شہروز کاشف ہوں یا سر باز خان، عبداللہ جوشی ہوں یا ساجد سدپارہ، یہ ہمارے اصل ہیروز ہیں۔
قارئین، لاہور سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ شہروز کاشف نے اپنے والد سے بھاری رقم لے کر نیپال کا ویزہ لیا۔ والدین نے ائیرپورٹ پر اس گمنام ہیرو کو رخصت کیا۔ نیپال میں انہوں نے دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی ’’ماؤنٹ ایورسٹ‘‘ کو سردی میں سر کرنے کے لیے سامان خریدا، ٹیم کا انتخاب کیا، جو اُن کے ساتھ بیس کیمپ تک جانے والے تھے۔
شہروز کاشف نے ہمت کرکے سرد موسم میں دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی سر کی اور اس پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔ وہاں سے نیچے بھی اتنی ہی مشکل سے اترے۔ یوں انہوں نے مذکورہ چوٹی کو سر کرنے والے پہلے کم عمر پاکستانی کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔
اسی طرح عبداللہ جوشی نے بھی نیپال میں 8 ہزار میٹر بلند چوٹی ’’انا پورنا‘‘ سر کی۔ ان کے علاوہ اس سال سرباز خان نے تو کمال ہی کردیا۔ انہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا اور پھر آرام کیے بغیر ’’انا پورنا‘‘ پر چڑھنے کے لیے نکلے۔ یوں دونوں چوٹیوں کو سر کیا۔




ایس پی ایس کالج، عبداللہ جوشی، شہروز کاشف اور سرباز خان کے اعزاز میں تقریب کا منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

قارئین، علی سدپارہ اور ان کے دو غیر ملکی ساتھی ایسی موت مرے کہ نہ تو ان کی کسی نے میت دیکھی، نہ غسل اور نہ ان کی قبر کا کوئی نشان ہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے کچھ کوریج تو دی، اگر وہ یہ چوٹی سر کرتے اور زندہ واپس آجاتے، تو حسبِ روایت وہ بھی مذکورہ کوریج سے محروم رِہ جاتے۔
قارئین، اب آتے ہیں ایک بار پھر شہروز کاشف، عبداللہ جوشی اور سرباز خان کی جانب جنہوں نے اپنے خرچہ پر موت سے کھیلتے ہوئے نئے ریکارڈ بنا ڈالے اور پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔
ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ پاکستان کے علاوہ کسی ملک کے کوہِ پیما نے دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کیا، تو واپسی پر ائیرپورٹ پر اس ملک کے وزیر اعظم یا اہم حکومتی شخصیات نے ان کا استقبال بھی کیا، لیکن پاکستانی ہیروز کا واپسی پر استقبال ان کے والدین یا دوستوں ہی نے کیا، جس طرح کوئی پاکستانی غریب الوطن سعودی، دبئی یا دوسرے ممالک میں مزدوری کے بعد چھٹی پر وطن واپس آتا ہے۔
قارئین، چند روز قبل ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کی جانب سے ایک دعوت نامہ ملا۔ جس کی وجہ سے ہفتہ کے روز بائی پاس پر ایک نجی شادی ہال میں کورج کے لیے گیا۔ ہال کو بہت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ سٹیج پر بڑے بینر پر”Stand up for the Champions” لکھا ہوا تھا۔ ساتھ میں شہروز کاشف، عبداللہ جوشی اور سرباز خان کی تصاویر لگائی گئی تھیں۔ تمام مہمانوں کو مینگورہ کے ایک اچھے اور معیاری ہوٹل میں ٹھرایا گیا تھا۔ مہمانوں کو ہوٹل سے ہال تک ’’لیموزین گاڑی‘‘ میں لایا گیا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی وہاں موجود لوگوں نے کھڑے ہوکر اور تالیاں بجا کر اپنے قومی ہیروز کا استقبال کیا۔ ملک کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے بھی کوہِ پیماوں کو اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔
اس موقعہ پر ایک اچھے ٹریکر اور موجودہ صوبائی سیکرٹری اطلاعات ارشد خان اور اشرف امان جو پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے کے ٹو کی چوٹی سر کی تھی، بھی تقریب میں موجود تھے۔ میری ساتھ والی نشست پر مرحوم علی سدپارہ کے فرزندِ ارجمند ساجد سدپارہ بیٹے تھے۔
تقریب میں ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کے چیئرمین سید منور شاہ صاحب بھی ایک نشست پر براجمان تھے، اس پُروقار اور شان دار تقریب کے روحِ رواں تھے۔ وہ بہت خوش نظر آ رہے تھے۔
برادرم! ڈاکٹر عبدالہادی جو اس کلب کے جنرل سیکرٹری ہیں، نے ابتدائی کلمات سے تقریب کا آغاز کیا۔ تقریب بہت دلچسپ تھی۔ کیوں کہ تمام کوہِ پیماؤں نے اپنی تصاویر، ویڈیوز اور پریزنٹیشن پراجیکٹر پر دکھا کر لوگوں سے داد وصول کی اور ساتھ اپنے تجربات پر بھی روشنی ڈالی۔
تقریب میں علی سدپارہ اور ان کے غیر ملکی ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہال میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ کوہِ پیماؤں کو یادگاری شیلڈ اور اسناد دی گئیں اور سوات کے روایتی پکول اور چادر اور دیگر تحائف دیے۔ اس کے علاوہ تینوں کوہِ پیماؤں کو نقد رقم بھی بطورِ انعام دی گئی۔
مرحوم علی سدپارہ کا شیلڈ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ نے وصول کیا۔ دونوں غیرملکی کوہِ پیماؤں کے شیلڈ ایس پی ایس ٹریکنگ کلب نے وصول کیے جو بعد میں ان کے سفارت خانوں کے ذریعے ان کے گھروں تک پہنچائے جائیں گے۔
قارئین، تقریب کے دوران میں، مَیں اس بات پر بہت افسردہ تھا کہ ہماری حکومت نے ان ہیروز کو کیوں یاد نہیں کیا؟ لیکن پھر خود کلامی کے عالم میں بولا کہ حکومت، اپوزیشن اور دیگر ادارے جب ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے فارغ ہوں گے، تو پھر اس طرف ان کا خیال ہوگا، جو ناممکن سا لگتا ہے۔ میری ریڈنگ ہے کہ اس تقریب میں جتنی عزت کوہِ پیماؤں کو ملی، شائد ہی کسی سرکاری تقریب میں ان کو ملی ہو۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے