85 total views, 1 views today

ہفتۂ رفتہ میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر ہونے والی بحث نے دل خوش کردیا۔ گذشتہ برس کورونا کی مہلک وبا کے پھوٹنے کے بعد کشمیر، عالمی منظر نامہ سے لگ بھگ غائب ہی ہوگیا تھا۔ دنیا کو اپنی جان کے لالے ایسے پڑے کہ جلسے جلوس اور ملاقاتوں کا سلسلہ ہی رک گیا۔ بالخصوص مغربی ممالک میں پارلیمنٹ کے اجلاس یا پھر عوامی مظاہرہ کا تصور ہی باقی نہ رہا۔ عالمی اداروں اور حکومتوں کے نزدیک انسانی حقوق کے تحفظ سے زیادہ انسانی جانیں بچانا ضروری تھا۔
کشمیر کی بازگشت عالمی ایوانوں میں گونجنا بند ہوئی، تو مقبوضہ کشمیر کے اندر حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے گئے۔ دوسری طرف کشمیر کے اندر کورونا کی یلغار نے شہریوں کی زندگی مزید اجیرن کر دی۔ کورونا اور لاک ڈاؤن سے جو بچا، اسے فکرِ معاش نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ معاشی سرگرمیاں معطل ہیں۔ 35 سے 40 لاکھ کشمیری سیب کی پیداوار اور فروخت کے بیوپار سے وابستہ ہیں۔ یہ کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔ سیاحت کا حال نہ پوچھیں۔ معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ 17,818,18 بھارتی کروڑ کا مالی نقصان کشمیریوں کو اس ڈیڑھ سال میں برداشت کرنا پڑا۔ بھولنا نہیں کہ بھارتی روپے کی قدر پاکستانی روپے سے دوگنا ہے۔ کورونا، لاک ڈاؤن اور سست رفتار انٹرنیٹ کی بدولت طلبہ کانہ صرف تعلیمی نقصان ہوا، بلکہ وہ دنیا کے دیگر طلبہ کے برعکس انٹرنیٹ سے بھی استفادہ نہ کرسکے۔
صحافیوں کے لیے بھی گذشتہ ڈیڑھ برس کا عرصہ اذیت ناک رہا۔ آزادانہ رپورٹنگ اور تجزیہ کاری کے لیے حالات سازگار نہیں رہے۔ کوئی صحافی سرکار کی مرضی کے برعکس خبر شائع کرتا ہے، تو اسے پولیس اسٹیشن حاضری دینا ہوتی ہے۔ انورادھا بھسین کے انگریزی اخبار ’’کشمیر ٹائمز‘‘ کو زبردستی بند کردیا گیا۔ دہلی کے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر کو تالہ لگادیا گیا۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والوں کو بھی حراست میں لیاجاتاہے۔
بی جے پی حکومت کی کشمیر پالیسی کا مرکزی نکتہ طاقت، جبر اور شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ چناں چہ سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ہر طرف سیکورٹی فورسز کی چوکیاں بنائی گئیں۔ شوپیاں اور سری نگر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات رونما ہوئے۔ پولیس کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ شوپیاں میں ہونے والے مقابلے میں ہلاک ہونے والے تین نوجوان بے گناہ تھے۔ انہیں محض انعام کی خاطر سیکورٹی فورسز نے شہید کیا۔ سری نگر میں چند ہفتے قبل ہونے والے جعلی مقابلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی نہ ہونے کی بدولت نوجوان کی قابلِ ذکر تعداد زیرِ زمین سرگرمیوں کا حصہ بن گئی۔ بھارتی دفاعی ذرائع نے تسلیم کیا کہ 80 فی صد عسکریت پسند مقامی ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کے اندازوں کے برعکس عسکری کارروائیوں میں کمی آئی اور نہ حالات میں بہتری۔ لائن آف کنٹرول پر بھی اس عرصے میں غیر معمولی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
دفاعی ذرائع کا دعوا ہے کہ گذشتہ 18 برسوں میں لائن آف کنٹرول پر اتنی فائرنگ نہیں ہوئی، جتنی محض گذشتہ ایک برس کے دوران میں ہوئی۔
چند ہفتے قبل ڈسٹرک ڈویلپمنٹ کونسل کے الیکشن کرائے گئے۔ امید تھی کہ کشمیری الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے اور بی جے پی تمام ضلعوں میں اپنے نمائندے منتخب کرالے گی۔ بھارت نواز کشمیری جماعتوں نے باہمی مشاورت سے متفقہ امیدوار میدان میں اتارے۔ چناں چہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی محض تین نشستیں حاصل کرسکی۔ سیاسی سطح پر پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے کا یہ منصوبہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔
اس پس منظر میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر ہونے والی بحث نے یہ ثابت کیا کہ ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو زیادہ دیر تک سردخانے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے حوالے سے بی جے پی حکومت پر کھل کر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی پہلو سے کشمیر کے حالات ایسے نہیں جن پر خاموشی اختیار کی جاسکے۔ چند ایک ارکان نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، یورپی یونین کے انسانی حقوق کمیشن اور دہلی میں تعینات برطانوی ہائی کمیشن کے ارکان کو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رسائی فراہم کی جائے، تاکہ وہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے بارے میں آزادی کے ساتھ معلومات جمع کرسکیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین سمیت کئی ایک ادارے اب دوبارہ کشمیر کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ برطانوی سیاست دانوں کے لیے مسئلہ کشمیر آج بھی خطے کے امن اور استحکام کی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ان کی تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کی حکومت کی عدم توجہی کی بدولت یہ مسئلہ سات دہائیاں قبل پیدا ہوا اور ابھی تک اس خطے کے لیے ایک رستا ہوا ناسور بنا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں کشمیر ی تارکینِ وطن کی ایک بہت بڑی تعداد برطانیہ میں آباد ہے، جو بہت سرگرم ہیں اور اپنے وطن کے حالات کے بارے میں فکر مند بھی۔ وہ ان ارکانِ پارلیمنٹ کو کشمیر کے حالات سے مسلسل باخبر رکھتے ہیں۔
امید ہے کہ کشمیر پر امریکہ میں جوبائیڈن کی لیڈرشپ میں ایک بار پھر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا مسئلہ اجاگر کیا جائے گا۔ جوبائیڈن نے اپنی صدارتی مہم کے دوران میں کشمیر کے تنازعہ کے حل کا وعدہ بھی کیا تھا۔ علاوہ ازیں بھارت نژاد امریکیوں نے جس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بعدازاں امریکی میڈیا نے دکھا یا کہ کیپیٹل ہل کے سامنے ہونے والے مظاہروں میں بھارتی شہری بھی شریک تھے اور وہاں بھارت کا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا۔ بی جے پی کے حامیوں نے امریکہ کے الیکشن میں کھل کر ٹرمپ کی حمایت اور مدد کی۔
غالب امکان ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کو اس کا احساس ہوگا اور وہ کشمیر کے حوالے سے نسبتاً بہتر طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے گی۔
یہ پیشِ نظر رہے کہ ری پبلیکن روایتی طور پر انسانی حقوق کے معاملات پر زیادہ سرگرم اور جانب دار کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیاں بعد میں آتی ہیں، اس کے آثار لندن کے ایوانوں میں پہلے نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ کورونا کی ویکسین کی آمد سے حالات میں اگر سدھار آتا ہے، تو پھر عالمی سطح پر کشمیر پر لابنگ کا دروازہ کھل جائے گا، لیکن جب تک اس مسئلہ کو سردخانے میں جانے سے پچانا ہے۔ عالمی برادری کے ذہن میں اس کی اہمیت اور حساسیت کو تازہ رہنا اور رکھنا چاہیے۔
…………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے