37 total views, 1 views today

راولپنڈی اسلام آباد رنگ روڈ کے حوالے سے آخر خدا خدا کر کے بات اعلا ایوانوں تک پہنچ گئی۔ اس پر جب وزیراعظم نے ایکشن لیا، تو ہوش رُبا انکشافات کا ایک سمندر برآمد ہوگیا۔
راقم الحروف چوں کہ رنگ روڈ کے متاثرین کی کمیٹی کا بانی رکن ہے اور اس سلسلے میں راقم کو حلقہ کے پٹواریوں سے لے کر وزیراعظم ہاؤس کی شکایت سیل تک جانے کا موقعہ ملا اور بار بار ملا۔ اس وجہ سے راقم کو بہت سے معمولات کا اندازہ تو تھا، لیکن باقاعدگی اور کرپشن اس لیول پر ہوگی؟ اس کا راقم کو شاید خیال تک بھی نہ تھا۔
رنگ روڈ کے متاثرین واسطے بہرحال یہاں تک تو بات قابلِ اطمینان ہے کہ اس پر وزیراعظم کی سطح پر نوٹ کیا گیا اور براہِ راست ایکشن وزیراعظم آفس سے لیا گیا اور اس منصوبہ کو عارضی طور پر روک دیا گیا، لیکن بعد کی پیش رفت شاید عوامی توقعات کے مطابق بالکل نہیں ہوئی۔ کیوں کہ اس پر جو تحقیقی کمیٹی بنی، وہ انہیں افسران پر مشتمل تھی کہ جو کسی نہ کسی سطح پر اس کے بالواسطہ یا بلاواسطہ ذمہ دار تھے، یعنی پنڈی کے نئے کمیشنر نے اپنی قیادت میں پنڈی کے ڈپٹی کمیشنر اور اسسٹنٹ کمیشنر پر مشتمل کمیٹی بنا دی۔ اب اس کمیٹی میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا، جب ڈپٹی کمیشنر اور اے سی نے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا کہ جو موجودہ کمیشنر صاحب نے بنائی اور اس میں سارا ملبہ سابقہ کمیشنر کیپٹن محمد محمود پر ڈال دیا گیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ڈی سی راولپنڈی اور اے سی صدر کا یہ مؤقف تو جان دار تھا کہ آپ سابقہ کمیشنر کو سنے بغیر کس طرح تمام تر ذمہ داری ان پر ڈال کر فائل بند کرسکتے ہیں۔ مذکورہ دونوں افسران کی اس جرأت پر ان کو ایس ڈی او بنا کر فارغ کر دیا گیا، بلکہ ان کو بھی ایک حد تک ذمہ دار بنا دیا گیا۔
اب اگر بالفرض بحث واسطے یہ بات مان لی جائے کہ اس تمام کرپشن اور بے قاعدگی کے ذمہ دار کچھ سرکاری افسر ہیں، پھر ان کو ایس ڈی او کیوں بنایا گیا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان پر پرچہ کٹتا اور سب کوجیل یاترا کروائی جاتی۔ دراصل حقیقت شاید وہ نہیں جو بتائی جا رہی ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ بہت صفائی سے وزیراعظم کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور اس تحقیق کی آڑ میں کچھ حکومتی اربابِ اختیار کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ یہ بات تو ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ اس طرح اربوں کی کرپشن کرنا اور وہ بھی ایک کلی عوامی پروجیکٹ میں، ان افسران واسطے ناممکن ہے نہ ان کی اتنی اوقات…… بلکہ اس کے پیچھے وہ طاقتور مافیا اور بااختیار عناصر ہیں کہ جن کی جھولی میں انتظامی افسران تو ہیں ہی بلکہ بڑے بڑے سیاسی راہنما بھی ہیں۔ یہ تحقیقی کمیٹی محض ان کو تحفظ فراہم کرنے واسطے بنائی گئی، تاکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اصل حقائق کو چھپایا جائے۔
سو جنابِ وزیر اعظم! آپ سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ یہ چند سرکاری افسران پر مشتمل کمیٹی کی شکل میں ڈراما کرنے کے بجائے ایک بڑی سطح کا عدالتی کمیشن جو کم از کم ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس ججوں پر مشتمل ہو، بنایا جائے اور جس کو یہ مکمل اختیار دیا جائے کہ وہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، وزیرِ اعلا پنجاب سے لے کر آرڈی اے کے لینڈ کلکٹر سے ہوتے ہوئے علاقہ کے پٹواریوں تک باقاعدہ سمن کر کے طلب کرسکے اور پھر اس کمیشن کی فائنڈگ کی روشنی میں یہ کیس براہِ راست ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے کہ جس کے اوپر بالکل پانامہ طرز پر عدالتی چیک رکھا جائے۔ تب اس کے اصل مجرمین کو بے نقاب کر کے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اس کے علاوہ چوں کہ راقم رنگ روڈ ایکشن کمیٹی کا بانی ممبر بھی ہے، سو اس حوالے سے میڈیا کے مختلف عناصر سماجی کارکنان بہت سے عوامی نمائندوں، سرکاری افسران اور عام عوام سے بیشمار رابطہ رہا ہے، تو راقم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس میں سرکاری افسران کو استعمال تو کیا گیا، لیکن بذاتِ خود اس میں سرکاری افسران اپنے طور پر ملوث نہیں بلکہ اعلا حکومتی ارکان اور با اثر افراد مستفید ہو رہے تھے۔ اس مسئلہ پر جب ہم نے ایک پریس کانفرنس کی، تو وہاں میڈیا نے یہ سوال کیا کہ بااثر افراد سے مراد کیا اعلا حکومتی سیاسی عہدیداران ہیں؟ تو میں نے ان کو بتایا تھا کہ بااثر افراد کسی حکومت اے یا بی کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ کوئی بھی حکومت ہو، اس کے ذمہ داروں کی ڈور ان کے ہاتھ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات کو بھی مدِنظر رکھا جائے کہ کچھ حکومتی ذمہ داران کمال ہوشیاری سے یہ کہتے ہیں کہ جی ہماری تو کوئی زمین یا ہاؤسنگ سوسائٹی اس میں ہے ہی نہیں۔
یہ بات کسی حد تک صحیح بھی ہوسکتی ہے، لیکن ان سے یہ بھی تفتیش کی جائے کہ ان کے الیکشن پر کون سا سرمایہ دار کتنا پیسا لگاتا ہے؟ پھر ان کے بچوں کی گاڑیاں اور ان کی بیگمات کو زیورات و تحائف کون دیتا ہے؟ تو سب تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس تو ہے نہیں۔
اس کے علاوہ رنگ روڈ کے متاثرین کی جو ایکشن کمیٹی ہے، وہاں پر اور عام عوام کی طرف سے اس خدشہ کا بھی اظہار ہو رہا ہے کہ یہ جو تحقیقاتی کمیٹی تھی یہ محض لیپا پوتی ہے۔ کیوں کہ اگر بالفرض اس کے نتیجہ میں واقعی اصل مجرموں کو بے نقاب کر دیا جاتا ہے، ان کو سزا بھی مل جاتی ہے لیکن اس کا نقشہ اور زمین کی قیمتیں وہی رہتی ہیں۔ عوام کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دی جاتی، تو مطلب یہ سب ڈراما ہوا۔
سو وزیراعظم صاحب، عوام سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اب نئے سرے اس کا سروے کروائیں اور عوام کے تحفظات اور مطالبات کے مطابق اس پروجیکٹ کو نئے سرے سے لانچ کیا جائے۔ کیوں کہ ایک اور افواہ بھی مارکیٹ میں چل رہی ہے کہ چوں کہ حکومت کی معاشی حالت بہت خراب ہے، سو اس وجہ سے اس پروجیکٹ کو شروع کرنا حکومت کے بس کی بات ہی نہیں۔ حکومت نے مذکورہ سکینڈل کو بطورِ بہانہ استعمال کیا اور اس سے جان چھڑا لی۔ اگر اس بات میں ذرا بھی صداقت ہے، تو یہ حکومت کا بہت بڑا جرم تصور ہوگا کہ آپ نے اس پر کڑوروں روپیہ خرچ کیا۔ اس کی بے تحاشا اشتہار بازی کی اور اب اس کو یکسر ختم کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے، اس سے عوام میں یہ بھی غلط فہمی پیدا ہونا بالکل فطری ہے جب کہ عام عوام میں یہ افواہ باقاعدہ پھیلائی جا رہی ہے کہ اب رنگ روڈ منصوبہ ختم ہی سمجھا جائے۔ سو اس بارے میں بھی عوام کو جلد از جلد آگاہ کیا جائے کہ کیا واقعی یہ عظیم فلاحی منصوبہ اس سازش کا شکار ہو چکا ہے اور حکومتی سطح پر اس کو کلی یا جزوی طور پر ختم کر دیا گیا ہے؟ اور اگر یہ منصوبہ اسی طرح باقی ہے، تو ان عناصر کی بیخ کنی کی جائے جو عوام میں یہ افواہ پھیلا رہے ہیں۔ اگر ایسی کوئی بات ہے، تو تب بھی عوام کو اس کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے کہ وہ کیا وجہ تھی کہ اس کو ختم ختم کر دیا گیا ہے؟ کیوں کہ بظاہر تو اگر یہ سازش بے نقاب ہوچکی مطلب اس پروجیکٹ میں کرپشن کے حوالے سے، تو پھر تو اس کو فوراً اور نئی ترجیحات کو لے کر بہتر انداز میں شروع کیا جائے۔ کیوں کہ اب تو حکومت اس میں ہونے والی غلطیوں اور زیادتیوں سے آگاہ ہوچکی ہے۔ اگر خدانخواستہ اس منصوبہ کو ختم کیا گیا، تو یہ نہ صرف غلط اور عوامی مایوسی کا باعث ہوگا بلکہ یہ حکومت واسطے سیاسی طور پر بھی بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
پہلے ہی سے حکومت کا عوام میں تاثر بہت منفی ہے کہ جس کا مظاہرہ گذشتہ چند ماہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کی صورت میں حکومت بھگت چکی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ جہاں سے یہ رنگ روڈ نکل رہی ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ پنجاب اسمبلی کی نشست دس سے ہے۔ ممکنہ طور پر یہاں سے چوں کہ چوہدری نثار جیتے تھے اور انہوں نے حلف نہیں اٹھایا ہے۔ نئے قانون کے تحت یہاں دوبارہ الیکشن ہو رہا ہے، تو حکومت جو ویسے ہی غیر مقبول ہے، وہ کیسے ان حالات میں عوام کا سامنا کرے گی؟
قارئین، یہ تحریر یہاں تک لکھی گئی، تو معلوم ہوا کہ اس مضحکہ خیز کمیٹی کی رپورٹ کو وزیرِاعلا کو پیش بھی کر دیا گیا ہے، جو کسی بھی سطح پر قابلِ قبول نہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور زیادہ اہم یہ کہ دوبارہ منصوبہ عوام کی رائے سے بنایا جائے۔ وگرنہ دوسری صورت میں ایک بحران مزید پیدا ہو سکتا ہے۔
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے