44 total views, 2 views today

امریکہ میں تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ بظاہر نئے امریکہ کو پرانے امریکہ کی جانب رواں کرنے میں صدر بائیڈن نے باقاعدہ کوششیں شروع کردی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ کی سخت گیر پایسیوں کی وجہ سے امریکہ کے حلیف اتحادی ممالک بھی مخالف ہونا شروع ہوگئے تھے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ اگر ٹرمپ اگلی مدتِ اقتدار کے لیے بھی منتخب ہوجاتے، تو امریکہ کی مزید تباہی کا کچھ اس طرح مؤجب بنتے کہ امریکہ کو واپسی کے لیے کئی دہائیاں انتظار کرنا پڑتا، صدر جوبائیڈن نے پرانے امریکہ کی واپسی کے لیے اہم معاملات پر توجہ دینا شروع ہی نہیں کی بلکہ عالمی طور جن معاملات میں ٹرمپ کی وجہ سے امریکہ کے تشخص کو نقصان پہنچا، اُسے جلد از جلد درست کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ امریکہ پر کم ازکم اُن کے حلیف اتحادی ممالک اعتماد کرنے کا عمل شروع کردیں۔ حلف لینے کے بعد حسبِ روایت انہوں نے کئی ایسے قوانین کی منسوخی کے احکامات پر دستخط بھی کیے جو ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا مؤجب بنے تھے۔ امریکہ آمد پر مخصوص ممالک کے شہریوں پر پابندی، تارکینِ وطن کے خلاف سخت گیر پالیسی، گرین کارڈ کے حصول پر پابندی، عالمی ماحولیاتی معاہدہ میں واپسی سمیت اہم معاملات صدر بائیڈن کو نئے امریکہ کے ورثے میں ملے۔
20 جنوری کو صدر بائیڈن نے پیرس معاہدے کی بحالی کے لیے دستاویز پر دستخط کردیے تھے، جس کے بعد معاہدے کے مطابق گذشتہ دنوں باقاعدہ امریکہ باضابطہ طور پر معاہدے کا حصہ بن گیا۔ بائیڈن انتظامیہ کے مطابق ’’پیرس معاہدہ عالمگیر اقدام کے لیے ایک بے مثال فریم ورک ہے۔‘‘ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ’’ہم یہ بات جانتے ہیں۔ کیوں کہ ہم نے اس کی تیاری میں مدد دی اور اسے ایک حقیقت بنایا۔ اس کا مقصد ناصرف سادہ بلکہ وسیع بھی ہے، یعنی ہم سب کو کرۂ ارض کی تباہ کن حدت روکنے اور دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات کے خلاف مضبوطی پیدا کرنے میں مدد دینا، جو ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں۔2016ء میں جس طرح اس معاہدے میں ہماری شمولیت یادگار تھی اور جیسی آج ہماری اس میں دوبارہ شمولیت ایک یادگار لمحہ ہے، آنے والے ہفتوں، مہینوں اور برسوں میں ہمارا کام اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔آپ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو ہر سطح پر اپنی اہم ترین اور دوطرفہ اور کثیرطرفی گفت و شنید کا حصہ بناتے دیکھ چکے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔ ایسی بات چیت میں ہم دوسرے رہنماؤں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس معاملے میں ہم مشترکہ طور پر مزید کام کیسے کرسکتے ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی اور سائنسی سفارت کاری ہماری خارجہ پالیسی کے مباحث میں دوبارہ کبھی ’’فاضل چیز‘‘ نہیں بن سکتی۔ موسمیاتی تبدیلی کے حقیقی خطرات سے نمٹنا اور اپنے سائنس دانوں کی بات سننا ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قومی سلامتی، مہاجرت، صحت کے شعبے میں عالمگیر کوششوں اور ہماری معاشی سفارت کاری و تجارتی بات چیت کا لازمی عنصر ہے۔ ہم تمام محاذوں پر دنیا کے ساتھ دوبارہ ربط قائم کر رہے ہیں جس میں 22 اپریل کو موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر صدر کی منعقد کردہ رہنما کانفرنس بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ ہم ’’سی او پی 26‘‘ کو کامیاب بنانے کے لیے برطانیہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے انتہائی متمنی ہیں۔‘‘
نئے امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا ہوا اور ایران عظیم مشرق وسطیٰ میں ایک سخت گیر و ناقابل شکست طاقت ور مملکت کی صورت میں امریکہ کے مقابل جم کر کھڑا رہا۔ ٹرمپ نے ایران کو دباؤ میں ڈالنے کے لئے سخت پابندیاں بھی عاید کیں اور 2018ء میں پنے ہی سابق صدر اوباما کے معاہدے کو منسوخ کرکے خطے میں جنگ کی کیفیت پیدا کی۔ ایران نے امریکہ کے مقابل شام، عراق، لبنان، یمن، سعودی عرب اور عرب ممالک میں سخت مزاحمت کی۔ یہاں امریکہ، ایران کو اپنی پالیسی سے ہٹانے میں ناکام رہا اور ایران نے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام کو شروع کردیا۔ ایران کا کہنا تھا کہ’’اس نے یورینیم کی افزودگی کا عمل 20 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔‘‘ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے 2015ء کے جوہری معاہدے سے دوری اختیار کرنے کے بعد یہ ایران کی تازہ ترین کارروائی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس پر یورینیم کی افزودگی بہت کم کر دی گئی تھی، تاکہ جوہری توانائی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔‘‘
ایرانی تیل کی ترسیل کو روکنے کے لیے امریکہ نے سخت تادیبی کارروائیاں کیں، لیکن ایرانی جواب میں امریکی اتحادیوں کی آئل تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس سے پوری دنیا میں تیل کی رسد میں کمی واقع ہوئی اور عرب ممالک اپنے قدرتی قیمتی وسائل کے تحفظ کے لیے امریکا پر منحصر ہونے لگے۔ دوسری جانب ایران کی اہم شخصیات جن میں جنرل قاسم سلیمانی سمیت جوہری سائنس دان محسن فخری زادے کے قتل سے خطے میں ایرانی ممکنہ ردعمل سے عظیم مشرق وسطیٰ پر جنگ کے مزید مہیب سائے مسلط ہوگئے ۔
صدر بائیڈن نے ایران سے تعلقات کی بحالی کے لیے ’’میونخ سلامتی کانفرنس‘‘ سے ورچوئل خطاب میں عندیہ ظاہر کیا، جسے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت دی گئی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے سے متعلق دوبارہ سے مذاکرات شروع کرنے میں دلچسپی اس لیے رکھتا ہے تا کہ ایسی غلطیاں نہ کی جائیں جن سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید خراب ہو۔ بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ انہیں شفافیت اور بہتر بات چیت کے ذریعے اسٹریٹجک غلط فہمیوں اور غلطیوں کو کم سے کم سطح پر لانا ہوگا۔ ان کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا، جب ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی اس صورت میں بند کرنے کو تیار ہوگا کہ اگر امریکہ ان کے ملک پر عائد پابندیاں اٹھالے۔ امریکہ نے ایران کو جوہری معاہدہ میں واپس لانے کے مزید دو اہم اقدامات بھی کیے اوراقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عاید کرنے کی قرار داد مؤخر کردی اورایرانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر بھی چھوٹ دے دی۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے ای تھری سے معروف برطانیہ، فرانس، جرمنی کے گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دیے گئے بیان پر ایران نے بھی مثبت ردِ عمل دیا۔ چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اگرایران جے سی پی اُو اے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی مکمل پاس داری کرتا ہے، تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا اور وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔‘‘
امریکہ نے ایران مخالف سعودی عرب کو یمن جنگ میں مزید اسلحہ کی فراہمی روکنے کی دھمکی دی، تو دوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام میں واپسی کے لیے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے سے قبل معائنہ کاروں کو ایٹمی تنصیبات کے مشروط معائنے کی اجازت دے دی۔اس سے قبل ایران کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران پر لگائی گئی پابندیاں رواں ماہ 23 فروری تک ہٹانا شروع کر دے۔ ورنہ وہ بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کرنے والے ماہرین کو اس کی جوہری تنصیبات کے معائنے سے روک دے گا، تاہم ایران نے اپنی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہ ہونے پر بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے ادارے کو مختصرنوٹس پراپنی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ عالمی جوہری توانائی کے ادارے ایجنسی کے سربراہ "Rafael Grossi” نے تصدیق کی ہے کہ23 فروری سے نافذالعمل ہونے والے ایرانی قانو ن کے تحت ایران عالمی ایٹمی ادارے کے ماہرین کومختصرنوٹس پراپنی جانب سے مقررہ اورخفیہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا،تاہم انہوں نے کہاکہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی کی مہلت میں تین ماہ کی توسیع پررضامندی ظاہر کی ہے ۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں اپنائی گئی پالیسیوں کو صدر بائیڈ ن پرانے امریکہ کی طرف لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم جہاں امریکی صدر مفاہمت کی پالیسی کا اظہار کرتے ہیں، تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے ٹرمپ پالیسی کے تحت فریقِ مخالف کو کاربند ہونے کے لیے مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ نئے امریکہ کا چہرہ پرانی شکل کا عکاس ہوگا۔ کیوں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں مخصوص صدارتی مدت تک محدود نہیں ہوتیں۔ عظیم مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت کئی ایسے معاملات گھمبیر ہوچکے ہیں کہ بائیڈن کے لیے پیرس معاہدے کی طرح فی الفور واپسی کا عمل دشوار گذار نظر آتا ہے۔ امریکہ اس وقت کرونا وبا کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے، جس میں 520,792 سے زائد امریکیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ معیشت کی بحالی سمیت دنیا میں واحد طاقت کا اجارہ دار بننا ہر امریکی کا خواب ہے۔ اس لیے صدر بائیڈن کی مفاہمتی پالیسیاں دراصل ٹرمپ انتظامیہ کا دوسرا روپ بھی قرار دی جا سکتی ہیں، جس میں سخت لہجوں اور دھمکیوں کی بجائے سفارتی انداز اور عالمی طاقت ہونے کے فطری غرور کو ختم کرنا مشکل ہوگا۔نسل پرستی کو کم کرنا اور کرونا وبا کے خاتمے کے بعد امریکہ اگر پرانا امریکہ بن کر واپس بھی لوٹتا ہے، تو پرانے امریکہ کا رویہ اور روش بھی مثالی نہیں کہ اس پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے