120 total views, 1 views today

24 فروری کو پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل اُو سی)پر جنگ بندی پر سختی سے عمل درآمد کرنے پر اتفاق کا اعلان کرکے ایک عالم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
کنٹرول لائن کے دونوں اطراف، طاقت کے عالمی مراکز اور اقوامِ متحدہ نے اس اقدام کا بھرپورخیر مقدم کیا ۔ اس پیشرفت سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ دونوں ممالک میں حالتِ جنگ کی مسلسل کیفیت برقرار رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔
امید ہے کہ یہ محض ایک وقتی ٹیکٹیکل(شاطرانہ چال) نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں طویل المیعاد اسٹرٹیجک فکر کار فرما ہو، جو بتدریج نہ صرف دونوں ممالک کے منجمد سفارتی اورتجارتی تعلقات کی بحالی اور سب سے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے جامع مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرے۔
5 اگست 2019ء سے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے اطراف آباد شہریوں کی زندگی جہنم زار بن چکی ہے۔ اگرچہ ایل او سی کے آر پار فائرنگ کرنا کوئی نیا یا غیر معمولی واقعہ نہیں، تاہم کوروناوائرس کی مہلک وبا نے مقامی لوگوں کو دوہرے خطرہ سے دوچار کیا۔ متعدد افراد اپنی زندگی سے محض اس وجہ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کہ وہ علاج کے لیے گھروں سے باہر جانے سے قاصر تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں گذشتہ چار سالوں میں بھارتی فوجی چوکیوں سے فائرنگ کی وجہ سے 49 خواتین اور 26 بچے موت کے منھ میں چلے گئے۔
کشمیری رہنماؤں بشمول میر واعظ عمر فاروق، محبوبہ مفتی اور فاروق عبد اللہ نے جنگ بندی کے اعلان کو خاص طور پر سراہا۔ اگرچہ سازشی تھیوریوں کے ماہرین جنگی بندی کے اعلان کو ایک بڑے گیم پلان کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں، جو تنازعۂ کشمیر کو بغیر کسی سمجھوتے کے دفن کرسکتا ہے۔
بعض افراد اس اعلان کو 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف بھی قراردیتے ہیں۔
سری نگر میں مقیم سینئر صحافی یوسف جمیل نے جنگ بندی کے اعلان کے اگلے ہی دن ٹویٹ کیا: ’’آج مَیں نے بہت سارے لوگوں کے ساتھ انٹرویو کیا تھا۔ ان میں سے اکثر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کہیں کنٹرول لائن کو مستقل سرحد نہ بنا دیا جائے۔‘‘
یہ ٹویٹ اشارہ کرتا ہے کہ معاشرے کا ایک اہم طبقہ اپنے مستقبل اور آنے والے مہینوں میں ممکنہ سیاسی پیشرفت میں کشمیری قیادت کے کردار کے تعین کے بارے میں کافی فکر مند ہے۔
عمومی طور پر خیال کیا جاتاہے کہ جنگ بندی کوئی اتفاق نہیں بلکہ برطانوی حکام کے ذریعہ دونوں ممالک کے مابین ایک کامیاب بیک چینل کا نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے ہی بھارت کے ساتھ امن اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل پر زور دے چکے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی سری لنکا کے دورے میں جنوبی ایشیا میں تجارت اور روابط کو فروغ دینے کے لیے بالخصوص بھارت کے ساتھ امن اور مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
بھارت کی مجبوریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تمام تر سیاسی چالوں اور سرمایہ کاری کے باوجود بھارت 5 اگست کے فیصلے کو جائز عمل کے طور پر قبول کرانے اور حکمران بی جے پی کو سیاسی حمایت فراہم کرنے پرکشمیری عوام کو راضی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسلوں کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سے محض تین نشستیں حاصل کرسکی۔ بھارت نواز سیاسی جماعتیں بھی تمام تر لالچوں اور دھمکیوں کے باوجود آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی ہیں۔ مزید برآں مسئلہ کشمیر عالمی منظر نامہ سے بھی غائب نہیں ہو رہا۔ جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے لے کر برطانوی پارلیمنٹ تک حالیہ ہفتوں میں مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی، جس میں انہوں نے تاریخ میں پہلی بار کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی کے خدشے کا اعتراف کیا۔ نئی دہلی کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے جواب دہ بنانے کا مطالبہ کافی توانا ہوچکا ہے۔ نمایاں بین الاقوامی ادارے اس مطالبے کی اب پشت پناہی کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس، صدر جو بائیڈن نے امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاسوں میں دوبارہ شامل ہونے کا اعلان، اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ امریکہ کے لیے انسانی حقوق اس کی خارجہ پالیسی کا اہم جزورہے گا۔
ہیگ میں قائم انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) میں بھی امریکہ دوبارہ شمولیت کا ارادہ ظاہر کرچکا ہے۔ اس تناظر میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے کشمیر میں بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہ ہوگا۔ سیز فائر کے اعلان سے بھارتی میڈیا میں کافی جوش و خروش پیدا ہوا۔
بہت سارے سینئر تجزیہ کاروں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت میں مزید اقدامات کی پیش گوئی کی ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہاہے کہ سارک کانفرنس کے پاکستان میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت کا امکان ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے چند ماہ کے دوران میں بھارت اور پاکستان کے مابین اعتماد سازی کے ڈرامائی اقدامات متوقع ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
کشمیری عوام کو امید ہے کہ حالیہ جنگ بندی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہوگی، بلکہ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے اور وادیِ کشمیر سے فوجوں کے جزوی انخلاکا عمل شروع کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہوگی، تاکہ موجودہ سیاسی گھٹن کا خاتمہ ہو اور سیاسی سرگرمیاں از سرِ نو شروع ہوسکیں۔
سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے 4000 سے زائد سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بھارت کو مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا اس ازسر نو رتبہ دینا ہوگا اور ان آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے بھی جامع قانون سازی کرنا ہوگی۔
قارئین، یہ بات پلو باندھ لیں کہ اگر ٹھوس اقدامات پر عمل نہ کیا گیا، تو فائر بندی کا اعلان کشمیریوں کی توقعات پر پانی پھیرنے کے متراف ہوگا اور نہ یہ ’’سیزفائر‘‘ زیادہ دیر تک قائم رہ سکے گا۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے