34 total views, 1 views today

نفرت اور شرانگیزی کی علامت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتدار تمام ہوا۔ ہونا ہی چاہیے تھا۔ اسلاموفوبیا کو انہوں نے بھڑکایا۔ امریکہ کی سرزمین مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے تنگ کی۔ اسرائیل جو ارضِ فلسطین پر نہ صرف قابض ہے بلکہ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، کی پیٹھ ٹھونکی۔ ہمت اور شجاعت سے عاری عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو ہانک کر اسرائیل کے قدموں میں ڈھیر کرایا۔ کشمیر میں گذشتہ پندرہ ماہ سے انسانی تاریخ کا بدترین باب رقم ہو رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے کانوں پر جون تک نہ رینگی۔ ایران جسے بارک اوباما اور یورپی یونین نے ایک سمجھوتے کے تحت دوبارہ عالمی معاملات میں شراکت دار بنایا تھا، محض چند علاقائی ممالک اور شخصیات کی انا کی تسکین کی خاطر اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔ بھوک اور افلاس آٹھ کروڑ ایرانیوں پر مسلط کردی گئی۔
ٹرمپ کی سیاسی کامیابیوں نے دنیا میں نسل پرست اور لسانی گروہوں کی ہمت بڑھائی۔ یورپ میں ایسی جماعتیں اور گروہ مقبول ہونا شروع ہوگئے تھے، جو کثیر النسل معاشروں کے دشمن ہیں۔ سفید فام نسل کی دنیا پر بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں دنیا پر حکومت اور قیادت کا منصب سفید فام نسل کا حق ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ میں مسلمان خواتین ارکان کی تضحیک کرنے کا ٹرمپ موقع تلاش کرتے رہتے تھے۔ مودی اور ان کی جماعت کو ٹرمپ انتظامیہ سے غیر معمولی حمایت ملی، اس نے بھارت کے اندر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حیات اجیرن کی۔ ٹرمپ کو انسانی حقوق، سیاسی اور اظہارِ رائے کی آزادی سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات عزیز تھے۔ وہ ایک سرتاپا کاروباری شخصیت تھے۔ کارِ سلطنت کاروباریوں کا کام نہیں۔
جوبائیڈن کی صدارت میں دودھ اورشہد کی نہریں بہنے کی توقع نہیں، لیکن کم ازکم امریکہ جس طرح داخلی تقسیم کا شکار تھا، وہ سست پڑ جائے گی۔ شہریوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو زہر ٹرمپ اور اس کے حامیوں نے بھرا، اس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ مخالف سیاست دانوں کی انہوں نے بھد اڑائی۔ میڈیا کی ہتک کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ساتھیوں کو نکٹو اور چمپے جیسے نازیبا الفاظ سے پکارتے۔ بے شمار قابل مگر مختلف نقطۂ نظر رکھنے والی شخصیات کو انہوں نے کھڑے کھڑے اعلا عہدوں سے چلتا کیا۔ دنیا کے لیے وہ ایسی مثالیں قائم کررہے تھے جو خطرناک تھیں اور معاشروں کو تقسیم کرنے اور شہریوں کو باہم دست و گریباں کرنے پر منتج ہوتی تھیں۔
بائیڈن نے کملاہیرس کو نائب صدر کے طور پر منتخب کراکر دنیاکے جمہوریت پسندوں اور تکثیریت کے حامیوں کو مثبت پیغام دیا۔ یہ پہلی خاتون نائب صدر ہیں۔ وہ بھی سیاہ فام، جنوبی ایشیائی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ بارک اوباما کی صدارت کے اختتام کے بعد ایسا گمان ہوتا تھا کہ اب سفید فام امریکی کبھی کسی دوسری نسل کے سیاست دان کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیں گے، لیکن کملا کے انتخاب سے امریکیوں کے خواب اورامیدیں سب جاگ اٹھیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ بائیڈن امریکی پالیسیوں میں کیا بنیادی تبدیلیاں لائیں گے۔ کیوں کہ حالیہ الیکشن میں منشور اور اصولوں پر مباحثہ بہت کم ہوا۔ پاکستان کے الیکشن کی طرح ٹرمپ نے امریکی سیاست میں ذاتیات اور شخصی حملوں کو رواج دیا۔ انہوں نے بائیڈن پر ذاتی رکیک حملے کیے، انہیں کرپٹ تک کہا۔ امریکی اسٹبلشمنٹ کو ان کا حامی قرار دیا۔ بائیڈن کی کامیابی کو چین کی کامیابی قراردیا۔ چناں چہ پالیسی کے امور پر مباحثہ کم ہوا۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی سیاسی فکر اور بائیڈن کے سیاسی نظر یات کے پس منظرمیں یہ امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ ایران کے ساتھ وہ لچک دار طرزِ عمل اختیار کریں گے۔ قومی امکان ہے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں کم یاتمام ہوجائیں گی۔ مشرق وسطی کی سیاست پر اس کے گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور عرب ریاستوں کے ہوش بھی ٹھکانے آجائیں گے جو آج کل پاکستانی لیبر ز کو کھڑے کھڑے دیس نکالا سناتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے غالباً کچھ زیادہ نہیں بدلے گا۔ امریکی فورسز افغانستان میں موجود ہیں اور جلد امن کے امکانات کم ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو افغانستان میں امن کے تناظر میں ہی بائیڈن انتظامیہ دیکھتی رہے گی۔ البتہ بائیڈن غالباً ٹرمپ کے برعکس یک دم اور مکمل امریکی فوج کے انخلا کی اجازت نہیں دیں گے، جو پاکستان کی خواہش بھی ہے اور ضرورت بھی۔ کیوں کہ امریکہ کی مدد کے بنا افغانستان میں متحارب دھڑوں کو خانہ جنگی سے باز رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف بائیڈن بھی ٹرمپ ہی کی طرح سخت گیر پالیسی کے علمبردار ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں امریکہ اور بھارت فطری اتحادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ غالباً چین کے خلاف گذشتہ کئی عشروں سے جاری سرد جنگ میں نہ صرف تیزی آنے کا امکان ہے، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ ٹرمپ کے برعکس ڈیمو کریٹک پارٹی طاقت کا استعمال کرنے کی طرف زیادہ مائل رہی ہے۔ چناں چہ پاک چین اقتصادی راہداری ٹرمپ ہی کی طرح بائیڈن انتظامیہ کو بھی ایک آنکھ نہیں بہائے گی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی توقع عبث ہوگی۔ البتہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر بھارت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اگر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا، تو اس کے مثبت اثرات یورپی یونین پر بھی ہوں گے اور کشمیریوں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے
حرفِ آخر:۔ امریکہ کا الیکشن محض کسی ایک ملک کا انتخابی معرکہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر ملک امریکی فیصلوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ہم سب کی نظریں امریکی الیکشن پر گذشتہ کئی ہفتوں سے اس طرح جمی ہوئی تھیں، جیسے لاہور میں الیکشن کا معرکہ در پیش ہو۔ بے چارے ٹرمپ پر ترس آتا ہے۔ انہیں اُردو زبان پر عبور ہوتا، تو غالبؔ کا یہ شعر ’’ٹویٹ‘‘ کرتے کہ
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے