23 total views, 1 views today

محنت کش اللہ تعالا کا دوست ہے۔ ایک بار ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا کہ محنت اور مشقت کرتے ہو؟ اس شخص نے بتایا کہ پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر روزی کماتا ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محنت کش کے ہاتھ چوم لیے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور کے حقوق پر بہت زور دیا اور فرمایا ہے کہ ’’مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکردی جائے۔‘‘
یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں محنت کشوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی اور ان کا استحصال بند کیا جائے گا۔
مگر اس دن بھی مزدور، کسان ا ور محنت کش دنیا و مافیہا سے بے خبر محنت و مشقت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ اس دور میں غریب محنت کش کے لیے رزقِ حلال کے دو لقمے کمانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ جب کہ محنت کش کو محنت مزدوری کے دوران میں جس سفاکانہ رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
محنت کشوں کا ایک طبقہ تعمیراتی کاموں، کھیتوں کھلیانوں، ورکشاپوں اور دیگر مقامات پر مشقت کرتاہے، جہاں مالکان کی جانب سے ان کے حقوق و سلامتی سے متعلق خیال تو درکنار، ان کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسرا طبقہ سرکاری یا پرائیویٹ اداروں، کاروباری مراکز، کارخانوں میں ملازمت کرتا ہے۔ سرکاری اداروں کی صورتحال توکچھ بہتر ہے مگر پرائیوٹ کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اکثر پریشان حال نظر آتے ہیں، جہاں ان سے آٹھ گھنٹے کی بجائے بارہ پندرہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ جب کہ تنخواہ اس قدر کم دی جاتی ہے کہ ضروریاتِ زندگی کے لیے ناکافی ر ہے، اور وہ بھی وقت پر نہیں دی جاتی۔کچھ کمپنیاں تو دو چار ماہ کے بعد تنخواہ دینا بند کردیتی ہیں جس پر مجبوری میں ملازم بغیر تنخواہ لیے کمپنی چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔وہ لیبر کورٹ میں بھی اپنے مقدمہ لے کر نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ اس کے پاس وہاں کام کرنے کا کوئی پروف اور ثبوت نہیں ہوتا۔
معاوضے کا نہ ملنا بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں بلکہ دل دھلانے والی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات غریب مزدور کی عزتِ نفس بھی اپنے مالکان کی غیر انسانی سلوک کی وجہ سے اتنی مجروح ہوتی ہے کہ وہ ایسی ذلت کی زندگی پر موت کو مقدم جانتے ہیں۔
یکم مئی کو شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینار، کانفرنسیں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک کے مزدوروں کے حقوق کی جد و جہد کو تیز کرنے، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے، قومی اداروں کی نجکاری کے خاتمے، مزدور دشمن قوانین کی منسوخی، ٹھیکیداری نظام کے خاتمے، تنخواہوں اور اجرت میں اضافے سمیت مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اُجاگر کرنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ ان مزدوروں کو اس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ تقریباً 99 فیصد مزدور اس بات سے بالکل ناواقف رہتے ہیں کہ سال میں ایک دن ایسا بھی آتاہے جو ان کے لیے خاص ہے۔ ان کے لیے خوشیاں منانے کا موقع ہے۔ چھٹی کرکے بال بچوں کے ساتھ گزارنے کا دن ہے۔ جسے دنیا بھر میں ’’مزدوروں کے عالمی دن ‘‘ کے طور پر منایا جاتاہے، لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے، صبح مزدوری کرتا ہے، تو رات کو اس کا چولہا جلتا ہے۔
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مزدوروں کی مجبوری کو ان اشعار میں کیا خوب بیان کیا ہے:
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
آج مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور تعلیم، صحت، چھت اور روزگار کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ مزدوروں کو ان کا جائز حق نہ ملنے کی وجہ سے ان کے حالاتِ زندگی بہت ابتر ہیں۔ سب کے گھر بنانے والے یہ محنت کش اپنی چھت تک سے محروم ہیں۔
بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان مزدوروں کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔‘‘
حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کے حالات میں بہتری کے لیے اقدامات کرے۔ ان کی اجرت اور تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرتے ہوئے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرے اور غربت و مہنگائی کا خاتمہ یقینی بنائے، تاکہ محنت کش طبقہ کے حالاتِ زندگی بہتر ہوسکیں۔
……………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے