209 total views, 1 views today

’’جمہوریت کی مضبوطی‘‘ واہ! کمال پاکستان میں آپ جمہوریت کی مضبوطی کی مثال دیکھیں، تو حیران رہ جائیں گے۔
جماعتِ اسلامی ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے لیکن جمہوری رویوں کے حوالے سے جائزہ لیجیے، تو موجودہ سینیٹ انتخابات میں حیران کن اور افسوس ناک رویہ بھی دیکھنے کو ملا۔ پنجاب میں پارٹی کے سینئر راہنما امیر العظیم کی تحریک انصاف کے راہنما سینیٹر اعجاز چوہدری سے ملاقات ہوئی (یہ وہی اعجاز چوہدری ہیں جو حالیہ سیٹلمنٹ کے نتیجے میں پنجاب سے بلامقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر بنے ہیں) امیر العظیم صاحب نے اعجاز چوہدری سے پارٹی کی سطح پہ سیٹلمنٹ کچھ یوں کی کہ جماعت اسلامی وفاق میں قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہی، سینٹ ووٹنگ کے عمل سے، اور یہی طرزِ عمل ان کا سندھ اسمبلی میں بھی رہا۔ یعنی سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے ممبران نے ووٹنگ کے عمل میں شریک نہ ہوکر بنیادی طور پر تحریک انصاف کی حمایت کی۔ کیوں کہ بطورِ اپوزیشن جماعت یہ ووٹ تحریکِ انصاف کے خلاف جانا تھا۔ یقینی طور پر یہ ایک جمہوری عمل ہے کہ کم از کم ووٹ حق میں نہیں دیں گے بلکہ غیر حاضر رہیں گے۔ یہاں تک بات مکمل طور پر درست ہے اور تمام جمہوری روایات کے عین مطابق بھی ہے۔ بے شک ہر پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بہتر فیصلہ کرسکتی ہے۔ اسی لیے جماعتِ اسلامی کے اس فیصلے پر اعتراض ہے اور نہ کوئی تنقید۔ لیکن یہاں ایک لمحہ آپ خیبر پختوانخوا کا جائزہ لیجیے، تو وہاں پہ جماعت اسلامی نے سیٹلمنٹ کی۔ اور وہاں کی سیٹلمنٹ پی ڈی ایم کے ساتھ تھی۔ یعنی پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف ووٹ دیا جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں۔ یہ نہ جانے کون سی جمہوریت کی مضبوطی ہے اور کون سی اخلاقی روایات ہیں کہ ایک جگہ پہ تو آپ اسی پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں اور دوسرے صوبے میں اس کے خلاف جا رہے ہیں؟ یہ چوں چوں کا مربہ یا آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ کیوں ہے؟ اگر وفاق میں اسی جماعت کے ساتھ باہمی رابطہ کاری کے ساتھ جمہوری عمل کا حصہ بننے کی بجائے الگ رہنے کو ترجیح دی (جس کا یقینی فائدہ حکمران جماعت کو ہوا ہو گا) تو پھر قومی سطح کی جماعت ہوتے ہوئے خیبر پختوانخوا اور بلوچستان میں وہی طرزِ عمل کیوں نہیں اپنایا جا سکا؟
یا پھر ہم یہ کہہ لیں کہ جماعتِ اسلامی قومی کے بجائے صرف علاقائی یا صوبائی پارٹی بن کر رہ گئی ہے؟
دوسری مثال جمہوریت کی ان سینیٹ انتخابات میں ملاحظہ کیجیے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا صاحب سے باز پرس شروع ہوئی۔ کیس چل نکلا، دوہری شہریت۔ پوچھا گیا جناب کہ ایسا کیوں ہے؟ صاحب نے کم و بیش ایک سال لگا دیا جواب دینے میں اور مختلف حیلوں بہانوں سے معاملے کو نہ صرف طول دیتے رہے بلکہ اس حوالے سے حقائق سے نظریں بھی چراتے رہے اور نا اہلی کی تلوار ان کے سر پر لٹکنے لگی۔ یہاں اداروں کے کردار پہ بھی سوال اٹھنا شروع ہوتے ہیں کہ اگر ایک کیس کا فیصلہ کرنے میں قومی سطح پر اتنی دیر لگے گی، تو عام پاکستانی کے مسائل حل ہونے کی پھر امید نا ہی رکھیں۔
سونے پہ سہاگا یہ ہوا کہ نا اہلی کے بڑھتے سائے میں ہی ان کو سینیٹ کے ٹکٹ سے نواز دیا گیا اوراب وہ سینیٹر بن چکے ہیں۔ جمہوری روایات کے ساتھ کھلواڑ دیکھیے کہ ایک شخص جس پہ نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور کسی بھی وقت چل سکتی ہے۔ یہ تلوار (جسے استعفا دے کر ٹالا گیا) وہ سینیٹ انتخابات کا امیدوار بن جاتا ہے، پارٹی ٹکٹ بھی دے دیتی ہے اور پھر وہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے فوراً بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفا بھی دے دیتا ہے، ساتھ ہی سینیٹر بھی بن جاتا ہے۔ یہ وہاں نہیں تو یہاں سہی۔ لیکن اس قوم اور ایوان کے ساتھ مذاق ضرور کرنا ہے۔ جو ایک جگہ نا اہل ہو وہ دوسری جگہ اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب نااہلی کی تلوار کند ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ نشست ہی جب نہ رہی تو نا اہلی کیسی؟
ہم نے نعرہ لگایا کہ سینیٹ انتخابات میں سے پیسے کی ریل پیل ختم ہو جانی چاہیے۔ بھلا ہو جمہوریت کے نام لیواؤں کا کہ انہوں نے انتخابات کو پیسے کی ریل پیل کم ہونے یا ختم ہونے کے باوجود جمہوری روایات کے مطابق ہونے نہیں دیا۔ ٹکٹس کی تقسیم سے لے کر انتخابات کے دن تک ایسے ایسے لطائف سامنے آتے رہے کہ جمہوریت کی قسمت پہ رونا آتا ہے۔ کہاں کا امیدوار کہاں کھپایا جاتا رہا، ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل میں امیدوار پروٹوکول پاتے رہے، کہیں باغیوں سے مڈبھیڑ ہوتی رہی اور کارکنوں کو لولی پاپ دیے جاتے رہے۔
بس یہی دعا ہے کہ خدایا، اس جمہوریت پہ رحم کر یہ بہت نازک حالت میں ہے۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے