211 total views, 1 views today

(خصوصی رپورٹ) سوات کے مرکزی اور سب سے بڑے شہر مینگورہ میں ٹریفک کا ازدحام لوگوں کے لیے وبالِ جاں بن گیا ہے۔ ریاستِ سوات دور میں والیِ سوات نے مینگورہ کی سڑکیں اُس وقت موجود پانچ تا دس گاڑیوں کے لیے بنائی تھیں جس پر اب ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں چل رہی ہیں۔
مینگورہ شہر کی سڑکیں کتنی ہیں؟
اس حوالہ سے ایس پی ٹریفک سوات شاہ حسن کا کہنا ہے کہ مینگورہ شہر کی مین سڑکیں 17 کلومیٹر ہیں۔ بائی پاس اور لنک روڈز کی تعداد 11.5 کلومیٹر ہے۔ کل ملا کر مینگورہ شہر کی سڑکیں 27.7 کلومیٹر ہیں۔ ان پر روزانہ 58 تا 65 ہزار گاڑیاں چلتی ہیں۔ اگر ان پر سڑک کے دونوں اطراف چار میٹر کے حساب سے گاڑیاں کھڑی کردی جائیں، تو 12 ہزار گاڑیاں ہی کھڑی ہوسکتی ہیں۔ مینگورہ شہر میں پارکنگ کی کل 13 جگہیں ہیں۔ اگر یہ تمام فل ہوجائیں، تو ان میں 2000 گاڑیاں کھڑی ہونے کی گنجائش ہے۔ شہر میں کل 33 بس سٹینڈ یا اڈے ہیں جن میں بھی اگر تمام گاڑیاں کھڑی ہوجائیں، تو 4068 گاڑیوں کی گنجائش ہی ہے۔
رکشوں کی تعداد کتنی ہے؟
مینگورہ شہر میں رکشہ یونین کے ساتھ رجسٹرڈ رکشوں (ان میں "چنگ چی” شامل نہیں) کی تعداد 13 ہزار سے زائد ہے، لیکن ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد دُگنی ہے۔ کیوں کہ ان میں ہزاروں کی تعداد میں محکمۂ ایکسائز کے ساتھ غیر رجسٹرڈ رکشے بھی سڑکوں پر چل رہے ہیں۔
ٹریفک پولیس کی تعداد کتنی ہے؟
موجودہ ڈی پی او کی تعیناتی سے پہلے ٹریفک پولیس کی تعداد 350 تھی، جسے اب بڑھا کر 500 کے قریب کر دیا گیا۔ ایس پی ٹریفک کے مطابق اس وقت شہر میں گاڑیوں کی فی گھنٹ رفتار دس کلومیٹر ہے۔ اب پولیس کی کوشش ہے کہ یہ رفتار 20 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹا کی جائے۔
مینگورہ شہر کی آبادی کتنی ہے؟
مئی 2017ء کی مردم شماری میں مینگورہ شہر کی آبادی 3 لاکھ 32 ہزار تھی لیکن موجودہ صورتِ حال میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ  اب تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔ مینگورہ شہر میں شانگلہ، بونیر، دیر، باجوڑ اور دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں خاندانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے میدانی حصوں میں جگہ کم ہونے اور قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے باہر اضلاع سے آنے والے زیادہ لوگ پہاڑوں میں زمین خرید رہے ہیں جس کی قیمت میدانی علاقوں سے بہت کم ہے۔ اس وجہ سے رحیم آباد، اسلام آباد، امانکوٹ، فیض آباد، بالیگرام، چیل شگئی، بت کڑہ، کوہستان گٹ، فضاگٹ، زمرد محلہ، ملوک آباد اور دیگر علاقوں میں یا تو پہاڑی کے آخری سرے تک مکانات تعمیرات ہوچکی ہیں یا یا جاری ہیں۔
نان کسٹم پیڈ اور نان کسٹم پیڈ کٹ گاڑیوں کا قضیہ:۔
مینگورہ شہر میں نان کسٹم پیڈ، نان کسٹم پیڈ ’’کٹ‘‘ (جس پر ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی بھی ہے)، رکشے، موٹر سائیکلوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چمن اور لنڈیکوتل کے راستوں سے افغانستان سے جاپانی گاڑیوں کی سوات آمد کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ مقامی طورپر تیار ہونے والے رکشے یا تو بغیر نمبر پلیٹ کے روڈ پر دوڑ رہے ہیں، یا کسی ایک رجسٹرڈ رکشے کا نمبر دس، دس رکشوں استعمال کر رہے ہیں۔
موٹر سائیکل شہر کی ٹریفک پر الگ اثر ڈال رہے ہیں:۔
شہر میں قسطوں پر موٹر سائیکلوں کی فروخت کی وجہ سے ان کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ٹریفک رش میں اضافے کی وجہ ہے۔ اگر پولیس موٹر سائیکلوں سمیت ان غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے، توسیاست دان میدان میں کود پڑتے ہیں اور پولیس کو کام کرنے نہیں دیتے۔ اس کی وجہ سے غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہے۔
تجاوزات اور سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد بھی مسئلہ ہیں:۔
شہر میں تجاوزات، ہتھ ریڑھی اور چھابڑی فروشوں کی بہتات کی وجہ سے بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ سوات میں شورش سے پہلے اور اس کے بعد سڑکوں کی حالت اور خاص کر سیاحتی علاقوں کو جانے والی سڑکوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ چکدرہ سے کالام، چکدرہ سے براستہ لنڈاکے تا مدین، ملم جبہ اور کرنل شیر خان سے چکدرہ تک موٹر وے کی تعمیر، ملم جبہ میں صوبے کے پہلے فائیو سٹار ہوٹل اور چیئر لفٹ کی تعمیر کے بعد اب سوات کا سفر آسان اور آرام دہ ہوگیا ہے۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے پہلے سوات میں سیاح صرف موسمِ گرما میں آتے تھے، لیکن پچھلے سال سے ایسا کوئی مہینا نہیں کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح سوات کا رُخ نہ کر رہے ہوں۔ ہر روز آنے والے سیاحوں کے لئے 16 سو سے زائد ہوٹلوں میں جگہ کم پڑتی ہے۔ زیادہ تر سیاح پہلے مینگورہ میں قیام کرتے ہیں جس کے بعد وہ دوسرے سیاحتی علاقوں میں جاتے ہیں۔ یہ بھی شہر میں گاڑیوں کی رش کی وجہ ہیں۔
سول سوسائٹی کا کیا خیال ہے؟
سول سو سائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر حکومت آخری بار نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دے، کم پیسوں پر یہ گاڑیاں رجسٹرڈ کردے اور پھر قانون کے مطابق غیر قانونی گاڑیوں پر سخت پابندی لگا دے، تو کافی سہولت آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور دوسرے متعلقہ اداروں کو بلاخوف اجازت دے کہ وہ غیر قانونی گاڑیوں اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کریں۔ شہر میں مزید لنک روڈ اور جہاں ممکن ہو فلائی اوور بنا دیں، تو اس سے ٹریفک رش میں زیادہ حد تک کمی آسکتی ہے۔




تبصرہ کیجئے