103 total views, 1 views today

گذشتہ دنوں جو واقعہ سیالکوٹ میں پیش آیا کہ جس میں پنجاب کی مشیرِ اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ کی ایک خاتون اسسٹنٹ کمیشنر کو ایک عوامی اجتماع اور بھرے بازار میں ڈانٹ دیا، جہاں بے شمار لوگ اور کیمرے موجود تھے۔
اب اس سے سوشل میڈیا پر ایک بحث چل پڑی ہے۔ کچھ لوگ مشیرِ اطلاعات کی تعریف میں مشغول ہیں کہ انہوں نے ٹھیک کیا کہ سرکاری افسران کو ذمہ داری کا احساس دلایا، جب کہ دوسری طرف بہت سے حلقے اس حرکت کو مشیر صاحبہ کی زیادتی قرار دیتے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ مشیرِ اطلاعات کو یہ حق قطعی نہ تھا کہ وہ ایک مہذب تعلیم یافتہ سرکاری افسر کہ جو ایک خاتون بھی ہیں، اس طرح بے عزت کر تی۔ اگر اُس خاتون افسر کی جانب سے کوئی غلطی تھی، تو تب بھی باوقار انداز میں اس کے خلاف کارروائی کی جاتی۔
اس ایک معمولی واقعہ نے ہمارے نظام کے اندر کے گند کو اِفشا کر دیا ہے، یعنی ہمارا معاشرتی و سرکاری ڈھانچا مکمل بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ اس نظام نے ہمیں محض تباہی ہی دی ہے۔ آج تمام سیاسی و سماجی حلقے یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ بحیثیتِ مجموعی ہمارے ملک میں تمام ادارے بیٹھ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ادارے نہیں بیٹھے بلکہ ہمارے ملک میں فوج کے علاوہ کوئی ادارہ بنایا ہی نہیں گیا۔ فوج کا ادارہ بھی ہم نے نہیں بنایا بلکہ یہ ہمیں ورثہ میں ملا ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے نوآبادی اور سامراجی دور میں چوں کہ آپ کے اوپر آقا مسلط تھے اور انہوں نے صرف فوج کو اس نیت سے مضبوط بنایا تھا کہ بوقت ضرورت اس کو استعمال کر کے بغاوت اور آزادی کی آوازوں کو کچل سکے۔ خاص غلامانہ معاشرے میں آزادی کی تحاریک جو سیاسی انارکی، سماجی بے سکونی کا باعث بن کر طاقت ور ہوتی ہیں، ان کو سر اٹھانے کا موقعہ ہی نہ ملے۔ قوم کو غلام بنا کر رکھا جائے اور معاشرے میں امن و امان کو قائم رکھا جائے۔ جب کہ ان سامراجی طاقتوں نے بہت سوچ سمجھ کر شعوری طور پر دوسرے تمام سول ادارے بننے نہ دیے بلکہ انہوں نے پہلے سے فعال ادارے جیسا انصاف کا، زراعت کا، مقامی پولیس اور امن و امان کے اداروں کا نظام تھا، اس کو بھی تباہ و برباد کر کے ایسا نوآبادیاتی نظام تشکیل دیا کہ جو عوامی خدمت کے بجائے وائسرائے ہند کے مفادات کا محافظ ہو۔ سو اسی وجہ سے جب ہم آزاد ہوئے، تو ہمارے پاس نہ سول سروس کا کوئی معقول نظام تھا اور نہ سیاسی جماعتوں کا اور نہ منتخب پالیسی ساز اداروں کا کوئی مستند طریقۂ کار ہی تھا۔ اوپر سے بدقسمتی سے ہمارے ملک کو بنانے والے بانیان قوم بہت جلد ہی ہم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ سو رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔
ایک اور بدقسمتی یہ ہوئی کہ بعد قائد اعظم اور لیاقت علی کے مسلم لیگ پر روایتی جاگیر دار قابض ہوگئے جنہوں نے سیاسی اجارہ داری واسطے اصل سیاسی نظریاتی کارکنان کو جیسے سہروردی، نواب عبدالرب نشتر، مجیب الرحمان وغیرہ کو کھڈے لائن لگا دیا اور پہلے سے ہی مضبوط ادارے فوج کو سیاست میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اس حوالہ سے خواجہ ناظم الدین اور سکندر مرزا نے تو حد کر دی اور ایوب جیسے غاصبوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ عملی طور سیاست اور حکومت پر قبضہ کرلیں۔ بس وہ دن اور آج کا دن ہماری سول سروس بنی ہی نہیں۔ کوئی ادارہ نہ اپنے اندر جان رکھتا ہے اور نہ عوام میں کوئی وقار۔ حتی کہ عدلیہ الیکشن کمیشن تک محدود ہوچکی۔ پولیس، صحت اور تعلیم تو بس نظر آنے کی حد تک ہی باقی ہیں۔ جب کہ انتظامی قیادت جیسے اے سی، ڈی سی سے لے کر کمیشنر تک سب کے سب ہی اس نظام کے تحت بس خدمت، اعلا حکام واسطے اور عوام واسطے وہی انگریزی دور کا رویہ مکمل فرعونیت کے سوا کچھ نہیں۔ سو اسی وجہ سے سیالکوٹ والا واقعہ پیش آیا۔
اگر آپ غیر جانب داری سے اس واقعہ پر غور کریں، تو یقینی طور پر آپ ہر دو فریق کو غلط سمجھیں گے۔ صرف سیاسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہ تحریکِ انصاف کے ہیں، تو مشیرِ اطلاعات کی واہ واہ اور اگر اپوزیشن سے ہوں، تو کمیشنر کی حمایت، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں اطراف سے غلطی ہوئی۔ کمیشنر صاحبہ کو یقینا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیے تھیں یا کم از کم جب مشیرِ اطلاعات نے آنا تھا، تو وہ موقع پر موجود ہوتیں جب کہ دوسری طرف مشیر صاحبہ کو بھی اس سستے انداز میں خود کو پھولن دیوی بنانے سے گریز کرنا چاہیے تھا، یا کم از کم اس رویہ سے بچنا چاہیے تھا کہ جو سول سروس والے کرتے ہیں، عوام واسطے فرعون اور اعلا حکومتی اربابِ اختیار واسطے غلام۔ جب کہ سیاست دان، سول افسران واسطے چوہدری اور فوجی افسران سامنے بھیگی بلی……!
کیا محترمہ فردوس عاشق اعوان اس بات پر غور کریں گی کہ اگر اس سول خاتون افسر کی جگہ کوئی جنرل، کوئی بریگیڈیر حتی کہ کوئی کرنل ہوتا، تو محترمہ یوں اس کی سرِ عام بے عزتی کر پاتیں کیا؟
اب حکومت کا کام ہے کہ وہ اس واقعہ کی تو بے شک تحقیقات کرے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس کی بنیادی وجوہات کو بھی دیکھے اور اس مسئلہ کو ہمیشہ واسطے حل کرنے کے لیے مؤثر پالیسی دے یا قانون سازی کرے۔ کہ نہ تو سول سروس منھ ذور ہو اور نہ سیاسی قیادت ہی بدمعاشی کرتی پھرے۔
اس سلسلے میں اول انتظامی پالیسی یہ دی جائے کہ ماضی کی طرح اب سول سروس کی تعیناتی اور ترقی سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی معاملات کی روشنی میں کی جائے۔
تمام سول اداروں میں سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے۔ ماضی میں اگر کوئی سیاسی تعیناتی ہوئی ہے، تو اسکو نہ صرف درست کیا جائے بلکہ ایسے اقدام لینے والے سابقہ یا موجودہ حکومتی اربابِ اختیار کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ پالیسی صرف ضلعی انتظامیہ تک محدود نہ ہو بلکہ تمام سول محکموں جیسے تعلیم، نادرہ، صحت اور خاص کر پولیس اور زراعت و ریوینیو بالخصوص دفتر پٹوار کی بالکل نئے سرے سے تعمیر نو کی جائے۔
یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ یہ محکمہ جات جہاں عوام واسطے باعثِ زحمت بلکہ عذاب بن چکے ہیں، وہاں یہ سیاسی قیادت کے چاپلوس اور وفادار ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ایک فطری عمل ہے۔ کیوں کہ جب ایک پٹواری سے لے کر تحصیل دار تک اے ایس آئی سے لے کر آئی جی تک اور سکول کے چپڑاسی سے لے کر ڈیوژن کمیشنر تک کی نوکری، ٹرانسفر اور تعیناتی جب کسی ایم این اے، کسی سیاسی جماعت کے عہدیداران، کسی وزیر مشیر کی سفارش پر کی جائے گی، تو ظاہر ہے کہ مذکورہ سرکاری ملازم یقینا اس طاقت کا وفادار ہوگا جو اس کو یہاں تک لائی ہے۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر مَیں نے اپنے آقا کو مطمئن نہ کیا، تو میرے واسطے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
اب جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا، اس میں اس پہلو کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ موصولہ اطلاع کے مطابق اس اسسٹنٹ کمیشنر نے شاید مشیرِ اطلاعات صاحبہ کے کسی رشتہ دار کے سٹور پرایکشن لیا تھا جب کہ مشیر صاحبہ کی رائے یہ ہے کہ کمیشنر صاحبہ کسی وقت نون لیگ کی کارکن رہی ہیں۔ یہی بات تو دو طرفہ تنازعہ بناتی ہے کہ ایک طرف کمیشنر کو وہ عوام کی ملازم نہیں بلکہ ن لیگ کی پالیسی کے تحت سرکار واسطے مسائل بناتی ہیں اور دوسری طرف یہ کہ شاید مشیر صاحبہ کو غصہ کام نہ کرنے پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ ن لیگ کے دور میں تعینات ہوئی ہیں۔ سو ہر دو صورتوں میں یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی تو ہے۔ اب بجائے حکومتی اربابِ اختیار اور سول سوسائٹی کے متحرک کارکنان کسی ایک واقعہ پر فوکس کریں بلکہ وہ بنیادی مسئلہ کی نوعیت کا تعین کریں۔ جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا اس سے کئی درجہ سنگین واقعات آئے دن ہر جگہ روز پیش آتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کیمرے اور مشیر اطلاعات نہیں ہوتے۔ سو ہم نے اب ان تمام معاملات کو بحیثیتِ مجموعی حل کرنا ہے۔ سول سوسائٹی کو اس پر ایک بیانیہ دینا ہوگا، بلکہ آج کل کی نوجوان نسل کی زبان میں سوشل میڈیا پر ’’ٹرینڈ‘‘ چلانا ہوگا۔ تبھی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ گذشتہ تقریبا 75 سال سے نہ ہمارے اربابِ اختیار نے اس پر کوئی کام کیا اور نہ ہماری سیول سوسائٹی نے کبھی اس پر کوئی مؤثر آواز بلند کی کسی تحریک یا بیانیہ کی صورت میں۔ کیا اب بھی ہم بس ایک واقعہ پر بحث کرکے سب ختم کر دیں گے؟ یہ بہت ہی قابلِ غور اور باعثِ فکر سوال ہے۔
…………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے