158 total views, 2 views today

راقم چوں کہ کچھ عرصہ سے رنگ روڈ کے متاثرین کے ساتھ مل کر اس حکومتی ظلم کی حد تک شیادتی کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔ سو اس حوالہ سے راقم متاثرین کی کمیٹی کا ممبر ہے اور اس سلسلے میں راقم کو مختلف قسم کی سیاسی و انتظامی قیادت سے ملنا کا موقع ملتا ہے۔ راقم اب تک تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے ذمہ داران سے مل چکا ہے۔ چند دن قبل اسی سلسلے میں راقم کو پیپلز پارٹی (پی پی) سے ملنے کا موقع ملا۔ مشکور ہوں پی پی ضلع راولپنڈی کے صدر محترم ظہیر سلطان چوہدری اور میرے عزیز دوست محترم بدر بشیر کا، جو نہ صرف سکہ بند جیالے ہیں بلکہ پی پی ضلعی لیبر ونگ کے نائب صدر بھی ہیں کہ جنہوں نے راقم اور دوسرے کمیٹی ممبران کی ایک ملاقات کا بندوبست سیکریٹری جنرل پی پی اور سابقہ سینٹ چیئرمین جناب نیئر بخاری سے اہتمام کیا۔
راقم کو کلر سیداں میں وقت دیا گیا جہاں محترم نیئر بخاری صاحب نے سابق وزیراعظم اور بانی پی پی جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ راقم کی ملاقات وقتِ مقررہ پر اہم ذمہ داران سے کروادی گئی۔ ضروری مذاکرات کے بعد تقریب کی کارروائی شروع ہوگئی۔ راقم کو بحیثیتِ صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار کے ضلعی چیئرمین جناب ظہیر چوہدری کی طرف سے رکنے کا حکم صادر ہوا۔ چوں کہ راقم بذاتِ خود بھٹو صاحب کی شخصیت کا مداح ہے، اس وجہ سے اس تقربب میں شرکت کو خود واسطے اعزاز سمجھا۔
تقریب میں حسبِ معمول مختلف ذمہ داران کی جانب سے بھٹو صاحب کی شخصیت و کردار پر مثبت گفتگو کی گئی۔ اس کے بعد ہر جماعت کی طرح روایتی طور پر کارکنان کے گلے شکوے ہوئے، جس کو نیئر بخاری اور چوہدری ظہیر صاحب نے روایتی انداز اور خندہ پیشانی سے سنا۔ آخر میں دعا کے ساتھ پُرتکلف کھانے پر یہ تقریب ختم ہوئی۔
اس مختصر سی تقریب کے بعد راقم نے پی پی کے عروج و زوال پر غور کرنا شروع کیا۔ ویسے تو پی پی کے عروج و زوال کا راقم کی ذات کی حد تک تعلق نہیں، لیکن راقم بحیثیتِ ایک عام پاکستانی کے جائز طور پر یہ سمجھتا ہے کہ کسی بھی قوم و ملت واسطے ملک گیر سیاسی جماعتوں کا وجود اور مضبوطی ایک ضروری اور اہم جز ہوتا ہے۔ جب قومی جماعتیں ملکی سطح پر مقبول و مضبوط نہ ہوں، تو یہ ملکی سالمیت اور سیاست واسطے بہت ہی خطرناک امر ہوتا ہے۔ اس کا ایک مظہر ہم سنہ 70ء میں دیکھ چکے، اور 70ء کے بعد بے شک ملکی سطح پر مقبول ترین جماعت پی پی ہی تھی۔ پی پی کی سیاسی طاقت کے خوف سے دوسری تمام چھوٹی بڑی مذہبی و علاقائی جماعتیں متحد ہو جاتی جس کی وجہ سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا۔
پی پی کی کم یا زیادہ یہ حیثیت سن 2008ء تک مسلمہ رہی، لیکن 2008ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد پی پی الیکشن جیت کر بھی بس صوبۂ سندھ کے دیہاتی علاقوں تک محدود ہو گئی۔ پی پی کی سیاسی تنزلی کی وجہ سے آج ملک میں پھر ایک سیاسی خلا بن گیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد اب کوئی بھی جماعت یا راہنما چاروں صوبوں کی زنجیر کا دعوا نہیں کرسکتا۔ سو ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ سیاسی یا نظریاتی مخالف و حمایت اپنی جگہ، لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت ایک بار کم سے کم سطح تک اپنا مقام حاصل کرے۔
پی ٹی آئی کی ناقص کارگردگی اور مایوس کن نتائج نے ایک بار پھر ملک کے اندر سیاسی خلا مزید واضح کر دیا ہے۔ سو ان حالات میں پی پی کے پاس ایک بہتر موقع ہے کہ وہ دوبارہ سے خود کو عوامی سطح پر بحال کرسکے۔ پنجاب خاص کر شمالی پنجاب، پاکستان کی پارلیمانی سیاست کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور ٹھیک یا غلط یہاں پر اب میاں محمد نواز شریف کی حیثیت ایک مرکز کی بن گئی ہے۔ جس طرح پہلے ’’بھٹو‘‘ اور ’’اینٹی بھٹو‘‘ کی بنیاد پر سیاست کی تقسیم تھی۔ اس طرح اب شمالی و مرکزئی پنجاب میں یہ فلسفہ ’’نواز‘‘ اور ’’اینٹی نواز‘‘ ہو گیا ہے۔
مَیں مکمل ذمہ ذاری سے یہ بات کرسکتا ہوں کہ عمران خان کی مقبولیت میں جہاں اور عنصر تھے، وہاں ایک بڑی وجہ زرداری صاحب کی مفاہمت کی سیاست تھی۔ پی پی اپنی تشکیل سے ہی بائیں بازو کی مزاحمتی سیاست کا استعارہ رہی، اور جیالوں کو یہ زرداری صاحب کی مفاہمت اور ’’ری کونسی لی ایشن‘‘ کی سیاست بالکل سمجھ نہ آئی، جب کہ تب دوسری طرف ان کو ایک پُرجوش کرکٹر کہ جس کی عمومی شہرت ایک ایمان دار اور صاف گو شخصیت کی تھی، اور وہ نواز شریف کو کھلے عام للکارتا، تو پی پی کے کارکنان کو اس میں بھٹو نظر آتا۔ یوں شمالی پنجاب خصوصاً اور دوسرے علاقوں میں عموماً جیالوں کی ایک کھیپ پی ٹی آئی کی جانب رُخ کر گئی۔
دوسرا سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا یہ مشاہدہ ہے کہ پی پی کے کارکنان کا ذات کی حد تک صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ ہے ’’عزت نفس۔‘‘ باقی ان کی قیادت پر کیا الزام ہیں؟ ان کی جماعت کی حکومت ’’گڈ گورننس‘‘ واسطے کیسی ہے؟ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو پر ہر طرح کے الزامات لگے، لیکن جیالوں کی ہمدردیاں اور وفاداریاں ٹس سے مس نہ ہوئیں۔
میرا دعوا ہے کہ اگر آج پی پی مزاحمتی سیاست کا دوبارہ اجرا کرے اور کارکنان کو وہی عزت و مقام دے، تو یہ بہت جلد شمالی پنجاب، خیبر پختون خوا کے پختون بلٹ اور سرائیکی وسیب میں ایک دفعہ پھر 70ء نہیں تو 88ء والی مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔
سو اس سلسلے میں راقم پی پی کی قیادت کو ایک مشورہ مفت دینا اپنا حق سمجھتا ہے کہ درجِ بالا مشورہ پر عمل کرے اور فوری طور پر اپنی تنظیم سازی پر مکمل توجہ دے۔ ان سرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد ہو جائے۔ کیوں کہ پی پی کا کارکن اور ووٹر کوئی بھی سرمایہ دار خاص کر شمالی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے پختون بلٹ میں اگر کعبہ کا غلاف پہن کر بھٹو صاحب کو قبر سے زندہ نکال کر لے آئے، تب بھی جیالے اس کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پی پی کا خمیر ہی ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے سے نکلا ہے، اور اس کا اول و آخر ’’ٹارگٹ‘‘ صرف غریب عوام ہی رہا، لیکن بدقسمتی سے شاید کچھ زمینی محبوریاں، بھٹو صاحب کی پھانسی اور محترمہ کی الم ناک موت کی وجہ سے پی پی کچھ بنیادی سمجھوتوں پر مجبور ہو گئی کہ جس کا سیاسی خمیازہ اس کو بھگتنا پڑا، لیکن اب وقت کی گردش ایک دفعہ پھربدل گئی ہے۔ سیاسی حالات ایک بار پھر اس نہج پر آگئے ہیں کہ پی پی پی واسطے ایک بار پھر اپنی شان دار اور باوقار سیاسی واپسی ممکن بلکہ بہت حد تک آسان ہو گئی ہے۔ اب پی پی پی کی ہر سطح کی قیادت خواہ مرکزی ہو، صوبائی ہو، ضلعی ہو، حتی کہ تحصیل کی حد تک یہ لازم ہے کہ وہ نہ صرف ایک دفعہ پھر تمام تر توجہ رکنیت سازی پر دے، کارکنان سے براہِ راست رابطہ کرے، عہدوں اور ذمہ داران کا تعین قابلیت اور محنت کی بنیاد پر کرے، کارکنان کے عزتِ نفس کو بحال کرے اور اصل سیاسی طاقت کارکنان کی جدو جہد اور عوام کی طاقت کو سمجھے، تو کوئی وجہ نہیں کہ پی پی ایک دفعہ پھر بحال نہ ہو۔
اب جب کہ اس ’’جذباتی کلچر‘‘ کے مصداق قوم کے سامنے قیادت واسطے بے نظیر بھٹو کے بچے ہیں، بلاول بھٹو اور آصفہ چوں کہ بالکل تازہ چہرے ہیں، ان پر ذاتی طور پر کوئی داغ نہیں اور پھر بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی وراثت کے جائز وارث بھی ہیں۔ سو یہ سیاسی طور پر پی پی واسطے ایک مثبت اور مؤثر ہتھیار ہیں، لیکن اگر پی پی کی قیادت نے یہ موقع ضائع کر دیا، تو پھر شاید دوبارہ نہ ملے، اور ممکنہ طور پر دیہی سندھ سے بھی پی پی کا خاتمہ ہوجائے۔ کیوں کہ اس خلا کو بہرحال کسی نا کسی نے تو بھرنا ہے۔
آج کے دن تک ن لیگ اپنی سیاسی طاقت کے ساتھ بحال ہے، اور پی ٹی آئی تقریباً غسل کے پھٹے پر پہنچ گئی ہے۔ کل اگر غیر جانب دار انتخابات ہوتے ہیں، تو پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر بھی ہو، مشکل ہی ہے۔ سو اس سے پہلے کہ کوئی نئی سیاسی طاقت اس خلا کو پُر کر دے، پی پی کو اسے آخری جنگ سمجھ کر لڑنا ہوگا۔ نہیں تو یہ قابلِ افسوس بات ہی ہوگی کہ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر کشمیر کی وادیوں تک موجود بھٹو کی جماعت ختم ہو جائے گی، جو پی پی واسطے تو المیہ ہوگی ہی، لیکن بذاتِ خود یہ ملکی سیاست واسطے نیک شگون بالکل نہیں۔
اس تحریر کو پی پی سے ہمدردی کی سوچ سے نہ پڑھا جائے بلکہ راقم اور اس کا ادارہ تمام سیاسی جماعتوں واسطے یکساں نیک خواہشات رکھتا ہے۔
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے