111 total views, 1 views today

ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس میں ممالک براہِ راست ایک دوسرے پہ حملہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف محلاتی سازشوں جیسی کارروائیاں کرنے لگے ہیں۔ بم برسانے کے بجائے لفظوں کے بم برسائے جا رہے ہیں۔ تھوڑے سچ کو زیادہ جھوٹ کا تڑکا لگانے کے بعد ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔
سائبر کرائم کی اس دنیا میں ممالک بھی ایک دوسرے کے خلاف سائبر وار فیئر اپنا رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ ’’ففتھ جنریشن وار فیئر‘‘ کا دور بھی شائد ختم ہونے کو ہے کہ اب ٹیکنالوجی نئی انگڑائی لینا شروع ہو چکی ہے۔ اور یہ انگڑائی اس قدر مضبوط ہے کہ ممالک اپنی داخلی سلامتی کے حوالے سے سنجیدگی سے نہ صرف ٹیکنالوجی کو اپنانے پہ مجبور ہیں بلکہ اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے بلٹ کے بجائے بٹن کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔
امریکہ اب بحری بیڑے دباؤ ڈالنے کے لیے بھیجتا ہے۔ باقی مقاصد وہ کنٹرولڈ میڈیا اور اپنی پراپیگنڈا ٹیم سے یا پھر بیک ڈور ڈپلومیسی سے حاصل کرتا ہے۔
٭ فیک نیوز، جعلی خبر:۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے، تو یہ ہم سنتے آئے اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اتنے بڑے پیمانے پہ جعلی خبروں کی پکار ہم نے اس سے قبل نہیں سنی تھی۔ روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات جعلی خبروں کے حوالے سے ہچکولے کھاتے رہے ہیں اور جعلی خبریں یقینی طور پر رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سائبر ورلڈ میں یقینی طور پر وہی آج کامیاب ہو رہا ہے جو پراپیگنڈا بہتر انداز میں کر سکتا ہے، اور اپنے پراپیگنڈے کو حقیقت سے قریب تر رکھ سکتا ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، مخاصمت کے زاویے بھی تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے باقاعدہ فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں۔ باقاعدہ ٹیکنالوجی کے ماہرین بھرتی کیا جانا شروع ہو چکا ہے۔
ترقی پذیر معاشرے اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ برائی جتنی تیزی سے پھلتی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کے خلاف برسر پیکار ہو جاتے ہیں۔
جعلی خبروں کی روک تھام کے حوالے سے بھی کچھ ایسا ہی ہے، جس کی مثال یورپی یونین میں کام کرنے والا ایک ادارہ ای یو ڈس انفو لیب (EU Disinfo Lab) ہے۔
2019ء میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوتی ہے جس میں کچھ نیوز ایجنسیز، میڈیا گروپس، شخصیات اور دیگر کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ عالمی اداروں کے ساتھ مختلف میڈیا گروپس اور غیر سرکاری تنظیموں کے مراسم کو بھی اس میں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور مزید تحقیقات کی ضرورت پہ زور دیا گیا، لیکن معاملہ نظروں سے اوجھل رہا۔ دسمبر 2020ء میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ جس نے عالمی اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کا سری واستو گرو، پندرہ سال سے جعلی خبروں کا بازار گرم، مشہور شخصیات کی شناخت کی چوری، غیر سرکاری تنظیموں کا ناموں کا دھوکا دہی سے استعمال، عالمی اداروں کے ساتھ دھوکا دہی کرنا، بیرونِ ملک مخصوص مفادات کا تحفظ ، کیا کیا گنوایا جائے……؟ فہرست کافی طویل ہے۔
"Commission to Study the Organizatoin of Peace” ’’سی ایس اُو پی‘‘ نامی تنظیم کے نام کا استعمال اس پورے مافیا کو چہرہ بے نقاب کرنے کا باعث بن گیا۔ جو کھیل پندرہ سال سے کھیلا جا رہا تھا، وہ شائد اب بھی سامنے نہ آتا، لیکن مکروہ چہرہ رکھنے والے فیصلہ سازوں نے غلطی یہ کر دی کہ ’’سی ایس اُو پی‘‘ کے آنجہانی بانی پروفیسر لوئیس کو بھی نہ بخشا۔
پروفیسر لوئیس بھی سوہن 2006ء میں وفات پا چکے ہیں، لیکن ان جعلی خبروں اور میڈیا کا مکروہ کھیل کھیلنے والوں نے انہیں 2007ء کی کانفرنس میں شریک مقرر کے شرکت کروا دی۔ بھانڈا پھوٹ گیا۔ 2005ء سے جاری اس پوری مہم کا مخاطب مکمل طور پر پاکستان تھا۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین تک کو استعمال کیا گیا۔ یورپین پارلیمنٹ کے ممبرز تک استعمال ہوگئے۔ جعلی میڈیا گروپس ترتیب دیے گئے، جعلی میگزین، جعلی اخبارات، جعلی ویب سائیٹس کا استعمال کیا گیا۔
کچھ عرصہ قبل "Free Balochistan” بینرز ہم سب نے جنیوا اور برسلز میں بسوں پہ دیکھے۔ یہ بھی اسی نیٹ ورک کی کارستانی تھی۔
اس نیٹ ورک کا روحِ رواں بھارت کا مشہور و معروف ڈیجیٹل میڈیا صحافتی گروپ اے این آئی (ANI) نکلا۔ اخلاقی اقدار کے پست ترین درجے پہ موجود اس نیٹ ورک نے انسانی حقوق کی اہم شخصیت پروفیسر لوئیس بھی سوہن کی جس طرح تذلیل کی ہے، متعلقہ ممالک کو کاروائی یقینی طور پر کرنی چاہیے۔
اس نیٹ ورک نے پندرہ سال سے پوری دنیا میں بھارت کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ دس ایسی غیر سرکاری تنظیمیں جو اپنے آپریشن عرصہ ہوا بند کر چکی تھیں اور وہ اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ تھیں، ان کا نام دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ تک رسائی حاصل کرلی گئی۔
فیک میڈیا کا ایک جال برسلز اور جنیوا میں پاکستان کے خلاف ترتیب دیا گیا۔ 750 سے زائد جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس بنائے گئے۔ یہی نہیں بلکہ سری واستو گروپ، اے این آئی اور اس عالمی نیٹ ورک کی جانب سے 550 سے زائد ویب ڈومین رجسٹرڈ کروائے گئے، جن میں سے اکثریت پاکستان کے مفادات کو ذِک پہنچانے کے لیے تھے۔ 1970ء میں بند ہو جانے والی تنظیموں کو اچانک 2005ء میں دوبارہ سے کھڑا کر دیا گیا۔ وہ بھی دھوکا دہی اور جعل سازی سے۔ ’’فرینڈز آف گلگت بلتستان‘‘ اور ’’فری بلوچستان‘‘ جیسی تنظیمیں بھی اسی نیٹ ورک کی کارستانی نکلی۔ یہ نیٹ ورک عالمی اداروں کی ناک تلے اتنا مضبوط ہوگیا کہ 2019ء کی تحقیقات اور شکوک و شبہات کے باوجود اس نے اپنے آپریشن ختم نہ کرنے کے ساتھ ابھی اس حالیہ رپورٹ پہ بھی چوں تک نہ کی۔
اس سائبر وارفیئر کا مقابلہ پاکستان کر رہا ہے اور بخوبی کر رہا ہے، لیکن یہاں سوال عالمی اداروں کی صلاحیت اور کردار پہ بھی اُٹھنا شروع ہوچکا ہے۔ کیسے ایک جعلی میڈیا گروپ اتنا بڑا نیٹ ورک بنا کے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین جیسے اہم اداروں تک پہنچ گیا اور پاکستان کے خلاف محاذ بھی کامیابی سے قائم کیااور چلایا؟ کس طرح 10 سے زائد اقوامِ متحدہ سے تسلیم شدہ غیر سرکاری تنظیموں کا نام استعمال اس نیٹ ورک نے کیا، اور اقوامِ متحدہ جیسا اہم ادارہ بے خبر رہا؟ کیسے یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کو کشمیر ، بنگلہ دیش، مالدیپ کے سفر اسپانسر کر دیے گئے اور یورپی پارلیمنٹ بے خبر رہی؟ انسانی حقوق کے نام لیوا کیسے نظر انداز کرگئے کہ انسانی حقوق کے قوانین کے باپ کہلائے جانے والے ’’پروفیس لوئیس بھی سوہن‘‘ کا نام بعد از موت استعمال ہوگیا اور انہیں خبر نہیں ہوئی؟ عالمی اداروں کو بھارت کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی، ورنہ تاثر یہی جائے گا کہ "FATF” جیسے اداروں میں پاکستان کے خلاف کارروائیاں دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہونے کے مترادف ہے۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے