34 total views, 1 views today

کہانی فرضی ہوسکتی بھی ہوسکتی ہے اور حقیقی بھی۔ سوشل میڈیا کے ایک ایکٹیوسٹ نے جس کے فالوورز لاکھوں میں تھے، ایک دن اپنے مرنے کی خبر پھیلا دی۔ سوچا تھا آدھے سے بھی کم لوگ اگر آگئے، تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔ آخری رسومات کے لیے وقت کا تعین کردیا گیا، لیکن شرکت صرف اس انسان نے کی جس نے اُسے جنم دیا تھا یعنی اس کی ماں……!
وہ حیران تو تھا ہی، ہکا بکا بھی رہ گیا۔ سوچا جس نے ہمیشہ دل و جان سے چاہا، اس کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی۔ آج کے بعد میری ماں ہی میرے لیے کافی ہے۔ یہی ایک فالوور مصنوعی لاکھوں فالوورز سے ہزار درجہ بہتر ہے۔
قارئین، بل گیٹس سے کسی نے پوچھا، آپ کے تین بچے ہیں اور تینوں کے بارے میں یہ خبر عام ہے کہ ان پر آپ کی طرف سے موبائل استعمال کی پابندی ہے۔ بل گیٹس نے جواب دیا، سن بلوغت تک تو مکمل پابندی ہے اور اس کے بعد بھی مخصوص اوقات کے بعد وہ ہر وقت موبائل استعمال نہیں کرسکیں گے۔
اس طرح سٹیو جابز بھی اپنے بچوں کے اس استعمال کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ سننے میں تو یہ بھی آرہا ہے کہ ’’فیس بک‘‘ کے بانی ’’مارک زکر برگ‘‘ بھی اپنے گھر میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہار کو ڈھیلا بالکل نہیں چھوڑتے۔
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں دنیا حقیقت میں گلوبل ویلج بن چکی ہے اور سوشل میڈیا پر ’’فین فالوونگ‘‘ اور ’’ویور شپ‘‘ کے مقابلے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آرہی ہے۔
سال 1983ء میں انٹرنیٹ دنیا میں آیا اور اس کے صرف سات سال بعد ’’ورلڈ وائڈ ویب‘‘ نے دنیا میں اپنے قدممیں جمائے ۔ ترقی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ صرف دس سال بعد دنیا کی پوری کایا ہی پلٹ چکی تھی۔ ایسے میں ہر انسان کی ترجیحات اور ذمہ داریاں یوں اچانک بدل گئیں کہ وقت ہی نہیں ملا منصوبہ بندی کا۔ آپ ترقی کی اس شدت کا اندازہ اگر لگانا چاہتے ہیں، تو چائینہ کی متعارف کی گئی ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ ہی کو دیکھ لیجیے۔ اگر آپ ٹک ٹاک سے نابلد ہیں، تو اپنے گھر میں یا آس پاس کسی 18 سال سے کم بچے کے ساتھ چند لمحے گزارئیے، وہ آپ کو تفصیل سے سمجھا دے گا کہ ’’ٹک ٹاک‘‘ کیا ہے؟
دنیا کے 100 سے زائد ملکوں میں ’’ٹک ٹاک‘‘ کا استعمال عروج پر ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 800 ملین سے زیادہ اس کے صارف ہیں۔ چین کی ایک کمپنی ’’بائٹ ڈانس‘‘ نے جب اس ایپ کو لانچ کیا، تو صرف ایک سال بعد اس نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور اس کمپنی کے چیف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا شمار چین کے دس امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا ہے۔
قارئین، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ’’ٹک ٹاک‘‘ کے سب سے زیادہ صارف مسلمان دنیا میں ہیں اور ان صارفین میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
یہ کالم لکھنے سے پہلے میں ’’ٹک ٹاک‘‘ کے بہت سے صارفین سے ملا۔ ان کا جنون دیدنی تھا۔ ان میں زیادہ تر کی عمر 25 سال سے کم تھی۔ مَیں نے جب ان سے پوچھا کہ اس کے استعمال کا صحیح وقت کیا ہے؟ تو مجھے جواب ملا: ’’جب بھی آپ کی آنکھیں کھلی ہوں۔ آپ کو اس کا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘
نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے فحش جملوں کا تبادلہ پندرہ سیکنڈز کی ویڈیو میں کیا تباہی لاسکتا ہے؟ اس کا اندازہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا۔ 65 فی صد نوجوانوں کو کتنی آسانی سے ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے۔ آپ کسی دن ’’ٹک ٹاک‘‘ کا کوئی بھی اکاؤنٹ کھول کر دیکھ لیجیے۔ آپ کو نیم برہنہ ناچتی خواتین اور ان کے بوسے لیتے نوجوان نظر آئیں گے۔ ’’جب تک آنکھ کھلی ہو، ’’ٹک ٹاک‘‘ کا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ عجیب لگا مجھے یہ سن کر کہ مغرب کتنی آسانی سے ہمارے اقدار کو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے۔
ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان فتنوں کی نشان دہی آج سے چودہ صدی پہلے کی ہے، لیکن سمجھ بوجھ اور دین سے بے زار لوگ بس زندگی کو انجوائے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ اگر والد ہیں، تو کسی دن اپنے بچے کا موبائل کھول کر دیکھنے کی زحمت کیجیے کہ ’’ٹک ٹاک‘‘ اور ’’پَب جی‘‘ جیسے فتنے آپ کے بچوں کے معصوم ذہن پر کیا اثرات ڈال رہے ہیں ؟
آپ اگر استاد ہیں، تو کسی دن کلاس میں ٹیکنالوجی کے اس استعمال پر روشنی ڈالنے کی ہمت کیجیے۔ آپ کو لگ پتا جائے گا کہ آپ کے شاگرد آپ کو بالکل سن ہی نہیں سکتے۔ کیوں کہ ان کے ذہنوں پر زندگی سے لطف اٹھانے کا جو جنون سوار ہے، وہ آپ کے نقطۂ نظر کو سننے کے متحمل ہی نہیں ہیں۔ آپ اگر "Mentor” ہیں، تو ایک دن ہمت کرکے اپنے کسی "mentee” پر کوشش کرکے دیکھ لیجیے۔ آپ ہکا بکا رہ جائیں گے کہ آپ کی برسوں کی محنت پر لمحوں کے اندر پانی پھیرا جا چکا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ مغرب خود بہت کم ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ ہمارے مذہب کو نشانہ تلوار سے شاز و نادر ہی بنایا گیا۔ ہمیشہ فتنوں نے ہمارے نوجوانوں اور مذہب کو نشانہ بنایا ہے اور انہی فتنوں میں ایک ’’ٹک ٹاک‘‘ ہی ہے۔
قارئین، ہم بہت آسانی کے ساتھ ان چیزوں سے اپنے نوجوانوں کو بچاسکتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہم نے کوزے میں بند کیا ہوا ہے۔ ہمارے نوجوان سوشل میڈیائی پلیٹ فارمز اور ان نئی ’’ایپس‘‘ ہی کو سائنس کی حیران کن ایجادات سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ المیہ مسلمان نوجوانوں کا ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اگر ان نوجوانوں کو زندگی میں مقصد دے دیں اور پھر ایک استاد بن کر، راہنما بن کر اور "mentor” بن کر ان کو ان کا مقصد اور اس کا حصول آسان بنانے کی کاوش کریں،تو آپ یقین کیجیے یہ کبھی بے راہ روی کی طرف نہیں جائیں گے۔
اس طرح ہمارے نوجوانوں کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کو اپنی تاریخ کا کچھ بھی پتا نہیں۔ آپ کسی دن استاد بن کر ان کو اپنی تاریخ اور عظمتِ رفتہ کی یاد دلائیے۔ پھر ان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوجائے گا کہ کون، کیسے ہمارے اوپر کام کر رہا ہے!
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہمارے والدین، اساتذہ اور راہنماؤں کے پاس حقیقت میں وقت ہی نہیں کہ اپنے بچوں اور شاگردوں پر تھوڑی سی توجہ دیں۔ اگر والدین ٹھیک ہیں، یا اگر اساتذہ اپنا کام ٹھیک کر رہے ہیں، تو پھر کیوں میلوں دور بیٹھا ایک شخص یا کوئی کمپنی ہمارے بچوں کی بے راہ روی میں کردار ادا کر رہی ہے؟
جس طرح ’’بل گیٹس‘‘، ’’سٹیو جابز‘‘ اور ’’مارک زکر برگ‘‘ کے بچے شتر بے مہار کی طرح زندگی بسر نہیں کرسکتے، تو ہمارے بچے کیوں بسرکریں؟ آپ آج سے بھائی، دوست، والد، استاد اور "mentor” بن کر اپنا کام شروع کیجیے۔ اِن شاء اللہ، وہ دن دور نہیں جب فتنے ہمارے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دم توڑیں گے۔
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
…………………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے