36 total views, 1 views today

’’ایک انسان کی موت مجھے کمزور کردیتی ہے، کیوں کہ مَیں انسانیت کا حصہ ہوں، اس لیے جب موت کی گھنٹی بجے، تو یہ مت پوچھو کہ کس کی ہے، کیوں کہ یہ تمہارے لیے ہی بجی ہے۔‘‘
جان ڈون نے یہ اشعار 1624ء میں لکھے تھے جس میں انسان کی دوسرے انسانوں کے لیے ہمدردی کے بنیادی انسانی جذبات کا اظہار کیا گیا تھا۔ نیز قاری کو خبردار کیا گیا تھا کہ دوسروں پر آنے والی مصیبت آپ پر بھی آسکتی ہے۔ نسلِ انسانی باہمی اشتراک سے وجود میں آئی ہے اور ہمارا مقدمہ مشترک ہے۔
یہ اشعار انسانوں کے بیچ یکجہتی کا اظہار ہیں اور ان میں اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ دوسرے کی موت تمہارا بھی مقدر ہے۔
’’ہمارا مقدر مشترک ہے!‘‘ یہ سچائی انسانی زندگی پر ایک جان لیوا وائرس کے حملے کے دوران میں محسوس ہوئی۔ ایک شہر یا ملک میں یکجہتی یا اشتراک پیدا کرنا ایک الگ چیز ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ اس وبا کے خلاف یکجہتی ایک انسانی رد عمل تھی جب کہ غیر انسانی رد عمل بھی دیکھنے میں آیا۔ جب یکجہتی سے انکار کیا گیا اور قومی ریاست کی تنگ نظری کو نافذ کیا گیا۔ دراصل ایک عالمی تباہ کاری کی صورت میں ایک عالمی تعاون کی ضرورت تھی لیکن حکمرانوں کا رد عمل انتہائی تنگ نظری پر مبنی تھا۔ اس سے بھی بدتر یہ ہوا کہ ایک ممکنہ تعاون کو ٹرمپ جیسے لوگوں نے اس وائرس کو ’’ووہان وائرس‘‘ یا ’’چینی وائرس‘‘ کہہ کر پروان چڑھنے سے روک دیا۔ جب بھی انسانی باہمی تعاون کو قومی تنگ نظری اور ذاتی اغراض نے کچل دیا، تو انسانیت شرمسار ہوئی۔ ٹرمپ نے تو اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر الگ الگ اقدامات کو عالمی ادارۂ صحت کے ذریعے مربوط کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی قسمتیں بھی مختلف تھیں۔ عالمگیریت کے بعض شعبوں کو فوری طور پر معطل کردیا گیا۔ فضائی سفر کو روک دیا گیا۔ تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں اور ہجرت کو بند کردیا گیا۔ یورپی یونین کے ممبر ممالک نے بھی ایک دوسرے کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کیں۔ واپس آنے والے اپنے باشندوں کو کوارنٹین کیا گیا۔ لاک ڈاؤن لاگو کئے گئے۔ ایک وبا سب سے پہلے خوف و ہراس پھیلاتی ہے۔ ہر ملک میں ضروری اقدامات کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لیے انہیں دوسرے ملکوں پر ڈال دیا گیا۔ قومی دفاع اور مخاصمت کے ماحول میں وسائل کو ہتھیانے کی فضا بن گئی۔ تعاون کی بجائے مخاصمت اور اپنی غلطیاں ماننے کی بجائے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ریاستی سطح پر وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر پالیسیوں نے قومی تنگ نظری کی شکل اختیار کی اور گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ریاستی مداخلت کا آغاز کیا گیا۔
ایک میڈیکل جریدے لانسٹ کے ایڈیٹر نے تبصرہ کیا ہے: ’’یہ سائنسی پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی ہے!‘‘ اس نے پہلے ہی عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے 24 جنوری 2020ء کو جاری کی گئی وارننگ کے مطابق اقدامات میں تاخیر کی نشان دہی کی تھی۔
برطانوی حکومت نے جان بوجھ کر اقدامات میں تاخیر کی۔ بورس جانسن نے وائرس کا مذاق اڑایا اور ہاتھ ملانے پر اصرار کرتا رہا۔ لانسٹ نے فروری 2020ء کے آغاز میں ہی خبردار کیا تھا کہ وائرس کو کنٹرول کرنے میں ناکامی ہورہی ہے اور ’’دنیا کے متعدد بڑے شہروں میں ناگزیر طور پر پھیلاؤ بے قابو ہوجائے گا۔‘‘ سب سے پہلے فیصلہ رکاوٹوں کی بجائے سائنس کا انتخاب ہونا چاہیے تھا۔ ممکنہ طور پر خطرناک نتائج کے حامل ایک نامعلوم وائرس کے خلاف سائنسی رد عمل ہی مؤثر قدم ہوسکتا ہے، لیکن سرمایہ داری میں دو وجوہات کی بنا پر اسی چیز کی ہی کمی تھی۔ اول یہ کہ بیماری کی کھوج اور طبی تیاری کے لیے فنڈنگ کی شدید کمی تھی۔ دوسرا یہ کہ قومی ریاستیں اس سے بچنے کے لیے طبی طور پر تیار ہی نہیں تھیں۔ قومی تنگ نظری اور مخاصمت نے معاملات کو اور زیادہ پیچیدہ کردیا۔
وائرس کا تجزیہ کرکے اس کے ڈی این اے اور آر این اے کو سمجھنے، ویکسین تیار کرنے، دوسرے کرونا وائرسوں سے موازنہ کرنے اور موجودہ دواؤں سے علاج پر نظرِ ثانی ہونا چاہیے تھی۔ ایک ناگزیر عمل سے روبرو ہونے کے لیے ہر چیز کو تیار ہونا چاہیے تھا۔ اس کی بجائے سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ایک منتشر اور تاخیر زدہ ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ عالمی ادارۂ صحت،ایک ایسا ادارہ ہے جسے نگرانی، تحقیق اور تیاری کے لیے بنایا گیا تھا، کو قصداً کم فنڈنگ کی گئی اور اس کے کام کو محدود کیا گیا۔ وبا کے خلاف متعدد مختلف اقدامات دیکھنے میں آئے جو زیادہ تر قومی بنیادوں پر کیے گئے۔ یہ اقدامات زیادہ تر دوسرے ملکوں کے ردِ عمل میں اٹھائے گئے۔ امریکہ نے چین سے آنے والوں اور پھر یورپ سے آنے والوں پر پابندی لگادی۔ پاپولسٹ رہنماؤں کے بجلی اقدامات، سفری پابندیاں یعنی غیر ملکیوں کو روکنا تھا۔ وبا سے نمٹنے کے لیے یہ اقدامات تعاون کی نہیں بلکہ قومی مخاصمت کی مختلف شکلیں تھے۔
عالمی سرمایہ داری نہ صرف اس وبا کے لیے تیار نہیں تھی بلکہ اس طرح کے صحت کے بحران کے سامنے مکمل بے بس تھی۔ 2005ء میں "SARS-I” اور 2011ء میں مغربی افریقہ میں ’’ایبولا وبا‘‘ ایک چتاؤنی تھی کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ لیکن تمام بڑے سرمایہ دارانہ ممالک اس نئے کرونا وائرس کے لیے بالکل ہی تیار نہ تھے۔ یہ ایک غیر معمولی حقیقت ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں عالمی سطح پر ان بے شمار وائرسوں کے لیے صرف ایک ہی ویکسین بن سکی ہے۔
وسیع سائنسی علم کی شیخی بگھارنے والے سرمایہ داروں کے تمام تر وعدے افسانے ثابت ہوئے۔ دوا ساز صنعتیں اپنی بنیادی تحقیق سرکاری خرچے پر کرتی ہیں اور ان کی ساری توجہ پرانے پیٹنٹس خریدنے اور انہیں نئے برانڈوں کے نام سے لانچ کرنے پر ہوتی ہے۔ اس سے بعض اوقات قیمتیں 400 فیصد تک بڑھ جاتی ہیں جس سے منافعوں میں چار گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی پچھلی نسلوں کے جنگلات، جو کوئلے، قدرتی تیل اور گیس وغیرہ کی شکل میں موجود ہوتے ہیں، کے استعمال سے جنم لیتی ہے۔ عالمی سطح پر فطرت کو تاراج کرنے بالخصوص جنگلات کے بے لگام کٹاؤ کی وجہ سے فطرت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ فضا سے ٹنوں کے حساب سے بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو صاف کرسکے۔ وسیع جنگلات کو زراعت کے لیے کاٹا، جلایا اور صاف کیا جارہا ہے جس سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ جنگلات، جو کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کم ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تمام اقسام کی ماحولیاتی تبدیلیاں مثلاً گلوبل وارمنگ، سمندروں کی بلند ہوتی سطح، تباہ کن طوفان اور موسمیاتی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔ یہ باتیں تو سب جانتے ہیں لیکن ایک بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جنگلات کے کٹاؤ اور ان کو آگ لگانے سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں۔
ہر سال 12.4 ملین ایکڑ جنگلات کو مستقل طور پر زرعی اجناس کی کاشت کے لیے زرعی زمین میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف تمام کارپوریٹ اور حکومتی وعدوں کے برعکس ان اعداد و شمار میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ جنگلی حیات کے مسکن کی تباہی ایک طرف، تو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری طرف جنگلی جانوروں کو پالتو جانوروں اور انسانوں کے قریب لا رہی ہے۔ جنگلی جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کو روکنے والی حفاظتی دیوار ٹوٹ چکی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں تیز ہو رہی ہیں اور نسبتاً ٹھنڈے علاقوں کے جانوروں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہیں۔ اس سے بیماریاں پھیلانے والے جراثموں کو نئے میزبان ملتے ہیں جس سے عالمی سطح پر نئی وائرل بیماریوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ لائیو سٹاک کے بڑے بڑے فارم بذاتِ خود جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں پھیلانے کے مراکز ہیں۔
زراعت میں سرمایہ داری کی گہری مداخلت نے چکن اور کارن کے ساتھ ساتھ جرثوموں کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ وائرسوں کے پھیلاؤ کی حالیہ تاریخ بڑے فارموں سے وباؤں کے پھوٹنے کا ایک تسلسل ہے جو پورے پورے براعظموں میں پھیل جاتی ہیں۔
جب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹرس نے اعلان کیا کہ ’’ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک محفوظ نہیں ہوسکتا جب تک ہم سب محفوظ نہیں ہوتے۔‘‘ تو وہ وباؤں کے بارے میں ایک سچائی کو پیش کررہا تھا، لیکن سرمایہ دارانہ اختلافات کے ہوتے ہوئے کسی بھی طرح کا عالمی تعاون ناممکن ہوجاتا ہے۔
یہ وبا خود انسانوں کی وجہ سے ہی پھوٹی ہے۔ حالیہ وبائیں انسانی سرگرمیوں، بالخصوص عالمی مالیاتی اور معاشی نظام کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ ایسا نظام جو معاشی نمو کو ہر چیز پر ترجیح دیتا ہے۔ ایسے شواہد ہیں (جو حتمی نہیں ہیں) کہ کورونا وائرس افریقہ سے جنگلی جانوروں کے ساتھ ووہان کی تازہ گوشت کی مارکیٹ تک آیا۔ اقدامات کے لیے شروع ہی سے ہیلتھ سائنسز کی بجائے سیاست پر تکیہ کیا گیا۔ چین میں بیوروکریسی نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا۔ بعد میں انہوں نے سخت اقدامات کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور دیگر ممالک نے بیماری کے پھیلاؤ پر غم و غصے اور پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات پر حقارت کا اظہار کیا۔ بہت کم ممالک نے اس لہر کے آنے سے پہلے کوئی اقدام کیا۔ اس کی بجائے اکثر کا یہ خیال تھا کہ چین کے ساتھ رابطے ختم کرنے سے بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن سب سے جابرانہ طریقہ تھا۔ ہر چیز بند کرکے لوگوں کو گھروں تک محدود کیا گیا اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی تلقین کی گئی، لیکن تیاری کے بالکل نہ ہونے، عالمی سطح پر ممکنہ وباؤں کی نگرانی کے فقدان، صحت کے تباہ شدہ نظام اور آلات کی غیر دستیابی کی وجہ سے معاملات یہاں تک پہنچے۔
اس کا متبادل کیا تھا؟
جدید ترین سائنس کی بنیاد پر ایک اعتماد اور جامع وارننگ کا نظام جس میں صحت کو درپیش خطرات کے بارے میں معلومات کا آزادنہ طور پر تبادلہ ہوسکے، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کو اسی کام کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس نے یہ کام نہیں کیا۔ یہ کوئی حادثاتی امر نہیں تھا۔ تجارتی جنگوں اور قومی تضادات کی حامل دنیا میں عالمی تعاون کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔ بائیولو جیکل دہشت گردی کے بارے میں پائے جانے والے خوف و ہراس کے باوجود بڑی سرمایہ دارانہ ریاستوں نے عوامی صحت اور تحفظ پر کم ہی توجہ دی ہے۔ اس کے برعکس تمام تر خرچہ تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں، مہنگے جنگی طیاروں اور طیارہ بردار بحری جہازوں، مشرقی وسطیٰ میں فوجی مداخلت اور چین کے ساتھ تصادم پر ہورہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی فنڈنگ کم ہے اور ایمرجنسی میں اسے امریکی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح بیماریوں کا عالمی سطح پر پھیلاؤ معمول بن چکا ہے اسی طرح ان سے نمٹنے اور وارننگ کے نظام کو بھی عالمی ہونا چاہیے۔ سائنس دانوں نے وباؤں کی پیش گوئی کی ہوئی تھی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق افریقہ میں ہر سال 50 سے 70 ایسے واقعات ہوتے ہیں جو وبائی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
ووہان سے نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو ایک وبا میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن تیاری میں ناکامی اور ماسکوں اور صفائی کے آلات کی کمی کی وجہ سے ایسا ہوا۔ سائنسی علم کے استعمال اور دیگر اقدامات کے ذریعے یہ ممکن تھا کہ مشکلات، آئی سولیشن اور معاشی تباہ کاری کے بغیر ہی وبا کے پھیلاؤ اور اموات کو روکا جاسکے۔ برازیل میں ’’بولسنارو‘‘ جیسے وحشی آدمی سے لے کر نیوزی لینڈ کی محتاط وزیراعظم تک مختلف ممالک کی جانب سے مختلف ردِ عمل دیکھنے میں آئے، لیکن سب میں کچھ مشترک چیزیں تھیں۔ تنگ نظر قوم پرستانہ تحفظاتی پالیسیاں اور دیگر ممالک کے لوگوں کی مشکلات کی طرف سرد مہری۔
پروفیسرز جوزف سٹیل، سنڈراڈیاز اور ایڈورڈ وبرونڈزیو نے سیارے کی صحت کی حالت پر اب تک کی سب سے جامع تحقیق کی ہے جو 2019ء میں شائع ہوئی اور جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زمین پر زندگی کو سہارا دینے کے فطری نظام کے تیز زوال کی وجہ سے انسانی سماج سخت خطرے میں ہے۔ ایک مضمون میں انہوں نے لکھا ہے: ’’جنگلات کا تیز کٹاؤ، زراعت کا بے قابو پھیلاؤ، بے تحاشا فارمنگ، کان کنی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اس کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کے استعمال نے بیماریوں کے پھوٹنے کی ایک خطرناک صورت حال پیدا کردی ہے۔‘‘
دنیا میں اس وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے بڑی سرمایہ دارانہ ریاستوں کی قیادتوں نے مکمل نا اہلی دکھائی اور یہ لوگ اپنے اقتدار کو بچانے اور مضبوط کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایسی قیادتوں کی خصوصیات اور مضمرات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بعد میں ہونے والے واقعات کو سمجھا جاسکے۔
قارئین! اس دوران میں اگر کچھ وسائل کا رُخ غریبوں کی طرف موڑا بھی جاتا ہے، تو اس سے سماج میں موجود بنیادی نابرابری کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ضرورت مند خاندانوں کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے پیسے نہیں۔ دراصل وبا کا زیادہ تر بوجھ انہی پر پڑا ہے جو اسے برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ زیادہ تر غریب لوگ اور نوکر پیشہ لوگ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں اور غربت، بیماری اور بے دخلی کے شکار ہیں۔ بیماری کے پھیلاؤ اور اموات کی زیادہ تر شرح کا کسی نسلی گروہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس کا تعلق خستہ حال رہائش، آلودگی اور اس خطرناک ماحول سے ہے، جس میں یہ نسلی گروہ رہتے ہیں۔
محنت کشوں کو آلودہ فضا کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ ان کے گھروں میں ہوا کی فلٹریشن کا کوئی بندوبست بھی نہیں۔ جو لوگ آلودہ فضا میں رہتے ہیں اور تمباکونوشی کرتے ہیں انہیں ان لوگوں کی نسبت نظامِ تنفس کی بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو صاف فضا میں رہتے ہیں اور تمباکونوشی نہیں کرتے۔
یہ واقعہ المیہ سے کم نہیں کہ کورونا کی اب تیسری لہر غریب عوام کا سامنا کررہی ہے۔ دنیا کے تمام سائنسی کمالات و ایجادات ناکام ہوچکے ہیں۔ سرمایہ اپنے مظالم ڈھارہا ہے۔ عوام کو لاک ڈاؤن، ایس او پیز کے ذریعے کنفیوز کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ دار حکمرانوں کو سوائے لاک ڈاؤن اور کاروبار بند کرنے کے علاوہ اور کچھ سجائی ہی نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکمران اور سرمایہ دار طبقہ تو گھر میں بیٹھنا برداشت کرسکتا ہے۔ کاروبار بند کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے، لیکن غریب اگر روزانہ دیہاڑی نہیں کرے گا، تو کھائے گا کہاں سے؟ اُسے کیا فرق پڑے گا وہ بھوک سے مرے یا کرونا سے؟ مرنا تو غریب طبقے کو ہی ہے۔ وجہ وہی پرانا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز کو پیسا کمانے کی سوچ پر پرکھا جاتا ہے، عوامی مفاد پر نہیں پرکھا جاتا۔
اس وبا کی روک تھام، اس کا علاج، اس کا طریقۂ کار اور ویکسین کی تیاری تک سب کچھ سرمائے کے کمانے اور سرمایہ داروں کے مفادات کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ آپ دیکھ لیں جہاں ذرا بھی سرمائے کا عمل دخل کم ہے، وہاں یہ وبا کب کی کنٹرول ہوچکی ہے اور وہاں انسانی جانوں کا ضیاع اب نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اسے وقت کا بجر کہا جائے یا ایک حادثاتی المیہ کہ پاکستانی حکمران، سیاسی پنڈتوں اور اسٹبلیشمنٹ کے ناخداؤں کو آج کل ایک دوسرے کو گرانے سے فرصت نہیں، اقتدار کی جنگ سے فراغت نہیں۔ سینٹ کے ایک ایک سیٹ کے لیے اربوں، کھربوں روپوں کی خرید و فروخت سے فرصت نہیں، لیکن افسوس صد افسوس کہ دوسری طرف چین سے بار بار مفت ویکسین کی بھیک مانگی جارہی ہے۔ ایسے میں عوام اور غریب پاکستانیوں کی صحت اور زندگی کی حفاظت کا انہیں کیا خیال ہوگا۔ اُن کے آگے اس وبائی مسئلے سے نمٹنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اُن کے لیے اہمیت سینیٹ کی سیٹ کی جیت، اقتدار کی جنگ کی جیت اور سیاسی بالادستی کی جیت کی ہے۔
اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام خوابِ غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انہیں نواز شریف اور شہباز شریف کو چور گرداننے میں الجھادیا گیا ہے۔ انہیں ہر روز بلاول بھٹو اور مریم نواز کا نیا نیا جلوہ دکھایا جا رہا ہے۔ انہیں شیخ رشید کے فضول مباحث اور پیشین گوئیوں میں اُلجھایا جارہا ہے اور ڈگڈگی بجائی جارہی ہے کہ ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ کب نکلے گی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ عرصہ پانچ سال سے ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ کا ڈلیوری کیس اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا۔
آخر میں مشہور تاریخ دان اور آٹھ سو سال پہلے گزرنے والے فلسفی اور ماہر عمرانیات عبدالرحمان ابن خلدون کا وبا اور نئے رجحانات کے بارے میں قول پیش خد مت ہے: ’’جب حالات میں غیر معمولی تبدیلی آتی ہے، یا کوئی وبا پھیلتی ہے، تو دنیا ایک نئی کروٹ لیتی ہے اور یکسر بدل جاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نئی تخلیق ہو، اب یہاں بھی ایک نئی دنیا کو وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔‘‘
آج ہمیں بھی کرونا کی وبا کا سامنا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی نئی راہیں نکالنی ہوں گی اور نئے طریقے دریافت کرنا ہوں گے۔ کاش، ہمارے حکمران ابن خلدون کے اس مشہور قول کی طرف توجہ دے سکیں۔
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے