37 total views, 1 views today

حکومتی اشاریے خواہ کچھ بھی کہیں، نئے پاکستان میں پریشانی ہر چہرے سے عیاں ہے۔ تاجر حضرات معاشی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے فکر مند ہیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی نے ملک کے 85 فیصد متوسط طبقے کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔ غریب اور مزدور طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملک کے بیشتر افراد کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔ لوگ حالات سے مجبور ہوکر خود کشیاں کر رہے ہیں، بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں، مگر ان حالات میں بھی حکمران طبقہ عملی اقدامات کی بجائے محض اپنی ضد پر قائم ہے۔
دوسری طرف گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’اپوزیشن مہنگائی سے متعلق حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ معیشت خراب کرنے کے ذمہ دار اپنی سیاست بچانے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ تمام معاشی اشاریے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے رہنما اپنے دھرنوں، جلسوں اور ریلیوں میں بلند بانگ دعوے کرتے کہ ان سے بڑا عوام کا خیر خواہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ ملک سے مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کی بات کرتے، اور یہ بھی کہتے کہ ان کے دورِ حکومت میں غریبوں کو ریلیف ملے گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔ ان کے یہ دعوے سن کر عوام کو یوں لگا جیسے یہی ان کے مسیحا اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والے لوگ ہیں۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور تبدیلی کے دعوے داروں نے سب سے زیادہ عوام کو مایوس کیا۔ کیوں کہ جس دن سے پاکستان تحریکِ انصاف برسر اقتدار آئی ہے، عوام کو میسر تمام ریلیف اور سبسڈیاں ختم کردی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ روز بروز بڑھتی مہنگائی کا سلسلہ ہے کہ رکنے کو نہیں آرہا۔ آہ، وقت بدل گیا، دنیا بدل گئی، لیکن نہ بدلے تو ہماری عوام کے حالات ہی نہیں بدلے۔ ہماری قوم آج بھی حالات کی گردش میں ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دکان دار کے لیے دکان کھولنا مشکل، فیکٹری مالکان کے لیے فیکٹری چلانا مشکل، تاجر کے لیے تجارت کرنا مشکل اور کسان کے لیے کاشتکاری مشکل ترین ہوگئی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، آٹا، گھی، چینی سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے بہ حیثیت قوم ہم اس کشتی کے مسافروں کی طرح ہیں جو موجوں کے رحم و کرم پر ہو۔
ستم بالائے ستم یہ کہ ہر آنے والا حکمران جانے والے کو ملک کی معاشی بدحالی اور بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ملک و قوم پر قرضوں کے بوجھ اور خزانہ خالی ہونے کا قصور وار سابقہ حکمرانوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن موجودہ حکمران نئے طریقوں اورانداز سے قوم کو بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابقہ حکمرانوں کو چور کہنے والے موجودہ حکمرانوں کا کہنا ہے کہ وہ جاتے ہوئے سب لوٹ کر لے گئے۔ خزانہ ایسا خالی کیاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھال کر دیکھا تو خزانے میں کچھ بھی نہ تھا۔ سرکاری اداروں میں غیر قانونی بھرتیاں تھیں۔کرپشن کا ایسا بازار لگایا گیا تھا کہ دو اڑھائی سال سے ہم سراغ لگاتے لگاتے تھک گئے، لیکن سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں ختم نہیں ہو رہی ہیں۔ الغرض، اس طرح کی بے شمار باتیں کی جا رہی ہیں لیکن حسبِ روایت قوم کی حالت کی تبدیلی اور بہتری کے لیے ایک انچ بھی قدم نہیں بڑھایا گیا۔ آج تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں بھی کرپشن کی جا رہی ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں۔ بیورو کریٹس اور سرکاری افسران سے لے کر کلرک تک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تعاون نہیں کررہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ سابقہ حکمرانوں کے منظورِ نظر ہیں۔ چیف سیکرٹری، آئی جی سمیت اعلیٰ سطح افسران کو آئے روز تبدیل کیا جا رہا ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ مطلوبہ نتائج پھر بھی حاصل نہیں ہوپارہے؟ بیورو کریسی ہو یا پولیس کے اعلیٰ افسران، یہ حکومت کے احکامات پر قانون کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اس لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے اداروں اور افراد پر الزام لگانا مناسب نہیں، نہ یہ مسائل کا حل ہی ہے۔
موجودہ حکمران جو کل تک کہتے تھے کہ پٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ سے 45 روپے لیٹر زیادہ ہے، اب وہ عوام پر براہِ راست اثر انداز ہونے والے حکومتی ٹیکسوں میں پے در پے اضافہ کررہے ہیں، جس پر شہری چیخ رہے ہیں کہ اگر غریب پاکستانیوں کے زخموں کا مداوا کرنے کی بجائے مہنگائی اور گرانی کا سونامی ہی لانا تھا، تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت ان سے بہتر تھی۔
دراصل پاکستانی قوم گذشتہ 73 سالوں سے کبھی کسی فوجی ڈکٹیٹر تو کبھی کسی جمہوری حکومت کے دعوؤں اور وعدوں کے سہارے محض جوتیاں گھساتی چلی آئی ہے، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ آج قوم کا ہر فرد ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے، جب کہ یہاں محنت کش کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ پاکستان میں بد سے بدترین حالات میں جمہوری حکومتیں وجود میں آتی رہی ہیں، لیکن کسی حکومت کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ ابھی وہ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل بھی نہیں ہوتی اور جلد ہی عوام اس کی کارکردگی دیکھ کر مایوسی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت بھی جس رفتار سے چل رہی ہے، اس میں کردار سے زیادہ گفتار سے کام لیا جا رہا ہے اور کچھ کر دکھانے کی بجائے ہر روز ایک نئی طفل تسلی کا اعلان ہوجاتا ہے۔ یوں اڑھائی سالہ کے حکومتی اقدامات محض ہاتھ باندھنے کی حکمت عملی سے زیادہ نہیں۔ خطے کے حالات اور حکومت کی پے در پے ناکامیاں یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ اب ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے نہ موجودہ نظام میں رفوگری کی گنجائش ہی موجود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے، بنیادی اشیائے خور و نوش کی سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنا کر عوام کو روزگار اور عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرکے ملک سے معاشی بدحالی کو ختم کیا جائے۔
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے