65 total views, 1 views today

تحصیلِ بحرین جس کو اپنے مخصوص جغرافیہ اور ثقافتوں کی وجہ سے سوات کوہستان یا کوہستانِ سوات بھی کہا جاتا ہے، خیبر پختون خوا کے مشہور و معروف ضلع سوات کا خوب صورت ترین علاقہ ہے، جو رقبے کے لحاظ سے پورے ضلع کا 60 فی صد بنتا ہے۔ اپنی ثقافتی تنوع کے اعتبار سے یہ علاقہ شمالی پاکستان کے دوسرے کثیرالثقافتی (Multicultural) علاقوں کی طرح ممتاز ہے۔ یہاں توروالی، پشتون، گاؤری اور گوجر جیسی قومیں آباد ہیں جب کہ اوشوجو، کھو اور انڈس کوہستان سے ہجرت کرکے آئے ہوئے بھی کافی لوگ آباد ہیں۔
انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ اب سوات کی ساتواں تحصیل؍ سب ڈویژن ہے، جس کی آبادی تقریباً تین لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہے۔ یہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے (PK-2) : 2 اور قومی اسمبلی کی نشست این اے (NA-2) :2 کا حصہ ہے۔
یہ ایک بڑی وادی پر مشتمل ہے جو دریائے سوات کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ اسی مرکزی وادی کے ساتھ یہاں کئی ذیلی مگر خوب صورت وادیاں بھی ہیں۔ علاقے میں تین قصبے بحرین، کالام اور مدین مشہور ہیں۔ بحرین اس تحصیل کا انتظامی ہیڈکوارٹر ہے اور مرکزی قصبہ کہلاتا ہے، جب کہ مدین، تجارت اور صحت کی سہولیات رکھتا ہے۔ کالام نہ صرف اس علاقے کا بلکہ پورے ملک کا ایک اہم سیاحتی علاقہ ہے جو قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔
تحصیلِ بحرین 8 یونین کاؤنسلوں پر مشتمل ہے۔ مدین اور بحرین تین تین یونین کاؤنسلوں کے لوگوں کے تجارتی مراکز ہیں، جب کہ کالام پر دو یونین کاؤنسلوں کا تجارتی انحصار ہے۔ ہر یونین کاؤنسل اور ذیلی وادی کے اپنے منفرد مسائل اور وسائل ہیں۔ چند ایک مرکزی یونین کاؤنسل ترقی کے لحاظ سے دیگر یونین کاؤنسلوں سے بہتر ہیں۔ تاہم اس علاقے کو مجموعی طور پر جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں غربت، تعلیم کی کمی، انسانی حقوق کی پامالی، ناقص انتظامی امور، صحت کی بہتر سہولیات کا فقدان، ذیلی وادیوں میں ناقص مواصلاتی نظام، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات، سخت سردیاں، زمین اور جنگلات پر برادریوں، قوموں، قبیلوں اور گاوؤں کے بیچ تنازعات سرِفہرست ہیں۔ ویسے اس افراتفری، بدانتظامی، غفلت اور مفادات کے ہجوم پاکستان میں ایسی خواہشات کا پالنا حماقت لگتا ہے لیکن زندگی ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے: ناامید نہیں ہونا۔ اس لیے بقولِ شاعرہم
اک طرزِ تغافل ہے، سو وہ اُن کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے، سو ہم کرتے رہیں گے
کے مصداق اپنی تمنائیں ان سرد مہر درباروں میں پیش کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اس علاقے سے متعلق کچھ ایسی تمنائیں نیچے درج کیے دیتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ کبھی تو اس طرف اربابِ اختیار کی نظر پڑے گی۔ یہ ناممکن نہیں، بس اوپر سے سیاسی شعوری عمل (Political Will) چاہیے اور نیچے عوام کی طرف سے بیداری اور حرکت۔
٭مطالبات؍ تمنائیں:
1:۔ تحصیلِ بحرین میں جتنے پرائمری سکول ہیں، ان کی کل تعداد کے 50 فی صد کو مڈل کا درجہ دیا جائے۔ تمام مڈل سکولوں کو ہائی ، ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری، ہائر سیکنڈری سکولوں کو ڈگری کالجوں اور ڈگری کالج کو سوات یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس کا درجہ دیا جائے۔
2:۔ کالام میں سول اسپتال کو مکمل فعال، مانکیال اور بحرین میں دیہی مراکزِ صحت (Rural Health Units) کا قیام، اور بالاکوٹ، رامیٹ اور بشیگرام میں بی ایچ یو (BHUs) قائم کیے جائیں۔
3:۔ علاقے میں خودکشی جیسے واقعات میں ریاست، پولیس اور عدالت کے ذریعے خود مدعی بن جائے اور ایسے کیسوں کی شفاف تفتیش ریاست کے یہ ادارے خود کریں۔ ساتھ علاقے میں قانونِ وراثت کو ہر صور ت میں نافذ کیا جانا چاہیے اور اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔
4:۔ تحصیلِ بحرین میں ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ ذیلی وادیوں تک سڑکیں بنانی چاہئیں، مگر جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہیے۔ جنگلات کے تحفظ کو مقامی لوگوں کی شراکت داری سے یقینی بنایا جائے۔ علاقے سے ٹمبر کی سمگلنگ کو روکا جائے۔
5:۔ تحصیلِ بحرین کے نوجوانوں کو سیاحت کے انتظام، انصرام اور فروغ کے لیے بین الاقوامی اور پاکستانی اداروں سے تربیت دلائی جائے۔ سیاحت سے منسلک نئے کاروباری پیشوں (Entrepreneurship) کو نوجوانوں میں فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے ’’انکوبیٹر سینٹر‘‘ علاقہ ہی میں قائم کیے جائیں۔
6:۔ دریائے سوات پر یا اس کے ذیلی دریاؤں پر جتنے بھی پن بجلی منصوبے بن رہے ہیں، ان کو ایسا ڈیزائن کیا جائے کہ مقامی لوگوں اور ان دریاؤں کو نقصان نہ ہو۔ ان پن بجلی منصوبوں سے تحصیل بحرین اور پورے ضلع سوات کو فری یا سستی بجلی فراہم کی جائے، تاکہ کالام، بحرین، مدین اور ذیلی وادیوں میں جنگلات پر ایندھن لکڑی کا بوجھ ختم کیا جاسکے۔ ان منصوبوں کی ملازمتوں میں مقامی آبادی کو پہلی ترجیح دی جائے۔ صرف درکار پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کی صورت میں ان ملازمتوں کو دوسرے علاقوں کے لیے کھول دیا جائے۔
7:۔ سوات یونیورسٹی میں ایک الگ شعبہ یا سکول مطالعاتِ سوات (Swat Studies) کے نام سے قائم کیا جائے جس میں سوات کی قدیم اور موجودہ ثقافتوں، سوات کی تاریخ، سماجوں، سیاسیات اور زبانوں پر تحقیق ممکن ہو۔
8:۔ تحصیلِ بحرین میں باہمی تنازعات میں فریقین میں سے کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ ہو۔ ان تنازعات کا تصفیہ عدالتیں ہی کریں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عدالتی فیصلوں پر عمل در آمد یقینی بنائیں۔
9:۔ تحصیلِ بحرین میں ایسی کسی دقیانوسی سماجی روایت، سرگرمی اور رویے کی حوصلہ شکنی کی جائے جو انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بنے۔
10:۔ اس علاقہ کو سڑک کے ذریعے ضلع دیر بالا کے علاقے کمراٹ، ضلع چترال اور گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے ملایا جائے۔ یہ علاقہ پورے شمالی پاکستان کے جنوب میں اور اس کے دامن میں پڑا ہے۔ لہٰذا پورے شمالی پاکستان کی سیاحت کے فروغ میں تحصیلِ بحرین بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے