120 total views, 2 views today

محترم ڈی پی اُو سوات، امید ہے آپ بخیر و عافیت ہوں گے!
جنابِ والا! اک مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ دلانا مقصود ہے۔ چوں کہ ہماری پہنچ آپ صاحبان کے دفتر تک مشکل ہے۔ اس لیے اخباری صفحات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
جنابِ والا! چند روز قبل مردان کے کچھ مشٹنڈوں نے مینگورہ شہر میں خواجہ سراؤں کے ایک دیرے پر حملہ کر کے وہاں موجود معصوم خواجہ سراؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کے دوران میں ان کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر چلائی۔
جنابِ والا! ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کتنی گری ہوئی حرکتیں کی جارہی ہیں اور کتنی غلیظ گالیاں دی جا رہی ہیں، انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس کے بعد مذکورہ مشٹنڈے آپ صاحبان کے ضلع سے دیدہ دلری کے ساتھ ایک معصوم انسان کو اٹھا کر ضلع مردان لے جاتے ہیں اور پھر وہاں دوسری ویڈیو سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرتے ہیں، جس میں وہ گاڑی کے اندر مذکورہ معصوم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے، اس کے ساتھ عجیب حرکتیں کرتے اور گالیاں دیتے نظر آتے ہیں۔
جناب والا! پشتو کی کہاوت ہے ’’ملک د پختو دے‘‘ آپ بھی پشتون ہیں۔ اس کہاوت کی نزاکت سے مجھ سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ بھی بجا ہے کہ خواجہ سر ابھی فرشتے نہیں۔ ان میں سے کئیوں کا کردار بھی معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہے۔ انہیں بھی قانونی دائرہ اختیار میں لاناوقت کا تقاضا ہے، لیکن یہاں مسئلہ اُن مشٹنڈوں کا ہے جنہوں نے کمشنر، ڈی آئی جی، سپیشل برانچ اور یہاں پر مصروف بھانت بھانت کی سیکورٹی ایجنسیوں سب کو چیلنج کرتے ہوئے مینگورہ شہر سے ایک معصوم انسان کو اِغوا کیا اور اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا کی زینت بنائی۔
جنابِ والا! دل پر مت لیں، مگر اس عمل کے بعد محکمۂ پولیس سوات کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟ ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری کے مصداق بندے کو اِغوا کیا گیا، اس کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا اور اس تمام تر عمل کی ویڈیوز بنائی گئیں اور بڑی دیدہ دلیری سے سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر بھی کی گئیں۔ یوں اس عمل کا مقصد تو یہی ہے کہ عام عوام کو دکھایا جائے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں ’’قانون‘‘ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیا حیثیت ہے؟
جنابِ والا! مردان کے مشٹنڈے تو قانون کی عمل داری کو پاؤں تلے روند کر چلے گئے لیکن ان کے سہولت کار تو سوات ہی میں موجود ہیں۔ آج اگر اس عمل پر خاموشی اختیار کی گئی، تو کل خدانخواستہ گھروں سے باعزت خواتین کو اٹھوانے کا عمل بھی شروع ہوجائے گا۔
امید ہے میری یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر کھڑے پانی میں کنکر ثابت ہوگی، شکریہ!
………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے