76 total views, 1 views today

قارئین! ہر پاکستانی بچے کو تعلیم دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے حکمران جماعت کے لیڈرز اور خاص کر عمران خان پچھلے ادوار کے حکمرانوں پر الزامات لگا لگا کر تھکتے نہیں تھے کہ ’’دہائیوں سے یہ لوگ پاکستان پر قابض ہیں، لیکن حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ حقیقت کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن لوگوں نے ان حکمرانوں سے بے زار ہوکر خاں صاحب پر یقین کرتے ہوئے ان سے ڈھیر ساری امیدیں باندھ لیں۔ جب خاں صاحب حکومت میں آئے، تو انہوں نے ان بے چارے اور معصوم لوگوں کی وہ ساری امیدیں خاک میں ملا دیں۔
وزیر اعظم بننے سے پہلے خان صاحب کہا کرتے تھے کہ وہ سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دیں گے، اور بجٹ کا زیادہ تر حصہ تعلیمی نظام کی بہتری پر ہی خرچ کریں گے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد شاید وہ اپنی پرانی باتیں اور وعدے بھول چکے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں تعلیم کا ستیا ناس جو کر دیا۔
وطنِ عزیز پاکستان میں تعلیم کی شرح کم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا معیار بھی بہتر نہیں۔ جس کی ڈھیر ساری وجوہات ہیں، لیکن سب سے بڑی وجہ حکومت کی عدم توجہی ہے۔
اب حکومت نے کورونا کی دوسری لہر کے باعث دوبارہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں بشمول مدارس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے طلبہ کا تعلیمی سال ایک بار پھر ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرحِ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کے سکول جانے کا رجحان بھی کافی کم ہو، بچے سکول جانے کی عادت ہی نہ بھلا دیں۔
آج اگر سکول بند ہوجاتے ہیں، تو طلبہ کا ایک نہیں بلکہ دو تعلیمی سال ضائع ہوجائیں گے۔ بعض بے حس طلبہ اور ان کے والدین کسی بھی صورت میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں، لیکن جب ان کا تعلیمی عمل پوری طرح تباہ ہوکر رہ جائے گا، یہ کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔ کیوں کہ قوم کے یہ بچے ’’ٹک ٹاک‘‘ اور ’’پب جی‘‘ بند ہونے پر خودکُشی کرنے کا سوچتے ہیں، جب کہ تعلیمی ادارے بند ہوجانے پر جشن مناتے ہیں۔
فیس بُک پر ایک بے حس صارف نے یہاں تک لکھا کہ ’’جب تک سورج چاند رہے گا، شفقت تیرا نام رہے گا۔‘‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’شفقت تو کنفرم جنتی ہے۔‘‘
قارئین! اگر واقعی تعلیمی ادارے بند کرنے سے کورونا کا سدباب ممکن ہے، تو بے شک بند کیے جائیں، لیکن یہ بچے گھروں اور بازاروں میں رہ کر کون سے احتیاطی تدابیر اپنائیں گے؟
ہم جو تعلیم کے علم بردار بنے بیٹھے ہیں، ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ان دو سال میں بچوں کا جو تعلیمی حرج ہوا ہے، یا جن بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے، اس کے لیے ہم نے کیا حکمتِ عملی ترتیب دی ہے، یا پھر کیا حکمتِ عملی ترتیب دے سکتے ہیں……؟
اسی طرح والدین کو بھی خدشہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے بچوں کی تعلیم سے رغبت ختم ہوجائے گی۔ بچوں کے سکول نہ جانے سے پریشان والدین کا کہنا ہے کہ ’’ہر سال سردیوں میں فلو کی وجہ سے جب کہ گرمیوں میں گرمی کی وجہ سے سکول بند ہوتے ہیں۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے یہ وائرس ختم ہو جائے گا……؟
میرا خیال ہے کہ تعلیمی ادارے بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اب ہمیں اس وبا کے ساتھ لڑ کر جینا ہے۔ لہٰذا حکومت لاکھوں طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں کی بندش کی بجائے ایس اُو پیز کے تحت تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی یقینی بنائے۔
کورونا سے نمٹنے کے لیے زمینی حقائق کے مطابق فوری اور ٹھوس اقدامات پر توجہ دے کر طلبہ کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے۔ حکومت کے علاوہ طلبہ کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ کیوں کہ اس فرسودہ نظام کی تبدیلی اب صرف طلبہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے