174 total views, 1 views today

9 برس بعد روس کے وزیرِخارجہ ’’سرگئی لاروف‘‘ پاکستان تشریف لائے، تو ملک کے طول و عرض میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ پاکستان امریکہ یا اہلِ مغرب سے ناتا توڑ کر حلقہ بگوشِ روس ہونے جا رہا ہے؟ پاکستان کے اندر ایک طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے، جو پاکستان کو روس یا امریکہ میں سے کسی ایک بلاک میں شامل کرانے پر تلا رہتا ہے۔ سرگئی کے دورۂ پاکستان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان نے گذشتہ دس پندرہ برسوں میں تسلسل کے ساتھ روس کے تعلقات میں پائی جانے والی تلخی کم کرنے اور دوستانہ تعلقات استوار کرنے پر توجہ دی۔ رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی، لیکن تعلقات کی موجودہ سطح یا کیفیت ایسی نہیں کہ پاکستان روس پر انحصار کرسکے۔ روس کی معیشت کمزور ہے، اور وہ عالمی تنہائی کا بھی شکار ہے۔
اس کے تعلقات امریکہ، برطانیہ ہی نہیں بلکہ یورپ کے ساتھ بھی کشیدہ ہیں۔ حتیٰ کہ روس اور یورپی یونین ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو بھی ملک بدر کیا۔ یورپی یونین کے ساتھ روس کے تعلقات تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر ہیں۔ امریکہ کے الیکشن میں مداخلت، جاسوسی اور سائبر حملوں کے الزامات کے باعث امریکہ روس تعلقات بھی سخت تناؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ گرم جوشی کی بہترین تشریح یہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات میں کسی حد تک یکسانیت پیدا ہوچکی ہے۔
مثال کے طور پر روس اور پاکستان کے درمیان افغانستان ایک بار پھر موضوعِ بحث ہے، لیکن اس مرتبہ نیت مثبت اور طریقۂ کار دوستانہ ہے۔ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ چناں چہ روس اب تک کئی ایک مذاکرات کے سیشن برپا کراچکا ہے جس میں طالبان لیڈر شپ شریک ہوئی۔
دونوں ممالک کی دوسری بڑی اور مشترکہ پریشانی یہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان آئی ایس آئی ایس کا مرکز نہ بن جائے۔ آئی ایس آئی ایس افغانستان میں نہ صرف موجود ہے بلکہ طالبان کے ساتھ بھی کئی ایک جنگی معرکے لڑچکی ہے۔ آئی ایس آئی ایس کی افغانستان میں موجودگی سے روس کو خدشہ ہے کہ وہ وسطی ایشیائی ممالک تک اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ پھیلا سکتی ہے۔ روس کو بخوبی اندازہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس کو عسکری یا نظریاتی شکست صرف اور صرف طالبان ہی دے سکتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا سیاسی اور مذہبی اثر افغانستان کے طول و عرض میں پایا جاتا ہے اور افغان رائے عامہ کی بڑی تعداد ان کے بیانیہ کی حامی ہے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کامیابی روس اور پاکستان دونوں کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ پاک چین اقتصادی راہ داری نے بھی روس کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا ہے۔ چین کے ون بلٹ ون روڑ منصوبے سے روس بھی استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر وہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہ سے تجارتی مال مشرقِ وسطی اور مشرقِ بعید کے ممالک تک پہنچانے کے لیے بے تاب ہے۔
حسنِ اتفاق سے روس اور چین دونوں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اپنی تاریخ کے بہترین دور سے گزررہے ہیں۔ عالمی مبصرین کہتے ہیں کہ چین نے روس کو مکمل طورپر اپنے حصار میں لے رکھا ہے، بلکہ وہ چین کا جونیئر پارٹنر بن چکا ہے۔ اس طرح روس کے ساتھ پاکستان کی تجارتی شراکت داری دونوں ممالک کے مفادات کے عین مطابق ہے۔
روس کا دیرینہ شراکت دار بھارت، امریکہ کا نہ صرف اسٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے بلکہ وہ کواڈ کے نام سے قائم ایک اتحاد کا بھی سرگرم رکن ہے، جس میں جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور بھارت شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد ہی دنیا سے چین کا تجارتی اثر و رسوخ ختم کرانا اور مشترکہ طور پر چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کو روکنا ہے۔ چوں کہ روس کی معیشت اور خارجہ تعلقات چین کے ساتھ مربوط ہیں، اس لیے روس بھی بھارت کی موجودہ حکمت عملی پر اضطراب کا شکار ہے۔
بھارت اسلحہ کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کیا کرتا تھا، لیکن اب رفتہ رفتہ روس کی جگہ بھارت، فرانس اور مغربی ممالک سے دفاعی ساز و سامان خریدنے کو ترجیح دیتاہے۔ یہ اسلحہ جدید بھی ہے اور بدلے میں یہ ممالک مغربی دنیا اور عالمی اداروں میں بھارت کے لیے لابنگ کرتے ہیں۔ جیسے فرانس نے کشمیر پر ہونے والے سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں کھل کر بھارت کا ساتھ دیا۔ یہ ساتھ کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ دفاعی سودوں کے باعث تھا، جن میں فرانس اربوں ڈالر کے ہتھیار بھارت کو فروخت کرنے کو ہے۔
بھارت ہی کی شہ پرفرانس ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے ناک میں دم کیے رکھتا ہے۔ یعنی جو کام آنجہانی سوویت یونین بھارت کی ایما پر کیا کرتاتھا، اب وہ کردار فرانس نے سنبھال لیاہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کو چین کے سوا دنیا کا کوئی دوسرا قابلِ ذکر ملک ہتھیار فروخت کرنے کو تیار نہیں۔
2018ء میں پاکستان نے ترکی سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کے 30 ٹی۔129 لڑاکا ہیلی کاپٹر خریدنے کا آرڈر دیا، لیکن امریکی پابندیوں کی باعث ترکی یہ ہتھیار پاکستان کو فروخت نہ کرسکا۔ ایسی درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، جہاں امریکی پابندیوں یا دباؤ کے باعث پاکستان جدید ہتھیار خرید نہ سکا۔ چین کے بعد روس ایک ایسا ملک ہے جو امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ روس بھی ہتھیار فروخت کرنے کے لیے متبادل مارکیٹ کی تلاش میں ہے۔ پاکستان ایک بہترین آپشن ہے، جسے جدید روایتی ہتھیاروں کی سخت قلت کا سامنا ہے۔
روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں آنے والی گرمجوشی پاکستان کے عالمی سطح پر امیج اور سودے بازی کی صلاحیت میں بھی زبردست اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ا س پس منظر میں پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ روس کے ساتھ ایسے معاہدے کرے جو قابل عمل ہوں۔
حرفِ آخر:۔ پاکستان کو یہ ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت نہیں کہ وہ امریکہ کے مخالف کیمپ میں جارہاہے بلکہ اسے خاموشی کے ساتھ روس کے ساتھ ابھرنے والی شراکت داری سے استفادہ کرنا چاہیے ۔یہ سرد جنگ کا زمانہ نہیں کہ پاکستان کو کسی ایک کیمپ کا حصہ بننا پڑا۔ غالباً اس کا کوئی تقاضہ بھی نہیں کرتا۔
…………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے