50 total views, 2 views today

"statista.com” کے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے آغاز یعنی پہلے مہینے جنوری تک سوشل میڈیا کی صارفین کی تعداد 4.1 بلین تھی۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگلے چار سال میں یعنی 2025ء تک سوشل میڈیا کی صارفین کی تعداد 4.41 بلین ہوجائے گی جو کہ اُس وقت دنیا کی نصف آبادی ہوگی۔ صرف امریکہ میں 90 فیصد سوشل میڈیا کے صارفین ایسے ہیں جن کی عمر 18تا 30 سال کے درمیان ہے۔
قارئین، سوشل میڈیا کا استعمال اور ضرورت دونوں دن بدن زیادہ اور اہم ہوتی جا رہی ہے۔ بات چاہے سماجی روابط کے لیے استعمال کی جانی والی ایپ وٹس ایپ کی ہو، یا فیس بک کی…… ہر کوئی اس کے استعمال کی حد تک لپیٹ میں آچکا ہے ۔ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور استعمال کے وجہ سے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ نفسیات سے لے کر سماجی زندگی تک، ہر پہلو کو متاثر کرنے والے سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال اب تک کئی قیمتی جانیں بھی لے چکا ہے۔
برسبیلِ تذکرہ، ابھی پچھلے ہفتے سماجی رابفہ کے لیے دنیا بھر میں مشہور ایپ ’’فیس بک‘‘ پر ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں 19سالہ نوجوان حمید اللہ جس کا تعلق سوات کی تحصیل کبل سے تھا، نے ٹک ٹاک کی ایک ویڈیو شوٹ کے دوران میں اپنی جان لے لی۔ اس دردناک واقعہ کے بعد جہاں اس پر افسوس کیا جا رہا تھا تو ساتھ ہی یہ موضوع زیرِ بحث تھی کہ حمیداللہ کی موت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔ کوئی اس کے دوستوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا، تو کوئی والدین کو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں کے ساتھ ساتھ حمیداللہ کی موت کا ذمہ دار اس کا اپنا وہ موبائل فون بھی ہے جو موت کے آخری لمحوں میں اس کے دوست کے ہاتھ میں تھا۔
اس واقعہ کے بعد اب والدین کو ایک بار پھر سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں قیمتی موبائل پکڑا کر کہیں وہ غیر دانستہ طور پر اُن کی زندگی کا سودا تو نہیں کر رہے ہیں؟ کیا والدین کو اس بات غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان کے بچے جو اَب نوجوان ہیں اور ان کا کام اس وقت پڑھائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، کس طرح اپنا قیمتی وقت موبائل کے بے جا استعمال پر ضائع کر رہے ہیں؟ موبائل اور سوشل میڈیا کا صحیح استعمال ہر لحاظ سے وقت کی ضرورت بن چکا ہے لیکن اگر ضرورت سے ہٹ کر اس کا استعمال ایک طرح سے معمول بن جائے، تو اگلے لمحے ایک اور گھر کا ’’حمیداللہ‘‘ اپنا قیمتی جان گوا بیٹھے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ مختلف ’’سیمینار‘‘ اور ’’ویب نار‘‘ کے ذریعے طلبہ و طالبات کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں۔
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے