31 total views, 1 views today

قارئین! ایک بار پھر ہمارے خطے کی مجموعی سیاسی اور بین الاقوامی صورت حال خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس علاقے میں اب ہر لحاظ سے امریکہ اور چین آمنے سامنے ہیں۔ چین اپنی اربوں کی سرمایہ کاری کسی بھی صورت میں ضائع کرنے کو تیار نہیں۔ اس حوالے سے وہ اس خطے میں مختلف ممالک کے درمیان اختلافات ختم کرکے ایک پیج پر لانا چاہتا ہے۔ تاکہ ترقیاتی کاموں میں ہم آہنگی اور تیزی ہو اور علاقائی معیشت روز افزوں ترقی پذیر سے ترقیافتہ ہو تاکہ اس علاقے کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا امریکہ اور یورپ پر معاشی انحصار کم سے کم ہو۔ وہ اپنے خارجی، سیاسی اور معاشی فیصلوں میں آزاد ہوں، لیکن امریکہ اپنی سامراجی مفادات کے حوالے سے ایسا ہر گز نہیں چاہتا۔ لہٰذا وہ چین کی پالیسیوں کے آگے روڑے اٹکاتا رہتا ہے۔
قارئین! متحدہ عرب امارات کا امریکہ کی سرکردگی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاہدہ ایک ایسا تازہ شوشہ ہے، جس سے بڑی آسانی سے عرب ممالک کو بالخصوص اور عام مسلمانانِ عالم کو بالعموم تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ چناں چہ آپ ملاحظہ کریں کہ خطے میں ایران اور ترقی کا مؤقف اس بارے میں ایک الگ بیانیہ ہے، جب کہ باقی عرب بہ شمول سعودی عرب کا الگ مؤقف ہوگا، یا خاموشی اختیار کی جائے گی؟ اور اگر خاموشی پوری نہیں، تو آدھی رضامندی مانی جاتی ہے۔ اس حوالے سے عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق اور آباد کاری کی بات ہورہی ہے، لیکن فلسطینیوں سے پوچھے بغیر……؟ سوال تو یہ ہے کہ جب امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیل اور یو اے ای کے مذاکرات ہورہے تھے، تو کیا اس میں فلسطین کا کوئی نمائندہ یا فلسطینی حکومت کی اتھارٹی موجود تھی؟ اگر نہیں، تو پھر کس اصول، قانون اور ضابطے کے تحت فلسطین کے بارے میں بات کی جاتی ہے؟ کیا اسرائیل معاہدوں اور وعدوں کے حوالے سے ماضی کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کے کسی معاہدے اور وعدے پر اعتبار کیا جاسکتا ہے؟ لہٰذا یہ ایک ڈراما ہے، ایک شوشہ ہے، دراصل اس کا مقصد ایک تیر سے دو شکار کرنے والا معاملہ ہے کہ ایک طرف تو ایک اہم عرب ملک سے اسرائیلی حکومت اور سٹیٹ کو تسلیم کروایا گیا، جس سے اسرائیلی حکومت کو سہولت اور خطے میں اسرائیل کو سیاسی اور جغرافیائی طور پر ذہنی بوجھ سے چھٹکارا ملے گا، اور اُسے کافی ریلیف ملے گا۔ جب کہ دوسری جانب اسلامی دنیا کو سیاسی حوالے سے تقسیم کرکے خطے میں چین کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔
قارئین! کرونا وبا نے بہت بڑے بڑے سورماؤں سے پردے سرکا دیے۔ امریکہ اس بارے میں مختلف اوقات میں انتشار کا باعث بنا رہا، جب کہ اندرونی طور پر اس وبا سے اُسے کافی نقصان اُٹھانا پڑا۔ اُسے باہر دنیا کو ایک ماسک دینے کی توفیق بھی نہ ہوئی۔ غیر ْذمہ دارانہ بیانات اور رویے نے اُس کی رہی سہی ساکھ کو داغ دار کردیا۔ اُس کا سپر پاؤر کا کردار اب ختم ہونے کو ہے۔ البتہ وہ سامراجی کردار سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
قارئین! ان دو کرداروں میں امتیاز کریں۔ اُسے سامراجی کردار سے ہٹانے کے لیے کسی دوسری سپر پاؤر کی ضرورت پڑے گی، تاکہ اُس کے ہاتھوں کو مروڑ کر اُس سے سامراجی کردار کی طاقت چھین لے۔ اِدھر اُدھر دیکھنے کی ضرورت نہیں، بالآخر آنکھیں چین پر ٹھہرتی ہیں۔ یورپ بھی سمجھ چکا ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ کی اب چھٹی کرنی چاہیے، جب کہ ایشیائی ممالک کی اکثریت چین کی حمایتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ بعید ممالک کے ساتھ ساتھ افریقی ممالک بھی رفتہ رفتہ گومگوں کی کیفیت سے نکل آ رہے ہیں۔ کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ ظاہر ہے امریکہ آخری وقت تک ہاتھ پیر مارتا رہے گا، لیکن یہ وہ ہاتھ پیر مارنے والا معاملہ ہوگا جب ایک جانور ذبح ہونے کے بعد مارتا ہے۔
اب دنیا کے باقی معاملات چھوڑ کر ہم ایشیا میں اپنے خطے کے ممالک کی بات کرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ چین کی موجودہ امریکہ مخالف پالیسی میں اسے روس کی اشیرباد بھی حاصل ہے۔ عوامی جمہوریۂ چین چاہتا ہے کہ پاکستان، ایران، ترکی اور ملایشیاکے ذریعے سے وہ افغانستان، بھوٹان، نیپال، سری لنکا کو بھی اپنے حلقۂ احباب میں شامل کریں۔ ایران کو ہندوستان کے اثر اور مجبوری سے نکالنے کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کے پراجیکٹ سے ہندوستان کو نکالنے کے لیے ہندوستان سے ڈبل اور آسان شرطوں پر سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ ایران نے قبول کرتے ہوئے ہندوستان کی چھٹی کرادی، لیکن اس پیش قدمی کے اور بھی مقاصد تھے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے شکوک و شبہات دور کیے جائیں۔ چین سمجھتا ہے کہ اس خطے میں ایران اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں بلکہ طاقتیں ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان دو ممالک میں مختلف حوالوں سے شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ یہ ایک دوسرے کے قریب نہ آجائیں۔ امریکہ اور سعودی عرب ان شکوک و شبہات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ 1979ء میں خمینی کے انقلاب کے بعد ایران کی پورے شکل و ماہیت اور سا خت میں تبدیلی آگئی۔ وہ انقلاب، شہنشاہ مخالف اور سامراج دشمن تھا، جس نے پورے خطے میں سیاسی صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ امریکہ بہ شمول خلیجی ممالک اس سامراج اور شاہ دشمن انقلاب سے گھبرانے لگے کہ ہونہ ہو، جلد یا بدیر یہ انقلاب سرحدوں کو پار کرکے خلیجی ممالک بہ شمول سعودی عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لہٰذا امریکہ مفادات اور خلیجی ممالک کے شاہی مفادات ایک پیج پر آگئے۔ اس بارے میں ایران کے پڑوسی ہونے کے ناتے پاکستان کا اہم رول بنتا تھا، چناں چہ پاکستان کو ساتھ شامل کرنے کے لیے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں ایران کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے وطنِ عزیز میں شیعہ سنی فسادات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہ فساداتی سلسلہ امریکی اشیرواد سے سعودی عرب کے پیسوں سے پھل پھولنے لگا۔ بدقسمتی سے اُن دنوں بھٹو کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا کر راتوں رات پاکستانی فوج کے جنرل ضیاء الحق بر سرِ اقتدار آگئے تھے اور اُس کے بھی کرسی اور اقتدار کے مفادات کا تقاضا تھا کہ ملک میں کچھ دوسری قسم کے انتشار و فساد کو پھیلادیا جائے، تاکہ مارشل لا حکومت، بھٹو کی پھانسی وغیرہ سے عوام کی توجہ ہٹا دی جائے اور ساتھ فوجی حکومت کے لیے کچھ جواز بھی پیدا کیے جائیں۔ چناں چہ کراچی میں ایم کیو ایم کو کھاد ڈالی گئی۔ سندھی مہاجر اور پشتون مہاجر کا مسئلہ اٹھا کر خوں ریز فساد اور انتشار کی بنیاد ڈالی گئی۔ پنجاب میں شیعہ سنی خوں ریزی کا آغاز ہوا۔ حکومتِ وقت کو معلومات کے باوجود خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ مساجد اور امام بارگاہیں نشانے بنتی رہیں۔ شیعہ سنی عالم قتل ہوتے رہے۔ ملک میں قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ گلیاں، کوچے اور عوام خون میں نہاتے رہے لیکن حکمران سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے بھی خاموش تھے۔ کیوں کہ وہ چاہتے یہی تھے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ بر سہا برس سے ایران میں شیعہ آباد چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی دوڈھائی کروڑ شیعہ برسوں سے آباد ہیں۔ شہنشاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کے وقت ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایران پاکستان کا پہلے بھی پڑوسی ملک تھا۔ ایران نے 1965ء اور 1971ء کے جنگوں میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ہوائی جہاز مع پائلٹوں کے دیے۔ یہ شیعہ اور سنی فرقہ بندی پہلے بھی تھی۔ ایوب خان کے دور میں یا اُس سے پہلے اور بعد میں یحییٰ اور بھٹو کے دور میں کس نے شیعہ سنی فساد یا اختلاف کا نہیں سنا۔ دراصل سیاسی اور معاشی مفادات ہوتے ہیں، جن کو حاصل کرنے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی جذبات کو مذہبی نعروں سے مشتعل کیا جاتا ہے۔ تاکہ اپنے سامراجی مذموم مقاصد کو حاصل کیا جائے۔ پاکستان میں ایران کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ بات ہر خاص و عام کی زبان پر چل نکلی کہ اسرائیل سے زیادہ ایران عالم اسلام کے لیے خطرناک ہے۔ عجیب بات ہے اپنی شہنشاہیت بچانے کے لیے دوسرے اسلامی ممالک میں مداخلت تم کرو۔ فرقہ بندی اور گروہ بندی کو ہوا دے کر قتلِ عام تم کرو اور ایران عالمِ اسلام کے لیے خطرناک ہوگیا!
عجیب صورتِ حال تو یہ ہے کہ پاکستان کے پڑوس میں ایران اب بھی ہے۔ پاکستان میں شیعہ کروڑوں کے حساب سے اب بھی موجود ہیں۔ اب کیوں فسادات نہیں ہورہے؟ وہ اس لیے کہ اب فی الحال آپ کے مفادات کو خطرہ نہیں۔ ابھی آپ کو ترجیحات یہ نہیں۔ دراصل جب معاشی اور سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے، تو اُسے قومی، مذہبی اور فرقہ بندی کی شکل دی جاتی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ایران اچھا ہے یا برا! شیعہ صحیح ہیں یا غلط، لیکن ایران آپ کا پڑوسی ہے۔ ہم پڑوسی بدل سکتے ہیں اور نہ کہیں اور بھاگ سکتے ہیں۔ شیعہ جو بھی ہیں، ہمارے پاکستانی شہری ہیں ۔ ایک زمانے سے شیعوں کے مذہبی تہواروں اور غم رازی میں سنی شریک ہوتے آرہے ہیں۔ محرم کے جلوسوں میں ہم سب شریک ہوتے تھے۔ انہیں پانی اور شربت پلاتے تھے، تعاون کرتے تھے، ساتھ سینہ کوبی کرتے تھے۔ گھروں میں جنگ نامے پڑھے جاتے تھے۔ گاؤں میں چاول، شربت اور حلوسے تقسیم ہوتے تھے۔ لہٰذا دور کے طاقت والے ہمارے کام نہیں آئیں گے۔ نزدیک کے کمزور اور غریب پڑوسی ہمارے کام آئے گا، لیکن ہمارا ابتدا سے المیہ یہ رہا ہے کہ ہم دو مخالف قوتوں میں اپنے لیے غیر جانب دارانہ راستہ نہ ڈھونڈسکے۔ ہم بے اختیار ایک جانب لڑھک جاتے ہیں۔
لہٰذا خطرہ شیعہ مکتبِ فکر سے نہیں بلکہ انقلابِ ایران کے سیاسی اثرات سے تھا کہ وہ اُس پڑوس میں پھیل کر شہنشاہی اور سامراجی مفادات کو زک نہ پہنچائے۔ قومیت، لسانیت، مذہب یہ اب ایک قسم کی تجارتی منڈیاں بن چکے ہیں، ان میں موقع آنے پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ چناں چہ مذہبی، لسانی اور قومی تعصبات پیدا کرکے سیاسی و معاشی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی حکومت کو عوامی حمایت حاصل ہو، معیشت مضبوط ہو، تو وہ اپنی خارجی آزاد پالیسی پر مضبوط کھڑے ہو کر دو مخالف قوتوں میں غیر جانب دارانہ راستہ ڈھونڈسکتی ہے اور اُس پر ڈٹ سکتی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا بیان اپنے منھ سے بڑا نوالہ کھانے کے مصداق ہے۔ سعودی عرب اگر او آئی سی آرگنائزیشن اسلامک کانفرنس کا اجلاس طلب بھی کرے، تو وہ کیا کرلیں گے۔ زیادہ سے زیادہ یک فریقی قرارداد پاس کریں گے۔ اگر یہ ممالک اتنے مضبوط اور آزاد ہیں، تو 70 سالہ فلسطینی مسئلہ کیوں حل نہیں کرتے! چہ جائیکہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔
اس حوالے سے دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے خود تاشقند اور شملہ معاہدوں میں کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کا آپس کا معاملہ قرار دیا ہے۔ کسی تیسرے فریق کے بغیر اسے آپس میں حل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے (یہاں تیسرے فریق سے مراد او آئی سی اور یونائیٹڈ نیشن کے ادارے ہیں)۔ لہٰذا عرب ممالک اور خاص کر سعودی عرب کشمیر کے مسئلے پر بس اتنا بیان دے سکتے ہیں کہ دونوں ممالک آپس میں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان تین سو ارب ڈالر سالانہ تجارت ہوتی ہے۔ اس معاشی دور میں کون اپنا اتنا بڑا تجارتی خسارہ برداشت کرسکتا ہے؟ جب کہ ہم لوگ سال کے بارہ مہینے سعودی عرب کے قرض دار نیز مشکور و ممنون اور مجبور چلے آرہے ہیں۔ لہٰذا اپنی قد کاٹھ کو دیکھ کر بات کرنی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں اپنی چادر سے پاؤں نکالیں گے، تو آج ہی کاٹ دیے جائیں گے۔ پہلے کی طرح پھر ہمارے فوجی سربراہ جناب قمر باجوہ صاحب سعودیہ کو منانے کے لیے دورۂ سعودی عرب پر تشریف لے گئے۔ منت سماجت ہی پر بات ٹل جانا تھی، ورنہ شاہ محمود قریشی کو وزارت خارجہ سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اس سے پہلے عمرانی حکومت کی ابتدا میں سی پیک کے حوالے سے حکومتی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جب چین کو ناراض کیا، تو راضی کرنے کے لیے ہمارے قمر باجوہ صاحب کو چین جاکر اُسے راضی کرنا پڑا تھا۔ فی الحال تو سعودی عرب کے قرضے میں سے ایک ارب ڈالر چین کے مالی تعاون سے ادا کیا گیا ہے۔ دراصل چین کے تعاون و مشورے سے پاکستان کو ایران اور بنگلہ دیش سے بات چیت کرنی پڑ رہی ہے۔ کیوں کہ بنگلہ دیش سے بھی ہمارے تعلقات بہتر نہیں تھے۔ دونوں ممالک میں سفارتی عملہ درجہ سی تک آگیا تھا، یعنی کم سے کم سفارتی عملہ رکھا گیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے خراب تعلقات کی نشان دہی ہوتی ہے۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنے طور پر یہ یقین دلائے کہ ایران کے ساتھ تعلقات سعودی عرب کے دشمنی سے مشروط نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات بحال ہونے یا بہتر ہونے کے باوجود پاکستان میں سعودی مفادات کا ہر لحاظ سے خیال رکھا جائے گا اور پاکستان، ایران دوستی کسی عرب ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔
یہاں ایک حقیقت واضح کردوں اور خبردار بھی کردوں کہ اگر پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ایران کے خلاف کچھ ایسے سمجھوتے اور معاہدے کرتا ہے جس سے ایرانی مفادات کو نقصان پڑنے کا اندیشہ ہو، تو پاکستان میں موجود ڈیڑھ کروڑ شیعہ بے چینی اور بے قراری کا شکار ہوں گے، اور اس کے خطرناک ردِ عمل اور نتائج سامنے آسکتے ہیں، لہٰذا جو کچھ بھی کرنا ہے، اپنے باشندوں اور شہریوں کے دلی جذبات و احساسات تو مد نظر رکھ کر کیا کریں۔ یہ اپنے عقل و شعور، سیاسی سنجیدگی اور اپنے ریاستی مفادات کی اولیت کا تقاضا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو ثانویت حیثیت دی جائے۔ مجھے احساس ہے کہ بار بار اس ایک معاملے کی گردان کررہا ہوں لیکن کیا کروں! ہمارے حکمران بجائے نئی غلطیوں کے پرانی غلطیاں بار بار دہرا رہے ہیں۔ کوالالمپور کانفرنس میں وزیراعظم کا خود نہ جانا اور نہ کسی وفد کو بھیجنا ایک بہت بڑی سیاسی غلطی اور کمزوری کی انتہا تھی۔ ہماری ساکھ اور اعتماد کو بہت نقصان پہنچا۔ اب بھلا ہم پر کوئی کیوں اعتماد کرے؟ بات یہ ہے کہ اگر ہمارے تعلقات اور سفارتی صف بندی کی شرط ’’کشمیر پالیسی‘‘ سے مشروط ہے، تو پھر تو ایران، ملایشیا اور ترکی، کشمیر پر ہندوستانی مظالم کی کھلم کھلا مخالفت اور مذمت کرتے ہیں اور یہ کانفرنس وزیراعظم کے مشورے سے اسی مقاصد کے لیے بلایا گیا تھا۔ سعودی عرب کی دھمکی پر ہم نہیں گئے، تو کیا ہماری کوئی عزت اور وقار رہ گئی ہے؟ ہم سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ کانفرنس سے پہلے ہم سعودی عرب کو اعتماد میں لیتے کہ کانفرنس میں سعودی عرب کے کسی بھی سیاسی، علاقائی مفادات کے خلاف نہیں جائیں گے۔ خواہ کوئی کچھ کہے، لیکن یہ اور اس طرح کی دوسری وارداتیں اور حماقتیں موجود ہ حکومت کی بے خبری، نالائقی اور غیر سنجیدگی سمجھتا ہوں۔ وزیراعظم اور اُن کے وزرا میں کوئی ربط ہے نہ ضبط، جو کچھ سامنے آیا اور جو کچھ منھ میں آیا کہہ دیا، اللہ اللہ خیر صلا……!
اب ہندوستان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اور اس حوالے سے ایک بڑی جمہوریت اور جمہوری ریاست کا پردہ اُس کے اوپر پڑا ہوا ہے۔ جمہوری سیاسی، معاشی اداروں کا مضبوط ہونا، وقتِ مقررہ پر انتخابات کا انعقاد ہونا، فوجی اداروں پر سول اداروں کی برتری کے تاثر سے باہر دنیا کا متاثر ہونا، یہ وہ حقائق ہیں جس کی وجہ سے باہر کی دنیا میں اُس کی ساکھ بنی ہوئی ہے۔
دوسری بات یہ کہ اپنے بڑے جمہوری ملک کے ناتے اور تجارتی، معاشی تعلقات کے حوالے سے خارجہ پالیسیوں میں اُن کی مجبوریاں ہمارے مقابلے میں کم ہیں۔ اور وہ کسی حد تک خطے میں اپنی خارجہ پالیسی کا غیر جانب دارانہ رویہ بر قرار رکھ سکتا ہے۔ اُس نے عرصۂ دراز سے روس کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی اپنا رابطہ برقرار رکھا۔ اس طرح کسی زمانے میں چین کے ساتھ تعلقات اتنے بہتر ہوگئے تھے کہ ’’ہندی، چینی بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ ہر سو گونج رہا تھا۔ لیکن کبھی کبھی نمرودانہ رویے میں انا پرستی میں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا 1962ء میں چین، ہندوستان کی سرحد پر جھڑپ وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بڑی سیاسی غلطی شمار ہوتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نہرو ایک حساس اور قابل انسان تھا اور اُسے اپنی اس بے وقوفی کے احساس نے وقت سے پہلے زندگی سے محروم کردیا۔ وہ چین کے ساتھ لڑائی اور تعلقات کی خرابی نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس کے مضمرات اور اثرات سے اچھی طرح آگاہ تھا، لیکن جو کچھ ہوگیا وہ ہوچکا تھا۔ تھوکا واپس نہیں چاٹا جاسکتا اور اسی سیاسی غلطی کے غم نے اُس کی جان لے لی۔
اب وہی غلطی مودی دہرارہا ہے۔ وہ اگر امریکہ کے اشیرباد سے یہاں اس خطے میں چین کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے، تو اب چین وہ 1962ء والا چین نہیں ہے۔ یہ 2020ء کا چین ہے اور اس لیے تو اُس نے ایران، افغانستان، پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، روس، نیپال، ملایشیا، بھوٹان، سری لنکا وغیرہ کو اعتماد میں لے کر ہندوستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے اور چین یہ چاہتا ہے کہ یہ تمام چھوٹے بڑے ممالک کم از کم امریکہ کے آگے معاشی لحاظ سے کمزور نہ ہوں۔ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کا منصوبہ اس حوالے سے خاصا مضبوط ہے کہ اس علاقے کے تمام ممالک کو ایک بیلٹ روڈ سے منسلک کیا جائے۔ تاکہ یہاں کی شاہراہوں، بندرگاہوں کو ایسے طریقے سے تسلط میں لایا جائے کہ اگر دوسرے یورپی ممالک یا امریکہ تجارتی بنیادوں پر اسے استعمال بھی کرنا چاہیں، تو ان ممالک کی مرضی سے اور باقاعدہ بھاری محصول اور ٹیکس لے کر بندرگاہوں سے مذکورہ ممالک کے بحری تجارتی جہازوں کو گزرنے دیا جائے۔
علاوہ ازیں ان جہازوں کے تجارتی مال کی جانچ پڑتال ہو، جو مال یہ غریب ممالک خود برآمد کررہے ہوں اور جو مال اُن کے لیے زرِمبادلہ کمانے کاذریعہ ہو، اُس کے گزرنے پر پابندی ہو، تاکہ ان ممالک کے وسائل اور آمدن ترقی کرسکے اور مال کے بدلے مال یا مال کے بدلے زرِمبادلہ کماسکیں۔ یہ نہ ہو کہ یک طرفہ طور پر اپنا مال مہنگے داموں بیچنے کے لیے ان ممالک کو قصداً غریب رکھا جائے۔ لہٰذا چین کی یہ پالیسی ہے کہ ان ترقی پذیر غریب ممالک کی تجارتی پالیسی کو مضبوط اور منظم کرکے نفع بخش کیا جائے، تاکہ یہاں کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی جیب میں بھی پیسے آئیں۔ کیوں کہ عام ضروری انسانی لوازمات سے پیسے زیادہ ہوں گے، تو لوگ بازار میں آسائشی اشیا خریدنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔
چین یہ سمجھتا ہے کہ اگر عام آدمی کی قوتِ خرید میں اضافہ نہ ہوا اور وہ بازار سے آسائشی اشیا خریدنے کے قابل نہ رہا، تو عالمی مارکیٹ کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔ کساد بازاری کا مطلب یہ ہے کہ اشیا دھڑا دھڑ تو بازار میں آتی رہیں گی، لیکن صارف چوں کہ خریدنے کی قوت نہیں رکھتا، تو صارف کم اور اشیا زیادہ ہونے کی صورت میں دام اتنے گر جائیں گے کہ اہیں بنانے پر جو خرچہ آتا ہے، وہ بھی وصول نہیں ہوگا۔ نتیجہ کے طور پر کارخانے بند اور عوام بے روزگار ہوجائیں گے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا بحران جو وقتاً فوقتاً جنم لیتا رہتا ہے۔ چین چاہتا ہے کہ اگر یہ بحران یورپ اور امریکہ میں آئے، تو کوئی بات نہیں لیکن یہ ایشیاء کو لپیٹ میں نہ لے۔
قارئینِ کرام! اس لیے بین الاقوامی تناظر میں تجارت کے لیے شاہراہوں اور بندرگاہوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ جتنی شاہراہیں زیادہ ہوں گی، کھلی ہوں گی اور پُرامن ہوں گی، تو تجارت کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ درآمدات برآمدات میں آسانیاں ہوں گی۔ نقل و حمل کے ذرائع جب سستے ہوں گے، تو مال بھی سستا ملے گا اور صارف کی جیب پر بوجھ کم پڑے گا۔ یہی حالت بندرگاہوں کے بارے میں ہے بندرگاہیں بڑی ہوں گی، وسیع ہوں گی، گہری ہوں گی اور پُرامن ہوں گی، تو تجارت کے مواقع زیادہ، آسان اور وافر مہیا ہوں گے۔ اس حوالے سے پاکستان کی شاہراہوں اور بندرگاہوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کا محلِ و قوع پاکستان کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان یک ایسی شاہراہ بلکہ ایک ایسا چوک اور مرکز ہے کہ ایک طرف سے افغانستان، روس، روسی ایشیائی ریاستیں اور پھر یورپ اور دوسری طرف سے ایران، ترک اور پھر یورپ، اس طرح تیسری طرف سے شاہراہِ ریشم جو ایک پرانی تاریخی گزرگاہ ہے، عوامی جمہوری چین سے مل جاتی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین اس دروازے سے داخل ہوکر پاکستان کی شاہراہوں اور بندرگاہوں کو استعمال میں لاکر پوری دنیا کے ساتھ تجارتی روابط رکھ سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر سرمایہ کاری کررہا ہے، اور وہ بھی اربوں ڈالر کی۔ لہٰذا وہ اب کسی بھی حالت میں اپنے تجارتی مقاصد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جب کہ امریکہ اتنی آسانی سے چین کو یہ معاشی سہولیات اور تجارتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اگر معاملات سیاسی اور معاشی داؤ پیچ کی حد تک رہیں، تو پھر مسائل اتنے گھمبیر نہیں ہوں گے، لیکن اگر معاملات حد پار کر جائیں اور یا مقابلۂ دو بدو کی صورت حال پیدا ہو، تو ایک بار پھر ہمارا یہ خطہ دہشت گردی، گولہ بارود کی تباہی کا مرکز بن جائے گا۔ امریکہ، ویت نام، افریقہ، لاطینی امریکہ اور افغانستان میں براہِ راست مداخلت کے بعد اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ راست فوجی مداخلت کرے۔ کیوں کہ وہ افغانستان سے اب اپنی فوجیں کسی بھی حالت میں نکالنا چاہتا ہے۔ خواہ اس کے لیے وہ طالبان کے پاؤں کیوں نہ پڑے۔ لہٰذا وہ پراکسی وار سے کام لے گا، تو کیا پراکسی وار ممکن ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کیوں کہ ایران، افغانستان اور ترکی میں ایسے عناصر کا ملنا مشکل ہے کہ جو ڈالروں کے عوض امریکی مفادات کے لیے جنگ کریں۔ البتہ پاکستان میں کسی بھی وقت ایسے عناصر مل سکتے ہیں، جو پختون بیلٹ کو خاص طور پر بد امنی اور خوں ریزی کا ایک بار پھر شکار بنا سکتے ہیں، لیکن اگر ان عناصر کو سرکاریا سرکار کے کسی خاص گروپ کی اشیر باد حاصل نہ ہو، تو معاملات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
افسوس اور ناامیدی کا اظہار یوں کیا جاسکتا ہے کہ ایمل کانسی والے معاملے میں جب امریکی عدالت نے پوچھا کہ ایمل کانسی کے ٹھکانے کا آپ لوگوں کو کیسے علم ہوا؟ تو وکیل صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ’’خود پاکستانیوں نے بہم اطلاع دے دی، وہ تو اپنی ماں کو بھی ڈالروں پر بیچ دیتے ہیں۔‘‘
تو یہ ہے ہمارا ریکارڈ۔ ماضی کا ریکارڈ، جس پر مستقبل کا لائحہ عمل تیار ہوسکتا ہے اور اب ایک بار پھر پاکستان کا رول اہم بن چکا ہے کہ ہم اس بار پھر ایک جا نب لڑھک جائیں گے، یا سوچ سمجھ کر اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کچھ سنجیدہ اور قابلِ عمل پالیسی بنائیں گے! ہماری جو بھی پالیسی ہو، اُس میں عوامی حمایت اور عوامی موڈ کو مدِنظر رکھنا ہوگا۔ اکثر ہماری پالیسیاں عوامی سوچ کے ساتھ نہیں بلکہ مخالفت میں ہوتی ہیں۔ عوامی حمایت کے بغیر کسی بھی پالیسی کو کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عوامی جمہوریۂ چین کوشش کر رہا ہے کہ اس بار ان تمام نمایاں سوراخوں کو بند کیا جائے جس سے امریکی سامراج اپنے گندے اور ناپاک عزائم کے لیے اندر داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ یہاں تک کہ چین نے طالبان کو اعتماد میں لینے کے لیے اُن سے خفیہ مذاکرات کیے ہیں۔ روس کے ذریعے یہ اہم فریضہ سرانجام دیا گیا ہے۔
عوامی جمہوریۂ چین پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند ہے۔ وہ کسی بھی حالت میں انتشار، جنگ اور مداخلت کا حامی نہیں۔ وہ خطے میں دیرپا امن چاہتا ہے۔ تجارت کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق معاشی لین دین کرکے مضبوط معیشت کا حامی ہے۔
قارئین کرام! امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بہ شمول عراق، کویت، لیبیا، مصر میں جو گندے اور مکر وہ کھیل کھیلے اور عوامی قتلِ عام کے ساتھ ساتھ ان ممالک کا پورا سٹرکچر تباہ و برباد کردیا۔ پھر افغانستان میں اُسامہ کا بہانہ بناکر اور نائن الیون کے واقعات کا ہوا کھڑا کرکے جو تباہی و بربادی انہوں نے اس خطے میں پھیلادی۔ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ نفرتوں کو جنم دیا۔ مذہبی تعصب کو ہوا دی گئی۔ غرض اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کی خاطر ہر حربہ استعمال کیا گیا۔
چین ان تجربات و مشاہدات کا بہ غور مطالعہ کررہا ہے۔ امریکہ فی الحال کرونا کے حوالے سے چین کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔ پہلے تو چین اس بارے میں خاموش تھا، لیکن اب کرونا اور سی پیک کے حوالے سے اور اس خطے میں دوسری عام تبدیلیوں کے حوالے سے چین کے سفیر مسلسل سخت جواب دے رہے ہیں۔ بعض اوقات ایسے عملی اقدامات کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے جس سے ان ایشیائی ممالک کو تحفظ کا احساس ہو۔
ہمیں بھی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں، اور کسی بھی ناخوشگوار حالات کے مقابلے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا چاہیے۔ پہلے گولہ بارود اور بندوق امریکی تھا، اور نشانہ روس تھا۔ شاید اس بار ہمارے ہاتھوں میں بندوق چین کی ہو اور نشانہ امریکہ ہو، یا امریکی ایجنٹ اور چمچے ہوں۔ اس جنگ کے بعد پوری دنیا کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اس علاقے کے لوگوں کے لیے خوش حالی، امن، آبادی، زیادہ پیسا کمانے کی خاطر قسمت کا ستارہ بھی چمک سکتا ہے، لیکن تباہ، بربادی، جنگ و جدل، دہشت گردی اور غربت کے اندھیرے بھی پھیل سکتے ہیں۔
ہماری تو ایک ہی درخواست ہے کہ ’’سوچیے اور تیار رہیے۔‘‘
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے