42 total views, 2 views today

آج کل ملک کا سیاسی درجۂ حرارت بہت بڑھ چکا ہے۔ اور سیاست میں ذاتی نفرت کا عنصر تاریخ میں کبھی اتنا نہیں رہا جتنا اب ہے۔
ایوب اور فاطمہ جناح کے دور میں بھی ایسا نہ تھا۔ بے نظیر بھٹو نواز شریف دور میں بھی نہ تھا۔ حتی کہ سن 77ء میں ذوالفقار علی بھٹو اور پی این اے کے دور میں بھی نہ رہا۔ اور اگر میں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ایسا ماحول کسی جمہوری دور میں ممکن ہی نہیں۔ اس سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ درجۂ حرارت وزیراعظم پاکستان خود بڑھا رہے ہیں۔ جلتی پر تیل وزیر اعظم کی ایما پر وزرا پھینک رہے ہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں، جس کے منھ میں جو آرہا ہے، وہ بولے جا رہا ہے۔
اُدھر حزبِ اختلاف نے کوئی معمولی سی سیاسی ہلچل کی، اُسی وقت حکومتی ایوانوں میں طوفان آجاتا ہے۔ تھوڑی بات بڑی بن جاتی ہے۔ ویسے منطق کا تقاضا یا مسلمہ اصول تو یہی ہے کہ ان حالات میں وزیراعظم خود آگے آتا ہے، اور وہ حزبِ اختلاف سے خود مذاکرات کرتا ہے۔ حتی الوسع کوشش کرتا ہے کہ درجۂ حرارت کم ہو۔ کیوں کہ اپوزیشن کی کوئی تحریک حکومت کا نقصان کرے یا نہ کرے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کا سماج اور معیشت پر براہِ راست برا اثر پڑتا ہے۔ ملک کا نقصان ہوتا ہے، لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس نازک دور میں ہمارے ملک میں ایک عجیب دماغ کا غیر سیاسی وزیراعظم مسلط ہے۔ جس کی نہ سیاسی دانش ہے، نہ حالات کا ادراک۔ سو اسی وجہ سے ہم بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔
حزبِ اختلاف بار ہا بات چیت کی پیشکش کرچکی ہے، لیکن حکومت نے ہر بار یہ پیش کش بہت رعونت سے ٹھکرا دی ہے۔ سو اسی وجہ سے اب حزبِ اختلاف نے بھی کمر کس لی ہے اور مکمل جوبن سے حکومت پر حملہ آور ہو گئی ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اس بند گلی میں موت کا انتظار کریں گے، کب تک؟ کیا اس کا کوئی حل نہیں! میرا خیال ہے کہ اس کا ایک سادہ اور آسان حل موجود ہے۔
٭ نمبر ایک، پاکستان کی عدلیہ لیڈ لے اور کسی بھی واقعہ یا پٹیشن پر فوری طور پر ایک براہِ راست اپنی قیادت میں ’’ٹروتھ اینڈ ری کونسی لی ایشن کمیشن‘‘ کا قیام کرے۔ یہ کمیشن جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا طرز پر ہو، جس کے ذمے یہ کام لگایا جائے کہ وہ ملک بننے سے آج تک کے تمام حالات کا ہر زاویہ سے جائزہ لے، تمام واقعات کی حقیقتوں کو تلاش کرے اور ہر شخص، ہر ادارے کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تعین کرے۔ اس کمیشن جو کہ براہِ راست چیف جسٹس کی قیادت میں ہو، میں ملک کے نامور وکلا، صحافی، دانشور، ریٹائرڈ بیورو کر یٹ جن میں ایف آئی اے، پولیس، آئی بی وغیرہ سے زیادہ ہوں۔ پھر ریٹائر فوجی افسران بشمول آئی ایس آئی، نیوی اور ائیر فورس ہوں۔ مزید سینئر سیاست دان اور سیاسی عہدیداران ان تمام افراد کے نام دو ماہ پہلے عوام کے سامنے لائے جائیں اور ان پر میڈیا میں اوپن بحث ہو ۔ اگر کوئی ممبر کسی بھی صورت میں متنازعہ سمجھا جائے، تو اس کو اس کمیشن سے نکال دیا جائے۔ تمام کمیشن کے ارکان کو میڈیا پر براہِ راست قرآنِ پاک کا حلف دیا جائے۔ اس کے بعد اس کمیشن کو ایک سال کا وقت دیا جائے اور پھر ان کی سفارشات کو عام عوام واسطے پبلک کر دیا جائے۔ اور مستقبل کی پالیسیوں کا تعین اس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے۔ تاکہ یہ مسئلہ ایک ہی دفعہ ہمیشہ واسطے حل ہو جائے، اور آئے دن غدار غدار کا منترا بند ہو۔
٭ دوسرا، آج کل کی صورتِ حال میں یا تو پاکستان علما کونسل یا پھر پاکستان بار کونسل قیادت کرے۔ صدرِ پاکستان کی قیادت میں ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں صدر کے ساتھ سپریم کورٹ کا ایک سینئر جج ہو۔ چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان ہوں۔ اس میں سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ ہوں۔ اس کے علاوہ سنیئر وکلا، سول سوسایٹی کے ارکان، نامور صحافی اور کچھ یونیورسٹیز کے چانسلر ہوں۔ یہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان کچھ سینئر وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائء اعلیٰ بشمول تمام اپوزیشن لیڈران صوبائی و قومی اسمبلی، اس کے ساتھ قومی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے صدور و جماعتی سربراہوں کو طلب کرے۔ ان سے کھل کر مکالمہ کرے اور ایک راستہ نکالے۔ پھر جو رپورٹ مع سفارشات یہ کمیٹی دے، اس کو حتمی مان کر حکومت، انتظامی اداروں اور حزبِ اختلاف کو اس پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے۔ملک روز بہ روز تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ اوپر سے بین الاقوامی چوہدری اپنے مفادات میں پاکستان کو چارہ گاہ بنا رہے ہیں۔
پچھلے دنوں سابقہ وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بہت کھل کر کہا کہ تین چار ممالک نے باقاعدہ عملی طور پر پاکستان کے خلاف ایک منصوبہ نہ صرف تشکیل دے دیا ہے، بلکہ اس واسطے ایک بلین ڈالر کا فنڈ بھی مختص کر دیا ہے۔ اﷲ معاف کرے عنقریب ملک کے اندر ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر کی شدت آئے، ملک میں فرقہ واریت میں مزید شدت آئے، اس وجہ سے معیشت کے ساتھ ساتھ ہم کو اپنی خارجہ پالیسی کو بھی نئے حالات کے تحت بنانا ہوگا۔ دنیا میں اپنا تاثر ایک مہذب اور ذمہ دار ملک کا بنانا ہوگا۔ امریکی انتخابات میں ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ مشرق سرحدوں پر مودی جیسا متعصب قصائی پنجے گاڑ چکا ہے۔ افغان کی سر زمین پر بھارتی ایجنٹ بہت اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ امریکی دباؤ میں اور عربوں کی چاپلوسی میں ایران کو تو ہم دور کر ہی چکے ہیں، لیکن اب مشرقِ وسطیٰ میں جو نئی درجہ بندی ہو رہی ہے، اس میں عرب کی اکثریت بشمول ریاض کے اب تل ابیب کی طرف جھکاؤ رکھ رہے ہیں۔ کل کو ہمارے ملک کے بیرونِ ملک کارکن براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ مغربی منڈیوں تک آپ کی رسائی پہلے ہی محدود سے محدود تر ہو رہی ہے، تو ان حالات میں اگر داخلی معمولات کو ہم نے بس سیاسی دنگل تک رکھا، حکومت کا ایک منترہ رہا کہ چوروں کو نہیں چھوڑنا اور حزبِ اختلاف کا واحد ایجنڈا عمران حکومت کا خاتمہ، تو ہم ان پیش آمدہ چیلنجز کو بیرونی طور ہینڈل کرسکتے ہیں نہ اندرونی۔ ویسے بھی اس لیول کی ’’ری کونسی لی ایشن‘‘ کو کسی بھی حلقہ یا گروہ کی طرف سے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ نہیں تو ہم بند گلی سے ایک نہایت ہی گہری کھائی میں گرنے واسطے مکمل تیار رہیں۔ تمام تیاری مکمل ہے۔ بس ایک معمولی سے دھکے کی ضرورت باقی ہے، جو کہ کسی وقت لگ سکتا ہے۔ دونوں فریقین کو یہ غور کرنا ہوگا کہ ملک معاشی طور پر تقریباً تباہ ہوچکا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کی وجہ سے قوم خاص کر نوجوان نسل سخت قسم کی سماجی بے چینی، سیاسی انارکی اور جذباتی فریسٹریشن کا شکار ہے۔
آپ چیک کر لیں آئے دن جرائم، خصوصاً خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور چوری چکاری بہت بڑھ رہی ہے۔ سرکاری دفاتر میں رشوت کے ریٹ مہنگائی کے تناسب سے بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی مشینری اور انتظامیہ عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔ ہر طرف غیر یقینی اور انجانے خوف نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ہم ملک اور ریاست سمیت تمام عوام کو یہ خبردار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ شاید آج ملک واقعی 71ء کے بعد نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے 71ء میں ایک انتہائی مقبول تعلیم یافتہ اور حالات کی نزاکت سمجھنے والا شخص ذوالفقار علی بھٹو مل گیا تھا۔ حالاں کہ اس وقت اس کے پاس بہت موقع تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو ختم کر دے، اپوزیشن کو کچل دے، لیکن اس نے نئی شروعات کی۔ تمام لوگوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کو پھرسے مضبوط کیا بلکہ ملک کے اندر ایک نیا آئین تشکیل دیا، اور ملک کی جہتی اور دفاع کو پھر سے مضبوط کر دیا، لیکن اب حکومت پر براجمان شخصیت کبھی کبھی تو نارمل بھی نہیں لگتی مجھے۔ سو جب سربراہِ حکومت کا یہ سیاسی و نفسیاتی رویہ ہوگا، تو پھر ریاست کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟
سو اَب کسی کو تو آئین کی حدود میں رہ کر یہ کام کرنا ہی ہو گا۔ اس وجہ سے ہم عدالت عظمیٰ اور بار کونسل یا علما کونسل کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔ وگرنہ آج وہ ’’یہودی ایجنٹ‘‘ یہ ’’چور‘‘ کا منترہ بدل جائے گا اور ’’اس نے تباہ کیا‘‘، ’’اس نے برباد کیا‘‘ کے الزامات رہ جائیں گے۔ بس الزامات۔ اور موقع پر سب ختم ہو جائے گا۔ ہم دنیا کے نقشے پر ماضی بن کر کسی کے غلام ہوں گے۔
سو اس سے پہلے کہ ہم پر یہ عذاب آئے، ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور حالات کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن اگر ہمارے انصافین دوست واہ واہ کی تالیں بجاتے رہیں اور حزبِ اختلاف والے ’’اتار دو، جلا دو،الٹ دو‘‘ میں الجھے رہے، تو پھر۔
ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
……………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے