37 total views, 1 views today

(خصوصی رپورٹ) اپنی مہمان نوازی، منفرد قسم کے ماربل، آثارِ قدیمہ اور دیگر چیزوں کے لیے مشہور ضلع بونیر کے جوڑ، پیر بابا روڈ پر پیر بابا سے محض تین کلومیٹر کے فاصلہ پر تاریخی گاؤں ’’بھائی خان کلے‘‘ میں بازار کی تمام دکانوں کے بورڈ پشتو زبان میں رقم کر دیے گئے۔ علاقہ کے چند جوانوں کی کوششوں سے عرب امارات میں ’’پختو تنظیم‘‘ کی مالی معاونت سے جب نوجوانوں نے دکان داروں سے اس بارے میں بات کی، تو سب نے ان کی حمایت کی۔ اکثر دکان داروں نے اپنے خرچے پر بورڈ تبدیل کرنے کی بھی پیشکش کی۔
ملاکنڈ یونیورسٹی سے پشتو زبان میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے وقاص افغان کے بقول، اس بازار میں تمام بورڈ اردو زبان میں رقم کیے گئے تھے۔ ہمارے ضلع کے زیادہ بزرگ افراد اتنے خواندہ نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ مادری زبان کے علاوہ باقی زبانیں پڑھ اور لکھ نہیں سکتے۔ اپنی مادری زبان میں لکھت پڑھت کرسکتے ہیں۔ اس طرح جو قومیں اپنی مادری زبان کا استعمال کرتی ہیں، تو وہ ترقی بھی کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں دکانداروں کی خواہش پر ہم نے پہلے فیز میں ہاتھوں سے ہونے والی لکھائی کے بورڈ تبدیل کیے اور دوسرے فیز میں جو دکان دار فلیکس لگانا چاہتے تھے ان کے لیے بھی ہم نے آرڈر دے رکھا ہے۔ چند دنوں میں وہ تیار ہوجائیں گے، اس طرح انہیں بھی لگا دیا جائے گا۔‘‘
بھائی کلے کے رہائشی نسیم الحق نے اس حوالہ سے کہا: ’’بھائی کلے اور آس پاس کے علاقوں کے اس عمل پر بہت خوش ہیں۔ لوگ دوسرے علاقوں سے آکر جب اپنی مادری زبان میں رقم کیے گئے یہ بورڈ دیکھتے ہیں، تو خوش ہوتے ہیں ۔ اس حوالہ سے مختلف علاقوں کے لوگوں نے رابطہ بھی کیا ہے۔ وہ بھی اپنے علاقہ میں اس طرح کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘
خدائی خدمتگار خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کا مشہور قول ہے کہ ’’جو قوم اپنی مادری زبان کو وقعت نہیں دیتی، تو وہ خود بے وقعت ہوجاتی ہے۔اس طرح جو قوم اپنی مادری زبان بھلا دیتی ہے، تو وہ قوم صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
بھائی خان کلے کے رہائشی سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے طبیب موہن لال جس کے کلینک کا نام تبدیل کرکے اب ’’موہن لال دُرمل زائے‘‘ ہے، سے اس حوالہ سے بات کی گئی کہ یہ نام آپ کو پسند ہے؟ اس نے جواباً کہا کہ ’’ہم نسل در نسل پختون ہیں۔ہمیں اپنے پختون اور بونیرے ہونے پر فخر ہے۔ جب نوجوانوں نے اس بارے مجھے بتایا،تو مَیں بہت خوش ہوا اور میں نے ان کو اس سلسلے میں مالی تعاون کی بھی پیشکش کی۔‘‘
بھائی خان کلے بازار میں ’’جنت گل ہیر ڈریسر اینڈ باورچی‘‘ کے مالک جنت گل ماما جن کی دکان کا نام اب ’’جنت گل نائی خانہ او پخلی زائے‘‘ ہے، نے بتایا کہ “ہم پختون ہیں۔ جب مَیں نے اپنی دکان کا بورڈ پشتو میں خود پڑھا، تو خوشی سے پھولے نہ سمایا۔”




بھائی کلے بونیر بازار میں پشتو زبان میں رقم کیے گئے بورڈز کا ایک منظر۔

سوشل میڈیا پر اس بازار کے پشتو بورڈز کی تصاویر وائرل ہوگئیں۔ چند دنوں میں لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں نے ان کو شیئر کیا جس کے بعد اب مختلف اضلاع اور علاقوں کے لوگوں نے ’’بھائی خان کلے‘‘ جانا اور اس بازار میں سیلفیاں لینا شروع کر دیا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے سرگرم فضل خالق نے بتا یا کہ ’’یہ بھی سیاحت کی ایک قسم ہے۔ دنیا میں اس طرح کی سیاحت کے ڈھیر سارے نمونے موجود ہیں۔ اب جو لوگ اس علاقے میں جائیں گے، وہ کچھ کھائیں گے پئیں گے، جس سے اس علاقہ کے لوگوں کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
بھائی خان کلے کے دکان داروں کے بعد اب عام لوگوں نے بھی پشتو میں لکھنا شروع کردیا ہے۔ بازار کے وسط کی ایک گلی میں ایک شخص نے گھر کی دیوار پر ’’یہاں گاڑی کرنا منع ہے‘‘ کی جگہ اب ’’دلتہ گاڑے وردول منع دی‘‘ لکھا ہے۔




تبصرہ کیجئے