43 total views, 2 views today

’’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘ کے مصداق تقریباً سات ماہ بعد سکولوں کی رونقیں بحال ہوئیں۔ بچوں سے لے کر ٹیچرز تک نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ پڑھنے والوں کو پڑھنے اور پڑھانے والوں کو پڑھانے کا دوبارہ موقع ملا، مگر ان سب سے زیادہ بچوں کے والدین نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیا بلکہ شائد بہت سے والدین نے نوافل بھی ادا کی ہونگیں کہ سکول کھلے اور ان کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ کوئی بھی والدین اپنے بچوں سے تنگ نہیں ہوتا، مگر ان کی شرارتوں سے تنگ ضرور آجاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے والدین بچوں کی شرارتوں سے اور بہت سے والدین بچوں کی پڑھائی کی وجہ سے بہت زیادہ ڈسٹرب تھے۔ مَیں نے خود بہت سے والدین کوپرائیویٹ سکول مالکان اور ٹیچرز کو یہ پوچھتے ہوئے دیکھا ہے کہ سکول کب کھلے گا؟ بہت سے والدین کو شکایت کرتے دیکھا ہے کہ ان کے بچے آوارہ ہوگئے ہیں، تو کسی نے کہا کہ ان کے بچے گھر میں رہ کر اُردو تک بھول گئے ہیں اور کسی نے کہا کہ سارا دن گلیوں میں آوارا پھر کر بچوں کے رنگ کالے اور پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے نکمے ہوگئے ہیں۔
ہمارے تعلیم کے ناخداؤں کو بچوں اور اساتذہ کی بہت فکر تھی۔ اسی لیے سب سے اہم ادارے کو سب سے آخر میں کھولا۔ وزارتِ تعلیم کو اس فکر سے نکل آنا چاہیے کہ انہیں بچوں اور اساتذہ کی جانیں عزیز ہیں۔ یہ اقدامات ہرگز ایسے نہیں کہ آپ سمجھتے ہیں کہ بچے کرونا سے محفوظ رہیں گے۔ یہ اقدامات تو صرف دل کو تسلی دینے کے لیے کافی ہیں۔ آپ کے دیے گئے ایس اُو پیز سکول کی حدتک ہیں، تو پھر کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ بچہ کرونا باہر سے لے کر آئیں گے اور اگر سکول میں ٹیسٹ ہو اور وہ مثبت آگیا، تو سکول سیل اوراس سکول کی بدنامی الگ ہوگی۔
بچے سکول آنے سے پہلے اور سکول کی عمارت سے نکلنے کے بعد کن حالات میں ہیں؟ اگر آپ یہ جان لیں، تو آپ سب ایس او پیز بھول جائیں گے۔ 19 گھنٹے یہ بچے پانچ گھنٹوں کا ڈسپلن اور ایس اُو پیز کا ڈراما کس طرح چٹکی میں ناکام بنا رہے ہیں؟ سب کو معلوم ہے۔
محکمۂ تعلیم رسمی اور روایتی کارروائیوں کے ذریعے بچوں اور اساتذہ کا وقت برباد کر رہے ہیں۔ ڈھیر سارے سکولوں میں چھے فٹ کے فاصلے اور ڈیوائیڈڈ کلاسز کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ صرف کاغذی کارروائی کی ہوئی ہے۔ مَیں نے ایک نہیں کئی شہروں میں دیکھا ہے کہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکولز کی چھٹی کے وقت سکول گیٹ کے باہر والدین جو اپنے بچوں کو لینے کے لیے آتے ہیں، وہ کون سے اور کیسے ایس اُو پیز کو فالو کررہے ہوتے ہیں؟ وہ خود ایک درخت یا ایک دکان کے چھوٹے سے سایے میں چھے چھے افراد کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک والد اپنی دو بچیوں کو ایک موٹرسائیکل پر چھوڑنے اور لینے کے لیے کون سے ایس اُو پیز کو پورا کررہا ہوتا ہے؟
زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور آپ کے حقائق کچھ اور۔ تین سے چار بچے موٹر سائیکل پہ چھپک کر یا گاڑیوں میں ٹھنس کر جب سکول آتے ہیں، تو اس وقت فاصلے کے ایس او پیز کہا چلے جاتے ہیں؟
جنابِ والا! اوسط 100 بچے ایک ہی باتھ روم کی ٹونٹی اور لوٹا استعمال کر کے کیا کرونا سے بچ جائیں گے؟ پانچ گھنٹے بچے سکول میں ایس اُو پیز پر اساتذہ کی ذمہ داری سے یا خوف سے عمل تو کرسکتے ہیں م مگر باقی کے 19گھنٹے جو سکول سے باہر ہیں ان میں وہ کس طرح کرونا سے محفوظ ہوں گے؟ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کرونا ہمارے اردگرد ہے، تو پھر تمام سماجی جگہوں کو اسی طرح مانیٹر کریں جس طرح آپ نے پورے صوبے کی مشینری، تمام تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کے کام پہ لگا رکھی ہے۔ آج سڑکوں، بازاروں، ہوٹلوں، سیر وتفریح کے مقامات سمیت دفاتر میں کوئی ایس اُو پیز نظرنہیں آرہے۔ پچھلے دنوں ایک موٹر سائیکل پر سوار ہوکر دو لوگ سکول چیک کرتے پھر رہے تھے۔ کوئی پوچھے کہ کیا ان کے لیے فاصلے کے ایس اُو پیز نہیں ہوتے؟ گاڑی میں چھے چھے ملازمین بیٹھ کر جب سکولوں کی وزٹ کے لیے نکلتے ہیں، تو کیا سکول کے بچوں کے ذہن میں یہ سوال نہیں اٹھتا ہوگا کہ کیا کرونا ہمارا ہی دشمن ہے جو ہم پر اتنی سختی کی جا رہی ہے؟ جب بچے اپنے بڑوں کے ساتھ بازار یا سیروتفریح کے لیے جاتے ہیں اور وہاں نہ کوئی ماسک لگاتا ہے نہ کوئی فاصلہ رکھتا ہے، تو پھران کے ذہن میں اپنے سکول اور اساتذہ کے بارے میں جو سوال اٹھ رہے ہوتے ہیں ان کا جوا ب ہے کسی کے پاس؟
محکمۂ صحت ذرائع کے مطابق 80 فیصد سے زائد شہریوں نے ایس اُو پیز پرعمل درآمد چھوڑ دیا ہے۔ 75 فیصد شہری ماسک ہی نہیں پہنتے جب کہ 85 فیصد سماجی فاصلہ اور ہینڈ سینی ٹائزر استعمال کرنا بھول چکے۔ حجام، بیوٹی سیلونز، بازار، شاپنگ مالز اور دفاتر میں ایس اُو پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انتظامیہ اور محکمۂ صحت کی جانب سے ایس اُو پیز کی خلاف ورزی پر ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کورونا ختم ہوچکا، دوبارہ آئے گا، تو دیکھا جائے گا ۔ جب سمجھ دار لوگوں کایہ رحجان ہے تو پھر معصوم بچوں پر اتنا ظلم کیوں؟
خدارا ! کرونا سے نجات کے لیے اقدامات ضرور کریں، مگر معصوم بچوں پر اتنی سختی نہ کریں کہ سکول انتظامیہ اپنی جان چھڑانے کے لیے بچوں پر ایس اُو پیز کی تلوار لٹکائے کھڑے رہیں۔ زیادہ نہیں تو پرائمری کلاسز کو ایس اُو پیز میں رعایت ضرور دیں، کیوں کہ ہر وقت ماسک لگا نا چھوٹو بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے