190 total views, 1 views today

پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے، جہاں ایک اندازے کے مطابق ہر سال پچیس سے تیس ہزار افراد ٹریفک حادثات میں اپنی جان کھو دیتے ہیں اور ہزاروں افراد شدید زخمی اور مستقل طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔ صرف صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر روزانہ اوسطاً 700 ٹریفک حادثات ہوتے ہیں، جن میں ہر روز اوسطاً آٹھ لوگ جاں بحق ہوجاتے ہیں۔
روزبروز بڑھتی ٹریفک کے ساتھ حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کے باعث ہمیں ٹریفک حادثات کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے اور حکومتی سطح پر ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی کے لیے کیے گئے اقدامات میں معاونت کرنی چاہیے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی،گاڑی میں خرابی،اوورلوڈنگ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد المدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔ لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات تیز رفتاری کے غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ اوریہ ہی جان لیوا ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔ جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے، اس وقت تک ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں آئے گی۔ جب کہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں، مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا اور بیل گاڑی کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی مین وجہ بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے۔ جب کہ نو عمر افراد اپنے پُرجوش رویے کی وجہ سے ٹریفک قوانین کی پاس داری نہیں کرتے اور ٹریفک علامات کے سائن، اور اصولوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، بلکہ اکثر نوجوانوں تربیت یافتہ ہی نہیں ہوتے، اور ان میں موجود میں تیز رفتار گاڑی چلانے کا جنون بے شمار حادثات کا باعث بنتاہے۔
اس کے علاوہ موٹر سائیکل رکشہ کے اکثر ڈرائیور نابالغ اور نوآموز ہوتے ہیں، جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تک نہیں ہوتا۔ اس طرح ٹریفک قوانین سے لاعلمی کے باعث وہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ جب کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں کے سامنے غیر معیاری سپیڈ بریکرز بنا کر ٹریفک حادثات کاباعث بنتے ہیں۔
کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات میں موجود اوور ٹیکنگ کا شوق، اور ر تیز رفتاری کا جنون بھی جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ایجاد ہونے والا موٹر سائیکل ریڑھا بھی حادثات کا باعث بن رہا ہے جو کہ دور سے آتے ہوئے تو موٹر سائیکل ہی معلوم ہوتا ہے۔اس طرح روڈ کے اطراف میں موجودناجائز تجاوزات اور گاڑیوں کی غلط پارکنگ بھی حادثات کا باعث بنتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک روڈ سیفٹی کی قانون سازی، ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد، سٹرکوں کی تعمیر اور گاڑیوں کو محفوظ بناکر ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی لاچکے ہیں، لیکن پاکستان میں روڈ سیفٹی کے چند قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کی روش اختیار کی جائے، تو ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی ممکن ہوسکتی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس، ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ اس کے لیے صرف روڈ سیفٹی ایجوکیشن ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ جامع اقدامات کی بھی ضرورت ہے، تاکہ روڈ سیفٹی کو یقینی بناکر حادثات کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکے۔ جب کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر سخت سزائیں، اور کم عمر بچوں کے والدین کو بھی سزا کا مستحق ٹھہرایا جانا چاہیے، تاکہ کم عمر اور نوآموز ڈرائیوروں کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔
ٹریفک سے متعلق شعورکی بیداری کے لیے نصاب میں ٹریفک قوانین سے متعلقہ مضامین شامل کرنے چاہئیں، تاکہ نئی نسل کو مستقبل میں ٹریفک حادثات سے بچایا جاسکے۔ ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے حکومتی اقدامات کے علاوہ عام شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی پاس داری، اور سڑکوں کو حادثات سے محفوظ بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنے سفر کا آغاز مسنون دعا سے کر نا چاہیے اور دورانِ سفر جلد بازی سے اجتناب برتتے ہوئے دوسری ٹریفک بالخصوص پیدل افراد کا خیال رکھنا چاہیے۔
ریاست کے چوتھے ستون پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی عوام میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا شعور اُجاگر کرنے اور ٹریفک مسائل کے تدارک میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہر ٹریفک حادثے کے بعد اہلِ اقتدار کی جانب سے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر محض اظہارِ افسوس کافی نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ شہریوں میں روڈ سیفٹی سے متعلق سوچ اور رویوں میں بہتری کے لیے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ڈرائیورز حضرات کو ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا پابند کیا جانا چاہیے۔ سڑکوں کے درمیان موجود کھلے مین ہول ختم اور سڑکوں کی اطراف سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر سخت سزا، ڈرائیورز کو لائن اور لین کا پابند اور اور سلو موونگ گاڑیوں کے ڈرائیورز کو تربیت دی جانی چاہیے، تاکہ سڑکیں حادثات سے محفوظ اور شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی ہوسکے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر روڈ سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کا قیام اور روڈ سیفٹی سے آگاہی کے لیے ہر گھر، ہر سکول، کالج اور ادارے میں خصوصی مہم چلانی چاہیے، تاکہ روزبروز بڑھتے حادثات سے شہریوں کا تحفظ ممکن ہوسکے۔
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے