550 total views, 1 views today

بابا جی کے بقول ہم پہاڑوں کے باسی ہیں، جس طرح ان پہاڑوں کے بیچ قطعۂ زمین محدود ہے، ٹھیک اسی طرح ہماری فکر بھی محدود ہے۔ اس لیے بابا جی اپنے معتقدین کو بطورِ خاص تلقین کیا کرتے ہیں کہ کبھی کبھار ان پہاڑوں سے نکل کر بڑے شہروں کی طرف بھی جایا کریں۔ تھوڑی بہت جمع پونجی ہو، تو بیرونِ ملک بھی جائیں۔ ’’قل سیرو فی الارض‘‘ کے مصداق دنیا دیکھ لیں، تاکہ ذہنی وسعت کے ساتھ ساتھ قلبی وسعت بھی نصیب ہو۔
آمدم برسرِ مطلب، عرصہ چھے ماہ سے ایک ایسے سکول کے ساتھ تجربہ جاری ہے، جو اپنی نوعیت کا انوکھا ترین ادارہ ہے۔ آسان الفاظ میں اِسے ’’پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول‘‘ (The first virtual School of Pakistan) کہہ لیں۔ ایک ایسا ادارہ جو زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ گھیرے ہوئے ہے، مگر انٹرنیٹ کی دنیا میں دوڑنے کے لیے یہ وسیع میدان اور اُڑنے کے لیے کھلا ڈھلا آسمان فراہم کرتا ہے۔

SKOOL21 کے منعقدہ آرڈینو ورکشاپ میں طالبات کو ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

’’سکول ٹوینٹی ون‘‘ (SKOOL21) کے ایک نمائندے فیاض عالم سے پاکستان کے اس پہلے ورچوئل سکول کے حوالہ سے تفصیلاً بات ہوئی۔ ان کے بقول: “SKOOL21” کی بنیاد دراصل اس خاطر رکھی گئی ہے کہ روایتی طریقے سے چلنے والے سکولنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ہمارا کام طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق تیار کرنا ہے۔ روایتی سکولنگ میں طلبہ و طالبات پڑھائی اور لکھائی کے ذریعے سیکھا کرتے ہیں جب کہ “SKOOL21” بچوں کو مختلف مصنوعات (روبوٹس، گیجٹس وغیرہ) کے ذریعے سیکھنے سکھانے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں نوکری کی تلاش نہیں کرے گی، بلکہ ’’انٹرپرینیور‘‘ (Entrepreneur) کی حیثیت سے دوسروں کو نوکری دے گی۔ ایسے تمام طلبہ و طالبات مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی سعی کریں گے۔ ‘‘
فیاض عالم سے پوچھا گیا کہ جب روایتی نظامِ تعلیم رائج ہے، اور اس کی جڑیں ہمارے معاشرے میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، تو ایسے میں ایک نئے نظام کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ جواباً کہنے لگے کہ اگر آپ اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں، تو ہماری شرحِ خواندگی میں آپ کو ہر سال اضافہ دیکھنے کو ملے گا، مگر ہم پھر بھی ترقی پذیر قوم ہی حساب ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم اپنے تعلیمی نظام میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تو ہم اسی طرح ترقی پذیر ہی شمار ہوں گے۔ آج ترقی یافتہ قومیں سٹم ایجوکیشن (STEM Education)، آٹومیشن (Automation) اور روبوٹکس (Robotics) کے ذریعے اپنی نئی نسل کی تربیت کررہی ہیں۔ روایتی سکولنگ کا تصور ان کے ہاں ختم ہوچکا ہے۔ ہم اگر ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں، اور ہمارے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے، تو ہمیں بھی ہر حال میں روایتی سکولنگ چھوڑنا ہوگی۔ ‘‘
فیاض عالم ہی کے بقول، “SKOOL2 1Pakistan” کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پورے سارک ریجن میں امریکی ادارے ’’سٹم ڈاٹ اُو آر جی‘‘ (STEM.org) کا اس عزم کے ساتھ پارٹنر ہے کہ چوتھے صنعتی انقلاب (Fourth Industrial Revolution) میں روایتی سکولنگ سے ہٹ کر سٹم ایجوکیشن اور روبوٹکس کو ذرائع بنا کر نئی نسل کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے گی۔‘‘




SKOOL21 کے منعقدہ ورکشاپ میں طلبہ ایک سرکٹ کو مکمل کرنے میں مگن ہیں۔ (امجد علی سحابؔ)

اگر گوگل ڈاٹ کام (Google.com) کے ذریعے ترقی یافتہ اقوام کے نظامِ تعلیم کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم پڑتاہے کہ امریکہ، چائینہ، کوریا، بیشتر یورپی ممالک حتی کہ متحدہ عرب امارات (UAE) بھی روایتی طرزِ تعلیم کو چھوڑ کر سٹم ایجوکیشن کے ذریعے طلبہ وطالبات کو مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ سٹم (STEM) دراصل اختصار ہے “Sceience, Technology, Engineering and Mathematics” کا ۔
فیاض عالم کے مطابق روایتی سکولنگ میں ایک استاد کلاس میں کھڑا ہوکر جو کچھ کہتا ہے، طلبہ و طالبات سنتے ہیں۔ اگر لیکچر کو سمجھنے میں دِقت کا سامنا ہو، تو گھر جاکر اُسی استادِ محترم کے تیار کردہ نوٹس خرید کر لیکچر کی دوہرائی کی جاتی ہے۔ اس تمام تر عمل میں طالب علم کی تخلیقی صلاحیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سنے ہوئے لیکچر یا تیار شدہ نوٹس کا ’’کاپی پیسٹ‘‘ عمل ہی اس قوم کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سٹم ایجوکیشن میں طالب علم کو اپنی خداداد صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقعہ ملتا ہے۔ وہ ہر سرگرمی میں حصہ لیتا ہے اور عملی طور پر کام کرکے جب اسے نتیجہ ملتا ہے، تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔
عاطف خان جو “SKOOL21” کا طالب علم ہے، کے بقو ل: ’’ہم روایتی طرزِ تعلیم سے تنگ آچکے ہیں۔ ایک استاد کلاس میں آتا ہے، کتاب ہاتھ میں لے کر لیکچر دیتا ہے، چالیس پینتالیس بچے اسے سنتے ہیں۔ پھر اسی استاد کے لکھے ہوئے نوٹس کا رٹا لگا کر نمبر لینے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو زنگ لگنا کوئی انہونی بات نہیں۔‘‘
عاطف خان کا مزید کہنا تھا کہ ایک گروپ کی شکل اور دوستانہ ماحول میں ہم نہ صرف ایک مسئلہ کی نشان دہی کرتے ہیں بلکہ اس کے حل کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیق کرتے ہیں، مختلف تجربات کرتے ہیں اور بہترین طریقے سے حل بھی نکال لیتے ہیں۔

SKOOL21 کے آرڈینو ورکشاپ میں طالبات کوڈنگ کے ذریعے اپنے پراجیکٹ کا جائزہ لے رہی ہیں۔ (فوٹو: سحابؔ)

“SKOOL21” نے اکیسویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک سٹم کلب (STEM Club) کھول رکھا ہے، جس کی ایک شاخ سوات میں بھی ہے۔
تمہید کی طرف واپس آنا چاہوں گا۔ ہم چوں کہ پہاڑوں کے باسی ہیں۔ ہماری فکر بھی ان پہاڑوں کے درمیان رہتے ہوئے محدود ہوچکی ہے۔ ہم اگر خود نہیں اُڑ سکے، روایتی طرزِ تعلیم میں اگر ہم ایک پنجرے میں بند رہے، تو اب بقولِ احمد فرازؔ
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
ہمیں اپنے بچوں کو پنجروں میں بند کرنے کی بجائے انہیں اُڑنے کا موقعہ دینا ہوگا۔ اپنے حصے کی شمع جلانا ہوگی۔ ورنہ ہم کل بھی لکیر کے فقیر بنا رہے تھے، آج بھی بنا رہے ہیں اور آنے والے کل بھی ایسا ہی کریں گے۔
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے