121 total views, 1 views today

کسی بھی ملک میں اور خصوصاً آج کے دور میں میڈیا ایک بہت ہی مؤثر ہتھیار ہے۔ میڈیا کی وجہ سے نہ صرف معیشت میں مثبت پیش رفت آتی ہے، کیوں کہ اس سے لاکھوں لوگ کا روزگار وابستہ ہے بلکہ یہ پیسے کی سرکولیشن کا ایک اہم طریقہ ہے۔ حتی کہ زرِ مبادلہ کمانے کا اہم جز بن سکتا ہے۔ میڈیا میں سے نہایت ہی ایک مؤثر ادارہ شوبزنس کی دنیا سے وابستہ ہے، جس میں فیشن شو سے لے کر فیچر فلموں تک سب شامل ہیں۔ میڈیا کی طاقت سے ذہن سازی باآسانی کی جاسکتی ہے۔
امریکہ میں ٹی چینل کے بعد یہودی لابی سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہالی وڈ میں کرتی ہے۔ آپ اگر بغور جائزہ لیں، تو آپ کو ہالی وڈ کی خصوصاً ایکشن جاسوسی فلمیں ایک خاص ایجنڈا پر مبنی ملیں گی۔ مثلاً ریمبو سیریز اور جیمز بانڈ سیریز کی فلمیں، بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان فلموں کی کہانیاں عمومی طور سچی کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں جو کہ سی آئی اے ایجنٹ خود ہالی وڈ کے فلم سازوں کو دیتے ہیں۔
80ء کی دہائی میں جیمز بانڈ سیریز کی ایک سپر بلاسٹر فلم "A view to a kill” نمائش واسطے پیش ہوئی تھی۔ اس بارے میرے ایک دوست نے تب مجھے بتایا تھا کہ اس میں ڈائریکٹر جیمز بانڈ کے مرکزی کردار واسطے تب کے پرانے جیمز بانڈ یعنی ’’راجر مور‘‘ کی جگہ ایک نیا چہرہ لانا چاہتا تھا لیکن اس کے سکرپٹ رائیٹر نے اس کو بتایا کہ جس سی آئی اے کے ایجنٹ کی یہ کہانی ہے، اس نے واضح بتا دیا ہے کہ اگر راجر مور نہ ہوگا، تو وہ کہانی نہیں دے گا۔
قارئین، بات ذرا دوسری طرف نکل گئی۔ میرا کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ شوبز ایک نہایت ہی معاشی و فکری طور پر مؤثر ادارہ ہے، سو اسی وجہ سے دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام اس کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اس کا نہ صرف تحفظ کرتی ہیں بلکہ اس کی ترقی و تدوین واسطے بہت سنجیدہ کام بھی کرتی ہیں۔
ماضیِ قریب میں اسی ادارہ کی مقبولیت کی وجہ سے سونیا گاندھی نے فخریہ کہا تھا کہ بالی وڈ کی وجہ سے ہم نے پاکستان پر بہت شدید ثقافتی اثرات ڈالے ہیں، لیکن ایک ہم ہیں کہ باقی شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی دن بدن پیچھے ہی گئے۔ ایک وقت تھا جب لالی وڈ بہت کم وسائل، مخصوص مذہبی سوچ اور ثقافتی اقدار کے باجود بھی بالی وڈ کے متوازی تھا۔ 60ء اور 70ء کے عشرے میں ہماری فلم انڈسٹری بھارت کے مدمقابل چل رہی تھی۔ پاکستانی ہدایت کار اور اداکار بالی وڈ جتنے ہی مقبول تھے، لیکن پھر سیاسی فضا میں ایک سیاہی نمودار ہوئی اور ایک آمر کو اپنے تحفظ واسطے اسلام کا مقدس نام استعمال کرنا پڑا۔ دوسرے شعبہ جات کی طرح شوبز میں بھی اسلامائیزشن شروع ہوئی۔ تب کے مقبول ہدایت کار و فلم ساز نذرالسلام عرف دادا نے یہ اسی وقت کہا تھا کہ اب انڈسٹری تباہ ہوجائے گی۔ کیوں کہ تب فحاشی و عریانی کے حوالے سے ہی سنسر بورڈ کو سخت نہ کیا گیا بلکہ کہانی، پلاٹ، سکرپٹ، گانے حتی کہ لوکیشن تک واسطے ہدایات ضیاء الحق کے اسلامی فکری گروہ کی طرف سے اجازت سے مشروط کر دی گئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے سٹیج اور ٹی وی ڈراما کی طرف بہرحال توجہ دی اور 60ء اور 70ء کے عشروں میں اگر سنتوش، سدھیر، ندیم، محمد علی، وحید مراد، شاہد، سلطان راہی، بدرِ منیر، مصطفی قریشی، شیم آرا، زیبا، شبنم اور بابرہ شریف بالی وڈ کے برابر مقبول تھے، تو اب عظمیٰ گیلانی، خالدہ ریاست، شکیلہ قریشی، قوی خان، فردوس جمال، منصور بلوچ اور عرفان کھوسٹ وغیرہ آگئے۔
دوسری طرف سٹیج کی دنیا سے امان ﷲ۔ سہیل احمد، عمر شریف، معین اختر وغیرہ بالی وڈ سٹارز سے زیادہ مقبول ہوتے گئے۔ جو کہ اب تک کسی نہ کسی صورت رہے، لیکن سوشل میڈیا خاص کر ’’یو ٹیوب‘‘ اور ’’ٹک ٹاک‘‘ کی آمد نے اس پر دنیا بھر میں اثرات تو ڈالے اور پاکستان کی ڈراما انڈسٹری اس سے براہِ راست متاثر ہوئی، لیکن بجائے دوسری دنیا کی طرح اس کو بحال کرنے کی سعی کی جاتی، مقبول ہدایت کاروں کو بلا کر سہولیات دی جاتیں، ہم نے محض سرکاری ٹی وی کو آکسیجن دینے واسطے ایک عجیب و غریب تماشا شروع کیا۔ دوست ملک ترکی سے دو تاریخی ڈرامے امپورٹ کیے کہ جن کو دیکھنے کی ترغیب جناب وزیر اعظم خود دے رہے ہیں۔ خاص کر ’’ارطغرل غازی‘‘ کو حکومتی سرپرستی نے مقبولیت کی معراج پر پہنچا دیا۔
بے شک ترکی نے یہ ڈرامے آپ کو فری دیے لیکن اس کے عوض ترکی دوسرے مفادات لے اُڑا۔ ایک وقت تھا جب ترکی کے فن کار پاکستانی فلموں میں کام کرنا فخر سمجھتے تھے۔ 80ء کے دور ترکی کی مشہور و مقبول ترین اداکارہ ’’نازاں سانچی‘‘ پاکستانی فلموں میں اوسط کردار خوشی سے کرتی تھی، لیکن اب ارطغرل کی ہیروئن جو ہر لحاظ سے واجبی ہیں، پاکستانی کمرشل انڈسٹری پر حاکم بن چکی ہے۔
یہ سنا گیا ہے کہ مادام جتنے پیسے ایک اشتہار سے کما کر لے گئی ہیں، وہ رقم شائد پورا ڈراما خریدنے سے زیادہ ہے۔
پھر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ مَیں نے اس کے چار سیزن ٹی وی پر دیکھے، گو کہ مَیں پرفارمنگ آرٹ کو خاص تو نہیں سمجھتا، لیکن جو معمولی سا جانتا ہوں، اس کے مطابق ارطغرل کی کہانی تو 90 فی صد فکشن ہے ہی، لیکن اس میں ڈائریکشن اور اداکاری کا معیار بہت ہی معمولی ہے۔
اب ترکوں کو تو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کذب کا تڑکا لگا کر اپنی نوجوان نسل کو عظیم ماضی سے متاثر کرے، لیکن ہم کس حساب میں خوش ہو رہے ہیں؟ جہاں تک اسلام کی بات ہے، تو خلافتِ عثمانیہ کے بادشاہ بھی بس روایتی بادشاہ تھے۔ جیسے روم و فارس کے بادشاہ تھے، جیسے بنی امیہ و بنو عباس کے مغل و عرب بادشاہ تھے۔ وہی روایتی طریقہ، وہی مار دھاڑ، وہی حکومت کے حصول کے واسطے محلاتی سازشیں، آپ خواہ مخواہ ان کو عمر بن عبدالعزیزؒ بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کی مرضی۔ درحقیقت ان کا اسلام سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا حجاج بن یوسف یا بابر کا تھا۔ البتہ استثنا تو ہر جگہ ہوتا ہے اور بے شک ان میں سے کچھ بہت اچھے ہو سکتے ہیں، یا عمومی طور پر روایتی بادشاہوں کی خوبیاں ان میں بھی ہوسکتی ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ بس ترک تھے اور ہم سے ان کا لینا دینا کچھ نہیں، تو پھر آپ نے کس جواز سے اپنی ڈراما انڈسٹری کو تباہ کر دیا؟ اگر آپ کو اتنا ہی شوق تھاتاریخ سے فخر تلاش کرنے کا، تو آپ کے پاس نہ صرف بہت سے تاریخی ہیرو ہیں بلکہ آپ کے پاس اعلا درجے کے مصنف و ادکار بھی ہیں۔
آپ سید نور، سنگیتا، شعیب منصور اور خاص کر ریاض شاہد کے بیٹے شان شاہد وغیرہ کو بلا کر ترغیب دیتے کہ وہ لوکل ہیروز پر ڈرامے اور فلمیں بنائیں۔ ماضی میں حیدر علی ٹیپو سلطان پر فلمیں بنیں۔ غرناطہ اور کشمیر پر بنیں۔ آخری چٹان اور شاہین نامی ڈرامے بنے۔ سو ہم اب بھی نواب سراج الدولہ سے لے کر بھگت سنگھ تک کی زندگی اور ان کی حریت و آزادی واسطے جدو جہد کو فلما سکتے تھے۔ اس سے آپ کا مقصد بھی حل ہو جاتا اور مقامی ڈراما انڈسٹری بھی بچ جاتی۔ لیکن آپ نے ترکوں کی تاریخ کہ جس میں بہت زیادہ جھوٹ کا تڑکا ہے، کو لا کر اس کو غیر ضروری شہرت و اہمیت دی اور اپنے لوگوں کو غیر مقبول بلکہ تباہ کردیا۔یہ کہاں کی عقل مندی ہے!
ذرا ترکی سے بھی بولیں کہ وہ کیا ریاض شاہد کی فلموں کو ترکی زبان میں ڈب کر کے ترکی میں نمائش کی اجازت دے گا؟ کیا اگر آپ آج کوئی اپنی تاریخ مثلاً راجہ پورس یا چلو علامہ اقبال پر کوئی ڈراما بنا کر ترکوں کو دیں، تو وہ لیں گے؟ بالکل نہیں کہ وہ احمق اقوام نہیں، جو خواہ مخواہ اندھی جذباتیت میں آکر اپنی انڈسٹری کو تباہ کریں۔ یہ ممکن ہی نہیں۔
اور پھر زیادتی کی انتہا دیکھیں کہ عثمانی سلطنت، ایوبی سلجوق اسلامی ریاستوں سے ہی نکلی تھیں لیکن اس کو اسلام کی فتح بتایا جا رہا ہے اور ہماری نئی نسل کے دماغ میں اسے ٹھونسا جا رہا ہے۔
کاش! ہماری حکومت خصوصاً وزراتِ ثقافت اس پر غور کرے۔ اس کے ساتھ ہم اپنی شوبز کی کچھ سینئر شخصیات سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہر چیز حکومت پر مت چھوڑیں اور آج کے جدید حالات میں اپنا کردار ادا کریں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ خود کو نقصان سے بچا لیں۔ آخر ریاض شاہد صاحب بھی تو بنا کسی حکومت امداد کے انتہائی نازک معاملات پر فلمیں بناتے رہے۔ حتی کہ فلسطین پر بنا ڈالی۔ سو ریاض شاہد کے نقش قدم پر چلیں اور خود کو اور اپنی انڈسٹری کو بچائیں۔
آپ میری رائے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں اور اگر ممکن ہو، تو جوابی بیانیہ لکھ کر قوم کی راہنمائی فرمائیں، نہ کہ فتوا بازی کا شوق فرمائیں۔
……………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے