112 total views, 1 views today

وزیراعظم عمران خان نے کوٹلی میں یومِ یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق کریں، تو انہیں حق دیا جائے گا کہ وہ اپنی مرضی کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
اُردو زبان پر کم گرفت کی بدولت یا پھر جوشِ خطابت میں بعض اوقات الفاظ کے انتخاب میں کچھ غلط سلط ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کی آئینی پوزیشن یہی ہے جس کا اظہار وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا۔
پاکستان میں ابھی تک تین آئین بنائے گئے۔ پہلا آئین 1956ء، دوسرا جنرل محمد ایوب خا ن نے 1962ء جب کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کا آئین پارلیمنٹ سے منظورکرایا۔ غالباً257 ایک ایسی آئینی دفعہ ہے جو تینوں دستوروں میں برقرار رکھی گئی۔
پاکستان کا پہلا آئین، وزیرِاعظم چودھری محمد علی کی کوششوں سے معرضِ وجود میں آیا۔ چودھری صاحب کا شمار متحدہ ہندوستان میں چوٹی کے مسلمان سرکاری افسران میں ہوتا تھا۔ وہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بااعتماد ساتھیوں میں ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔ آئین کی کشمیر کے حوالے سے دفعہ ان ہی کے ذہنِ رسا کی تخلیق کردہ ہے۔ اپنے عہد کے قانونی جادو گر ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی اس دفعہ کو برقراررکھا۔ حالاں کہ ان کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ شملہ معاہدہ کے بعد آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ 1973ء کا آئین محض ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مرضی سے قوم پر مسلط نہیں کیا تھا، بلکہ دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں خاص طورپر مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفوراحمد، شاہ احمد نورانی اور عبدالولی خان کی اس آئین کی ایک ایک شق کو مکمل رضامندی اور تائید دستیاب تھی۔
اب 257 کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیے: ’’جب ریاست جموں اور کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے، تو پھر پاکستان اور ریاست کے مابین تعلقاتِ کار کا فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔‘‘
پاکستان کے کشمیر پر بیانیہ میں ملکی آئینی پوزیشن اور اصولی مؤقف پر گفتگو کم اور اکثر جذباتی اور وقتی مفادات کے زیرِ اثر گروہ اپنی اپنی ہانکتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا آئین کشمیریوں کی تائید اور رضا مندی کو فیصلہ سازی کے عمل میں بنیادی محور گردانتا ہے اور جمہوری طرزِ عمل کی نشان دہی کرتا ہے۔ ’’پاکستان میں شامل ہونے کے بعد بھی کشمیریوں کی مرضی سے ریاست جموں وکشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلقاتِ کار طے پائیں گے‘‘ کا مطلب ہے کہ کشمیریوں کی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کو ترجیح دی جائے گی اور ان پر کوئی مخصوص حل مسلط نہیں کیا جائے گا۔ آئین، کشمیر کے تئیں پاکستان کی اس سوچ کی عکاسی کرتاہے۔
پاکستان محض کشمیر کی سرزمین، پانی کے ذخائر یا پھر قدرتی وسائل کے حصول کی غرض سے اس مسئلہ کے ساتھ وابستہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق دلوانا اور انہیں اپنی تقدیر کا مالک بنانا ہے۔ یہ طرزِعمل پاکستان کو بھارت پر اخلاقی برتری عطا کرتاہے اور اس کے مؤقف کے لیے عالمی حمایت بھی پیدا کرتا ہے۔ نفسیاتی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر اخلاقی برتری پاکستان کی طاقت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودھری محمدعلی جو تحریکِ پاکستان کا حصہ تھے اور ظہورِ پاکستان جیسی کتاب کے مصنف بھی، نے آئین میں واضح طور پر کشمیری عوام کی رضامندی کو پاکستان کے ساتھ تعلقاتِ کار میں تعین کی بنیاد قرار دیا۔ اس زمانے میں چودھری غلام عباس، سردار ابراہیم خان، سردار عبدالقیوم خان اور کے ایچ خورشید بقیدِ حیات تھے اور ان کی تائید اس آئینی دفعہ کو حاصل تھی۔
وزیرِاعظم عمران خان نے کوٹلی میں جو کچھ کہا وہ اس آئینی مؤقف کی عوامی زبان میں تشریح تھی۔ امریکہ میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، مظفر آباد کے ایک جلسے کے علاوہ انہوں نے جرمن ریڈیو ’’ڈویچے ویلے‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی انہی خیالات کا اظہار کیا۔ لہٰذا یہ کوئی نئی بات نہیں اور اس پر سیاست چمکانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں۔
سوشل میڈیا پر وزیراعظم خان کے اس بیان کی بے پناہ پذیرائی بھی دیکھنے کو ملی۔ خاص طور پر کشمیریوں کے اندر جو نظریاتی اور سیاسی تقسیم ہے، وہ اس حکمت عملی کے دوٹوک اظہار سے کم ہوجاتی ہے۔ خود قائداعظم محمد علی جناح نے ستمبر اور اکتوبر 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ کے ساتھ جاری بیک ڈور ڈائیلاگ میں ایسی ہی پیشکش کی تھی کہ کشمیریوں کی شناخت، جغرافیائی وحدت اور داخلی خود مختاری کو برقرار رکھ کر بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جاسکتاہے۔
کوٹلی جلسہ اس اعتبار سے بھی منفرد تھاکہ نہ صرف میرپور ڈویژن بلکہ آزادکشمیر بھرسے ہزاروں شہری اور خاص کر نوجوان جلسے میں شریک ہوئے۔ تحریکِ انصاف آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے پورا ہفتہ کوٹلی میں عوام کو متحرک کرنے کے لیے لگایا۔ بیرسٹر سلطان بلاشبہ عوام کو متحرک کرنے اور بڑے عوامی اجتماعات کرانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ چناں چہ عوام کا ہجوم دیکھ کر خود وزیراعظم عمران نہ صرف مسرور ہوئے بلکہ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے متاثرین کے لیے خصوصی مالی پیکیج کا بھی اعلان کردیا۔ حالاں کہ وہ پہلے ہی تین ارب سے زائد کی خطیر رقم کنٹرول لائن کے متاثرین کے لیے محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کرنے کے لیے فراہم کرچکے ہیں۔
پانچ فروری کے موقع پر مظفرآباد میں پی ڈی ایم نے بھی ایک جلسہ کیا، جو کچھ جلسے میں کہا گیا وہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کو داخلی سیاست کے لیے بازیچۂ اطفال نہ بنایاجائے۔ قومی سلامتی کے دیگر امور جیسے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہے، ملکی وحدت کا سوال ہے یا چند اور امور جن کو جلسے جلوسوں میں ’’فٹ بال‘‘ نہیں بنایا جاتاکہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی یکسوئی اختیار کی جانی چاہیے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر کشمیر کا استعمال زیادتی نہیں بلکہ ظلمِ عظیم ہے۔ یاد رہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں جو کچھ بھی پاکستانی میڈیا میں چھپتایا نشر ہوتا ہے، وہ سری نگراور سوپور کے گلی کوچوں میں بھی اسی طرح زیرِ بحث آتا ہے جس طرح مظفرآباد کی مدینہ مارکیٹ میں۔ پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں جوہری تبدیلی کی۔ یہ موقع تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یک زبان ہوکر عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرتیں، لیکن افسوس! اپنی اپنی ڈفلی سب بجاتے رہے۔ کشمیر پر سودے بازی کے عنوان سے حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کرنے کا فیشن بن چکا ہے، جس میں اگرچہ رتی بھر حقیقت نہیں، لیکن رائے عامہ کو گمراہانہ رُخ دینے کے لیے اس سے بہتر اور کیا امرت دھارا ہوسکتاہے؟
کشمیریوں کے حوصلوں کو پست کیا گیا۔ عالمی برادری کو غلط پیغام دیا گیا۔ اہلِ پاکستان کے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کو کھوکھلا کیا گیا۔ یہ سب کچھ انجانے میں ہوا یا اس بیانیہ کی ڈو ر کہیں اور سے ہلتی ہے؟ اس کا فیصلہ تو مؤرخ کرے گا، لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس بیانیہ نے ’’کشمیر کاز‘‘ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
اس صورتِ حال پر صرف غالب کا یہ شعر صادق آتاہے کہ
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو، تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے