67 total views, 1 views today

اکثر لوگ کسی مخصوص پارٹی، شخص یا نظریے کے قائل ہوتے ہیں اور پوجنے کی حد تک اس سے عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کے مخالفین میں سے اگر کوئی ٹھیک کام بھی کرلے، تو ان کا ظرف ان کو اس کی تعریف و توصیف کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک ہے لیکن یہ اس پر اکتفا نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ باقی لوگ بھی ان ہی کی طرح کسی نہ کسی کو پوجتے ہوں گے۔ اس لیے اگر ایسوں کے سامنے کسی گروہ یا فرد کے کسی اچھے کام کی تعریف کی جائے، تو فوراً یہ نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں کہ ضرور یہ شخص اس کا قبلہ و کعبہ ہوگا، تبھی تو اس کی تعریف کر لی۔ حالاں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
حامد میر نے ریاست میں صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک پر تنقید کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کی بات نہیں مانی گئی، تو وہ ’’جنرل رانی‘‘ اور اس نوع کے دیگر کیس عوام کے سامنے رکھیں گے۔ بات ان کی ٹھیک تھی۔ صحافیوں پر واقعی ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس غیر جمہوری اور غیر انسانی برتاؤ کے خلاف کھڑا ہونا ضروری تھا۔ اسی طرح اگر ریاست کے انتہائی حساس اور اہم عہدوں پر فائز کچھ حضرات کالے کرتوتوں کا مرتکب ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں، تو عوام کو اس سے باخبر رکھنا بھی ایک صحافی کا فرض بنتا ہے۔
میر صاحب کو بطورِ ایک صحافی چپ نہیں رہنا چاہیے تھا اور نہ اب کوئی شرط لگانی چاہیے تھی بلکہ پہلے سے عوام کو بتا دینا چاہیے تھا کہ ریاست میں کیا کچھ ہوتا آیا ہے۔ ریاست کی سالمیت کے لیے ہر ادارے پر کڑی نظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی ادارہ تنقید سے ماورا نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ تنقید ہی کی بدولت اس میں موجود خامیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چند عناصر یا پالیسیوں کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ کو متزلزل ہونے دینا کہاں کی عقل مندی اور کہاں کی حب الوطنی ہے! کوئی بھی شہری جزا و سزا کے قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ مجرم کا تعلق کسی بھی ادارہ سے ہو، آئین کی نظر میں وہ مجرم ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ جرم کا کوئی دین و مذہب نہیں ہوتا۔ جرم جرم ہوتا ہے۔
مجھ سمیت ہزاروں لوگوں کو حامد میر کے اس مؤقف سے اتفاق تھا۔ ہم نے ان کو سراہا اور جس حد تک ممکن تھا، ان کو سپورٹ کیا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم نے ان کو اپنا امام بنایا ہے اور اب جو کچھ وہ کہیں گے، ہم ان کا ساتھ دیں گے۔
پرسوں "RIUJ” کی طرف سے ایک وضاحتی بیان جاری ہوا تھا جس میں میر صاحب نے اپنی تقریر کی وجہ سے پیدا ہونے والے غلط تاثر پر معذرت کی تھی اور فوج سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ ساتھ ساتھ اپنے مطالبہ کو دہراتے ہوئے عرض کیا تھا کہ صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو رکوایا جائے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کے سلسلے میں مناسب قانون سازی کی جائے۔ اگر چہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میر صاحب نے وضاحت کی ہے کہ یہ بیان صرف صحافتی تنظیم کے مطالبے پر اُن کے حق میں عدالتی کارروائی کے لیے دیا تھا اور یہ کہ وہ اپنے مطالبے پر قائم ہیں، لیکن پھر بھی ان کا اس انداز میں معافی مانگنا غیر ضروری تھا۔ ریاست کے ہر شہری کو بحیثیتِ مجموعی فوج سے محبت ہوتی ہے اور غلط تأثر کا قائم ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس پر معذرت کرنے کی ضرورت ہو۔ خاص طور پر جب اس قسم کا تأثر پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر منظم تشہیر و تبلیغ کا ہونا عرصے سے ایک رواج رہا ہو اور جس کے ذریعے ماضی میں مادرِ ملت ’’فاطمہ جناح‘‘ کو بھی غدار ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہو۔
اب جب سے میر صاحب کا دستخط شدہ وضاحتی بیان سامنے آیا ہے، تو کچھ لوگوں سے انتہائی بے ہودہ قسم کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ مثلاً ایک شخص جو خود کو صحافی کہتا ہے، نے کہا کہ ’’جنہوں نے حامد میر کو ابو بنایا تھا…… وہ اب کہاں جائیں گے!‘‘ ایک اور صاحب نے پوچھا کہ ’’کدھر ہیں وہ لنڈے کے انقلابی؟‘‘ ایسوں کو بتاتا چلوں کہ انقلابی ہونا فخر کی بات ہے اور جہاں تک حامد میر کی بات ہے، تو ہم آپ لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو مخصوص اشخاص، اداروں یا پارٹیوں کو پوجیں گے۔ ہمیں کسی کی بات ٹھیک لگتی ہے، تو تعریف کرلیتے ہیں، بری لگتی ہے، تو تنقید کرلیتے ہیں۔ سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تعصب کی عینک لگا کر کسی کی مدح سرائی میں حد سے گزر جانا اور کسی کے حق میں صرف تنقیص کی بوچھاڑ کرنا ہمارا شیوہ نہیں۔
حامد میر نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے ساتھ دیا۔ ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ آگے جا کر اب اگر وہ کوئی غیر ضروری، بزدلانہ اور غلط کام کر بیٹھتا ہے، تو وہ اس کی اپنی ذات تک محدود ہے۔ اس کی غلط بات پر تنقید کریں گے اور ٹھیک کام کی تعریف کریں گے۔ آپ حضرات پریشان نہ ہوں، ہم ادھر ہی موجود ہیں۔ بالکل آپ کے سامنے۔ ہم نے کہیں نہیں جانا! جاتے جاتے احمد فرازؔ کی نظم کا اک ٹکڑا نذرِ قارئین کرتا چلوں……!
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ
اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا!
……………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے