87 total views, 1 views today

جو بائیڈن کے برسرِ اقتدار آنے پر پوری دنیا خوش آئند تبدیلی کی منتظر ہے۔ بالخصوص پاکستان کو ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں کہ پاک افغانستان سرحدوں پر جنگ کی صورتِ حال میں بہتری آئے گی اور بھارت کے ساتھ جاری قیام امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی، لیکن شاید نہ ہو سکے بلکہ ممکنات ہیں کہ صدرجوبائیڈن ماضی کی امریکی پالیسی کا تسلسل جاری رکھیں۔
امریکہ میں بااثر لابیاں ہرگز نہیں چاہتیں کہ امریکہ مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرے، بلکہ یہ اسلام دشمن طاقتیں امریکی حکام کو اسلام کا ڈراوا دے کر انہیں مسلمانوں کے خلاف سرگرمِ عمل دیکھنا چاہتی ہیں۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ’’دوحہ مفاہمتی معاہدے‘‘ پر جوبائیڈن انتظامیہ نظرِ ثانی کرنا چاہتی ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ امن معاہدے میں طے پانے والے تمام نِکات کا احترام کریں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ امریکہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا (افغان) طالبان دہشت گرد گروہوں سے رابطے منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد میں کمی اور اس سے متعلق کیے گئے اپنے تمام وعدوں پر عمل پیرا ہیں یا نہیں؟
یاد رہے کہ دوحہ مفاہمتی عمل معاہدہ، سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی اُس جنوبی ایشیائی پالیسی کا حصہ ہے، جس میں 20 برس قبل افغانستان میں چھیڑے جانے والی جنگ سے افواج کی واپسی کی کوششیں اوباما دور ِ حکومت سے شروع کی گئی۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن امریکہ کے نائب صدر کی حیثیت سے افغانستان پالیسی کا حصہ و زمینی حقائق سے کماحقہ آگاہ ہیں۔ اوباما نے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے کئی مہینے بعد ’’افغان پالیسی‘‘ کا اعلان کیا۔ صدر اوباما کی افغان پالیسی کے مطابق 2009ء میں 30 ہزار سے مزید امریکی فوجی بھیجنے اور تین برس کے اندر فتح حاصل کر نے کا دعوا ظاہر کرکے بیشتر فوجیوں کو واپس بلانا تھا۔ اوباما کی افغان پالیسی میں افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت کے دائرے اور استعداد بڑھانے کی منصوبہ بھی شامل تھی۔ صدر اوباما کی جانب سے افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے کا فیصلہ متوقع قرار دیا گیا تھا۔ کیوں کہ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلی مک کرسٹل نے 40 ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کرتے ہوئے فتح حاصل کرنے کے لیے ایک برس کا ٹائم فریم دیا تھا۔ اُس وقت افغانستان میں ایک لاکھ اور 35 ہزارنیٹو فوجی موجود تھے، جو امریکی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے نا کافی تصور کیے جا رہے تھے۔
اوباما کے بعد صدر ٹرمپ نے افغانستان میں ’’فتح‘‘ حاصل کرنے کی کوشش کی اور جنوبی ایشیائی پالیسی میں پاکستان کے خلاف جہاں ہرزہ سرائی و سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سخت رویہ اختیار کیا، تو بھارت کی جانب جھکاؤ کو بڑھا دیا، لیکن بھارت کی خوفزدگی اور پاکستان مخالف سازشوں کی وجہ سے افغانستان کا مسئلہ مزید گنجلک ہوتا چلا گیا۔ بالآخر صدر ٹرمپ نے پاکستان سے کلیدی کردار ادا کرنے کی درخواست کی اور پاکستان (جو روزِ اوّل سے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی مفادات کا خیال رکھتا رہا ہے) نے دوحہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرکے صدی کا تاریخی معاہدہ کرانے میں افغان طالبان اور امریکہ انتظامیہ کے درمیان معاہدہ کو اصولی قرار دے کر اہم کامیابی حاصل کرلی، جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع کیے جانا تھا، لیکن کابل انتظامیہ کی جانب سے کئی ایسے معاملات میں رخنہ ڈالا گیا، جس سے ’’انٹرا افغان ڈائیلاگ‘‘ شروع ہونے میں کافی قیمتی وقت ضائع ہوا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا سلسلہ جاری رکھا اور اہم ملٹری بیس بھی خالی کرنا شروع کردیے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے کرسمس تک تمام امریکی فوجی واپس بلانے کی خواہش کا ارادہ بھی ظاہر کیا، تاہم محکمۂ دفاع پینٹاگون کے اعتراض کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔
جو بائیڈن انتظامیہ کے وزیرِ دفاع ’’لائیڈ آسٹین‘‘ کی جانب سے دوحہ معاہدے پر نظرِ ثانی کے حوالے سے اہم بیان سامنے آیا، تو گمان کیا گیا کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ختم ہوسکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق امریکہ کو کسی ایسے اقدام کرنے سے روکیں گے۔ کیوں کہ بیس برس کی لاحاصل جنگ میں امریکہ نے سوائے کھربوں ڈالرز کے نقصان کے علاوہ ثانوی کامیابی بھی حاصل نہیں کی اور افغانستان کی سرزمین کے بڑے حصے پر افغان طالبان کی مکمل عمل داری ہے۔ کابل انتظامیہ سمیت غیر ملکی فورسز کا 60 فیصد سے زائد حصے پر معمولی کنٹرول بھی نہیں۔لہٰذا امریکی نئی مہم جوئی کا فیصلہ تباہ حال امریکہ کے لیے بہت مشکل فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ ضرور ممکن ہے کہ امریکی افواج کی باقی ماندہ تعداد کو اُس وقت تک افغانستان سے واپس نہ بلایا جائے، جب تک کابل انتظامیہ کے ساتھ افغان طالبان کسی معاہدے پر متفق نہیں ہوجاتے۔ امریکہ کے لیے افغانستان میں جاری پُرتشدد واقعات کا نہ رکنے کی بنیاد ہی کافی ہے کہ جب تک کامل جنگ بندی نہیں ہوتی، امریکہ، افغانستان سے مکمل انخلا نہیں کرسکتا۔ افغان طالبان بھی دوحہ معاہدے کو توڑنے میں عجلت سے کام لینے سے گریز کریں، تاہم کابل انتظامیہ کے ساتھ جہاں مذاکراتی عمل کی آس برقرار رکھی جائے گی، تو دوسری جانب افغان سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آنے کے امکانات قوی ہیں۔ کیوں کہ طے شدہ ایجنڈے کے مطابق افغان طالبان، ان اسیروں کو رہا کرانے میں سنجیدہ ہے، جو دوحہ معاہدے کے علاوہ کابل انتظامیہ کی تحویل میں ہیں۔ دونوں فریقین کے پاس اسیر تبادلے کے لیے موجود ہیں، تاہم کابل انتظامیہ کے اسیروں کے مقابلے میں افغان طالبان کی بڑی تعداد کو رہائی دینے سے کابل انتظامیہ شش و پنج کا شکار ہے۔ کیوں کہ اس طرح افغان طالبان کی جنگی قوت میں اضافہ ہورہا ہے۔
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ معاہدے کے مطابق اہم شق افغان طالبان اسیروں کی رہائی اور تبادلہ عمل میں آچکا ہے۔ اب افغان طالبان یہ چاہتے ہیں کہ دوحہ معاہدے کے مطابق امریکہ اقوامِ متحدہ کی ’’بلیک لسٹ‘‘ سے افغان طالبان کے رہنماؤں کے نام نکالنے اور سفری پابندیوں کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے، جو دوحہ معاہدے میں امریکہ نے اپنی ذمے داری قرار دیا ہے۔ افغان طالبان کے دعوؤں کے مطابق انہوں نے دوحہ معاہدے کے بعد غیر ملکی افواج پر حملہ نہیں کیا، تاہم امریکہ نے معاہدے کی پاس داری نہیں کی اور عام شہریوں کے علاوہ افغان طالبان پر فضائی حملوں میں شریک رہے ہیں، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے، تاہم اس کے باوجود افغان طالبان نے معاہدے کو ختم نہیں کیا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ معاہدے کے مطابق امریکہ اُن سے طے کی جانے والی دستاویزات کے مطابق عمل کرے، غیر ملکی افواج کے انخلا کو مکمل کرے اور افغانستان میں مداخلت کو ختم کردے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد دنیا جوبائیڈن کی جنوبی ایشیائی پالیسی، بالخصوص افغان امن عمل پر باقاعدہ ریاستی مؤقف جاننے کی منتظر ہے، تاہم صدر جوبائیڈن کی جانب سے جنوبی ایشیائی پالیسی بالخصوص افغان اسٹریجی جلد آنے کے امکانا ت کم دکھائی دیتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ ایران، چین اور افغانستان میں امریکی مفادات کے لیے ٹرمپ پالیسی پر معمولی تبدیلیاں ممکن تو ہوسکتی ہیں، تاہم جس طرح جوبائیڈ ن نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی 17 ایگزیٹو آرڈر پر دستخط کرکے اہم معاملات پر یکسر پالیسی تبدیل کی۔ افغانستان، ایران اور چین کے معاملے پر ایسا امکان کم نظر آرہا ہے۔ صدر جو بائیڈن مشرقِ وسطیٰ سمیت عظیم مشرقِ وسطیٰ پر اسٹریجک پالیسی پر تحمل کے ساتھ اہم فیصلہ سازی کرسکتے ہیں۔
افغان طالبان کے ساتھ فی الوقت مئی2021ء تک دوحہ معاہدے کو کوئی خطرات درپیش نظر نہیں آتے۔ نئی امریکی انتظامیہ، پاکستان کے توسط سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ضرور کرے گی، لیکن امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان بھی اتنا ہی کرسکتا ہے، جتنا اس نے کیا۔ یہ بھی امریکی انتظامیہ بہت اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں پاکستان کو نظر انداز کرنے کی روش امریکی مفادات کے لیے بار آور ثابت نہیں ہوئی۔ لہٰذا بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات سمیت دفاعی معاملات میں پاکستان کو پرانی پوزیشن پرخو د امریکہ کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ کابل انتظامیہ اپنی اقتدار کی مدت بڑھانے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے صدر جوبائیڈن کو گمراہ کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، لیکن صدر جوبائیڈن امریکہ کے روایتی و انتہائی تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ اوباما انتظامیہ کا حصہ ہونے کے باعث افغان مسئلے کے تمام امور سے وہ کماحقہ واقف بھی ہیں۔
امریکہ پہلے ہی افغان طالبان کی مزاحمت کو انسرجنسی قرار دیتے ہوئے تسلیم کرچکا ہے کہ ان (افغان طالبان) کے عزم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکی اور حد سے زیادہ حفاظتی انتظامات میں گھرے ہوئے کابل پر جس وقت بھی چاہتے ہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سابق صدر بارک اوباما نے لاکھ سے زائد فوج کی موجودگی کے باوجود 33 ہزار فوجی مزید بھجوا کر دیکھ لیا ہے کہ تعداد کی زیادہ ہونے سے پہلے بھی افغان طالبان کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ 2012ء میں اگر امریکہ اپنے وعد ے کے مطابق انخلا مکمل کرلیتا، تو آج دس برس بعد پینٹاگون بند گلی میں کھڑا نہ ہوتا۔ دس برس قبل امریکہ اپنی افواج پر سالانہ 29 ارب ڈالر خرچ کرتا رہا ہے، جس میں ہر برس اضافہ ہی ہورہا ہے، تاہم نقصان عام افغان شہریوں کا ہو رہا ہے، جسے پنیٹاگان حکام ’’کولیٹرل ڈیمج‘‘ قرار دے کر افغان طالبان پر ذمے داری ڈال دیتا ہے۔ زیادہ تر امریکی افغان جنگ کے نتائج سے خوش نہیں۔ انٹرنیشنل کرائس گروپ (آئی سی جی) کئی برس قبل اپنی رپورٹ میں بتا چکا ہے کہ افغانستان میں امریکی مداخلت بُری طرح ناکام ہوچکی ہے۔امریکہ اپنے بیان شدہ اہداف حاصل کرنے میں کسی اعتبار سے بھی کامیاب نہیں رہا ہے۔ لہٰذا افغان اسٹیک ہولڈرز کو اپنے عوام کے لیے فروعی مفادات کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ کیوں کہ اندرونِ خانہ جنگ اور اختلافات سے ماسوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں ہورہا۔ افغان طالبان کی جدوجہد اور کابل انتظامیہ کا مؤقف خطے میں امن کے لیے کڑوے اور سخت فیصلے کرنے کا منتظر ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں سے افغان عوام کی تین نسلیں اپنی آبائی وطن سے دور کسمپرسی اور نامساعد حالات، مایوسی اور بے یقینی کے ساتھ پل رہی ہیں، جس کے مضر اثرات سے ہزاروں سال کی تاریخ رکھنے والی قوم کی بقا اور سلامتی کو مستقبل میں خطرات کا سامنا ہے۔ اس کی ذمہ داری بلاشبہ یکساں طور پر تمام فریقین پر عائد ہوگی۔
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے