38 total views, 2 views today

افغان جنگ کے دوران میں سوویت یونین اور پاکستان کے مابین تعلقات کا باب قریباً بند ہوچکا تھا، تاہم سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اب روس ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت کو مجتمع کرکے دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔
پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات میں متوازن پالیسی کی راہ اختیار کرنے کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہوئے ہیں۔ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری،سائنس، ٹیکنالوجی زراعت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ بالخصوص امریکہ کی افغانستان میں شکست کے بعد افواج کے انخلا کے اہم مرحلے میں بین الافغان مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا سازگار کرنے میں روس، چین اور پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے 1965ء سے 1970ء کا دورانیہ اہم رہا، جب 1965ء میں پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان ثقافت کے شعبے میں پہلی بار معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس کے بعد سوویت یونین نے پاکستان میں اسٹیل مل منصوبے کا افتتاح کیا جو دونوں ممالک کے درمیان کسی سنگِ میل سے کم نہ تھا،لیکن مجموعی تعلقات کشیدہ ہی رہے۔ 2014ء میں 45 برس بعد روسی وزیرِ دفاع نے پاکستان کا دورہ کرکے اہم سنگ میل کی بنیاد رکھی تھی۔ 2015ء میں شمال جنوب گیس پائپ لائن پراجیکٹ معاہدے پر دستخط ہوئے۔معاہدے کے مطابق کراچی سے لاہور تک 11 سو کلو میٹرگیس لائن بچھائی جانا تھی۔ یہ اسٹیل مل کے بعد پاکستان میں روس کی جانب سے دوسرا سب سے بڑا منصوبہ بنا۔ ستمبر 2016ء میں پہلی بار روس اور پاکستان کی سپیشل فورسز نے مشترکہ مشقیں کیں اور 2020ء میں دروزہبہ5 مشقوں سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں مزید اعتماد سازی کی فضا سازگار ہوئی۔
روس نے فروری 2017ء میں پاک بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی مشق امن17، رواں برس میں اپنے جنگی بیڑے کے ہمراہ بحری امن مشقوں میں بھی شرکت کی۔ 3 جولائی 2017ء کو روسی کمپنی ’’گاز پروم انٹر نیشنل‘‘ اور پاکستانی کمپنی ’’او جی ڈی سی ایل‘‘ کے مابین ماسکو میں باہمی تعاون ترقی کے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل، تیل کی تلاش کے لیے ’’اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی‘‘ کے استعمال سے متعلق ایک ’’ایم اُو یو‘‘ پر دستخط ہوئے۔ روسی پالیسی میں یہ اہم تبدیلی صدر پیوٹن کے دور میں ہوئی۔
2017ء میں شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کو رکنیت دلانے میں روس اور چین نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سے پاکستان پر امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتوں کا دباؤ کم ہونے میں مدد ملی۔ مغربی بلاک کے مقابل شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت سے پاکستا ن کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔
9 برس بعد روسی وزیرِ خارجہ کی پاکستان آمد اہمیت کی حامل تصور کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر خطے میں قیامِ امن کے لیے دونوں ممالک کی چین کے ساتھ کوششیں، مغربی بلاک کی جانب سے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے، معاشی و دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ پر انحصار ختم کرنے کی پالیسی، پاکستان کے ساتھ متعدد شعبوں میں پیش رفت کے ساتھ اسٹیل ملز کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے روس کی دلچسپی اور سی پیک منصوبے میں وسطِ ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے تعاون دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات دیرینہ ہیں۔ روس اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں چین کا کردار اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں سہ فریقی ممالک کے تعلقات سے خوف زدہ ہونے کے باعث بھارت نے امریکہ سے اپنے تعلقات بڑھا دیے۔ جب پاکستان نے 1990ء میں روس کے جدید ترین سخوئی ایس یو 27 لڑاکا طیاروں کے حصول کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی انتہا پسند وں کی صفوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔ پاکستان کو روس ’’ایم آئی تھرٹی فائیو‘‘ ہیلی کاپٹر فروخت کرچکا ہے۔
’’نزنی تیگل‘‘ میں اسلحے کی نمائش کے حوالے سے روس کے نائب وزیرِ خارجہ ’’سرگئی ریابکوف‘‘ کے بیان نے نئی دہلی میں اس قدر تشویش پیدا کر دی تھی کہ بھارت میں روسی سفارت خانے کو باضابطہ بیان جاری کرنا پڑا کہ روس ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے اس کے اپنے دیرینہ تزویراتی شراکت دار بھارت سے تعلقات متاثر ہوں، یا اس کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ روسی نائب وزیرِ خارجہ ’’ریابکوف‘‘ نے پاکستان کو روس کا قریب ترین پڑوسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’دونوں ممالک کے درمیان محض دفاع نہیں بلکہ دوسرے بہت سے شعبوں میں بھی تعاون کی خاصی گنجائش ہے، جن میں توانائی بھی شامل ہے۔‘‘ یہ بیان سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف راحیل شریف کے دورے کے موقع پر دیا گیا تھا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے اڑی سیکٹر میں فوجی کیمپ پر حملے کے بعد بھارت نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں منسوخ کردے، مگر روس نے ایسا کرنے سے صاف انکار کیا۔ اس سے ماسکو کی نئی خارجہ پالیسی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دسمبر2016ء کو بھارت کے شہر امرتسر میں ’’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘‘ کے دوران میں روسی نمائندے نے پاکستان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست قرار دینے کے عمل کو واضح طور پر ناپسند کیا۔ اس سے قبل 26 اکتوبر2016ء کو بھارتی ریاست گوا میں’’برکس کانفرنس‘‘ کے موقع پر بھی روسی صدر ’’ولادی میر پیوٹن‘‘ نے بھارت کی خصوصی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کا ذکر کرنے سے صاف گریز کیا۔ بھارت کی جانب سے امریکہ اور روس سے بیک وقت مفادات حاصل کرنے کی لالچ میں روس کو سوچنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کے ساتھ قریبی پڑوسی ہونے کی حیثیت سے ماضی کی غیر متوازن پالیسی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کا رجحان بڑھتا نظر آرہا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان پُرجوش ملاقاتوں سے بھارت کو شدید سفارتی دھچکا لگا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں روس نے حقیقت پسندی و عمل پسندی کا اظہار کیا۔ روس افغانستان میں چار عشروں سے جاری جنگ اور اس کے مضمرات کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے، تاکہ خطے میں امن ہو اور معاشی انقلاب کی راہ ہموار ہوسکے۔
واضح رہے کہ بھارت ہتھیاروں کی دوڑ میں آج بھی روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدارہے۔ ماسکو اور نئی دہلی میں دوریاں ہونے کے امکانات کم ہیں، لیکن اس میں رخنہ ضرور آیا جب بھارت اور امریکہکے درمیان طے پانے والے ’’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ‘‘ نے ماسکو کو چوکنا کردیا۔ یہ معاہدہ امریکہ کو بھارت سے چند ایک عسکری سہولتوں کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ ان میں فضائی اور بحری ’’ری فیولنگ‘‘ اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ یہ معاہدہ بھارت کو امریکی فوجی سہولیات سے ایسا ہی استفادہ کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ کریملن کے نزدیک امریکہ اس معاہدے کو بروئے کار لاتے ہوئے چین اور روس کو خطے اور بالخصوص بھارت کے سمندری علاقے میں محدود رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت، روس کے مقابلے میں امریکہ کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان حالات میں روس کے لیے بھارتی بحری حصے میں قدم جمانے کے لیے ضروری ہوگا کہ روس، پاکستان کے مزید قریب آئے۔ گو کہ روس نے چین پاک اقتصادی راہدری میں مذاکرات ادوار میں یوریشن اکنامک یونین کو شاہراہِ ریشم سے منسلک کرنے کی خواہش کو سی پیک منصوبے میں شمولیت کی خواہش سمجھا۔
ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد پاکستان کا جھکاؤ بھی روس کی جانب بڑھا۔ کیوں کہ امریکی صدر نے جنوبی ایشیائی پالیسی میں پاکستان پر جس قسم کا دباؤ بڑھایا اور غیر سفارتی رویہ اختیار کیا، جس کے بعد ضروری ہوگیا تھا کہ پاکستان بھی اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرے، تاکہ سرزمین کی حفاظت اور بقا کے لیے کسی ایک طاقت پر انحصار کرنے سے ماضی کی طرح کوئی دوسرا بڑا نقصان نہ پہنچے۔
دوسری طرف روس، چین اور پاکستان کے ساتھ ایران اور ترکی نئے اتحادی گروپ کی صورت میں اجاگر ہو رہے ہیں، تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی میں غیر جانب دار رہنے کا اصولی مؤقف ہونے کے باوجود اب بھی صورتِ حال آئیڈیل نہیں کہ نئے اتحادی بلاک میں ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو امریکہ اور عرب ممالک نظر انداز کردیں۔ اسی طرح یورپی ممالک، چین اور روس کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے تعلقات کو بھی قبول کرنے میں تامل سے کام لے رہے ہیں۔ بالخصوص ترکی کی یورپ میں شمولیت کی کوششیں کامیاب نہ ہونے پر نئے اتحادی بلاک میں بااثر مقام رکھنے کے لیے روس اور پاکستان کے ساتھ ترکی کا ایران پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ یورپ، امریکہ اور بھارت کے نزدیک نئے اتحادی دائرہ ان کے مفادات کے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکی تجویز پر ترکی اپریل کے وسط میں ’’افغان امن کانفرنس‘‘ استنبول پراسس کے تحت کرانے کی منظوری دے چکا ہے۔ تاہم افغانستان میں عبوری حکومت کی تجویز کو رد کیے جانے کے بعد صدر اشر ف غنی نے دوبارہ صدارتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر افغان طالبان انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل کہ افغان طالبان ردِ عمل دیتے، خود افغانستان کی حزبِ اختلاف کی کئی جماعتوں نے اشرف غنی کی تجویز کو مسترد کردیا اور عبوری حکومت کی ضرروت پر زور دیا، تاکہ افغانستان میں پہلے جنگ بندی کی راہ ہموار ہوسکے اور مملکت میں افغان عوام کی خواہش کے مطابق انتظام و انصرام پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔
استنبول کانفرنس سے قبل افغان امن جرگہ کو 30 سے زاید آرا مسودے کی شکل میں موصول ہوچکے ہیں، جب کہ صدر اشرف غنی بھی اپنا امن فارمولا استنبول کانفرنس میں پیش کریں گے۔ دوسری جانب افغان طالبان کی تجاویز کے بعد ردعمل سامنے آئے گا۔
اس وقت تک تو افغان طالبان دو اہم نِکات پر قائم ہیں، جس میں مئی کے مہینے میں امریکی افواج کا مکمل انخلا اور غنی حکومت کا خاتمہ ہے۔ غنی انتظامیہ تو امریکی تجویز کو مسترد کرچکی ہے، تو دوسری جانب امریکی خفیہ ادارے خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ اگر امریکہ نے اپنی افواج کا مکمل انخلا کردیا، تو افغان طالبان قلیل عرصے میں افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے مئی کے مہینے میں امریکی افواج کا انخلا غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہے۔
ماسکو میں ’’افغان امن کانفرنس‘‘ کے بعد اب ترکی میں ’’افغان امن فارمیٹ‘‘ پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ روسی وزیرِ خارجہ کی پاکستان آمد کے بعد جہاں دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری پر مثبت پیش رفت ہوگی، تو دوسری جانب استنبول میں مئی سے قبل اہم ترین مذاکرات کے منطقی فارمولے پر اتفاق رائے ہونے کا امکان بھی ہے۔
وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ روس کے وزیرِخارجہ ’’سرگئی لیوروف‘‘ کا دورۂ پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے۔ دورہ عکاس ہے کہ روس سے پاکستان کے تعلقات نیا رُخ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک روس تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ دیکھ رہے ہیں کہ پاک روس معاشی و دفاعی تعلقات کیسے بڑھ رہے ہیں؟ نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان اور روس آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے