85 total views, 1 views today

کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت خاتون کا نام لالی گُل ہے۔ وہ دو بچوں اور دو بچیوں کی ماں ہے۔ لالی گل کی بڑی بیٹی کا نام عائشہ ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتی ہے۔ دوسری بیٹی کا نام مریم ہے ۔ مریم اس وقت بی ایس زوالوجی پڑھ رہی ہے۔ لالی گل کا شوہر کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ جنگل سے لکڑیاں لانے کا کام کرتا ہے۔ اس کے بڑے بیٹے کا نام عمران ہے اور وہ اپنے باپ کے ساتھ جنگل سے لکڑیاں لانے میں مدد کرتا ہے، جب کہ دوسرا بیٹا گھر پر ہوتا ہے۔
لالی گل نے اپنے گھر کی چھت پر ایک چھوٹی سی دکان بنائی ہے۔ یہ خاتون گھر پر کالاش کا ثقافتی لباس اور لباس سے جڑی دیگر ثقافتی اشیا خود بنا کر اس دُکان پر بیچتی ہے، جس سے وہ اپنے گھر کا خرچ چلاتی ہے۔ وہ محنت سے اپنا کام کرتی ہے، اور گھر کا سارا خرچ اپنی مذکورہ دُکان ہی سے پورا کرتی ہے ۔
خوش قسمتی سے مجھے دو دن پہلے لالی گل کے گھر جانے کا موقع ملا۔ اس نے صداقت سے بھرے لہجے میں مجھے خوش آمدید کہا اور خیر و عافیت پوچھنے کے بعد چائے پانی کا پوچھا۔ مَیں نے لالی گل کے گھر پر پانی پی کر اپنی تھکاوٹ دور کی۔ باقی گاؤں کی طرح لالی گل کے گھر والے بھی بہت مہمان دوست اور پرُخلوص تھے ۔
لالی گل نے مجھے یہاں کی ثقافت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ کالاش کمیونٹی سے متعلق میرے ذہن میں ہزاروں سوالات پہلے سے موجود تھے۔ لالی گُل نے بڑے صبر و تحمل سے میرے ایک ایک سوال کا جواب دیا۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنے ثقافتی سامان سے بھری دکان پر لے گئی، جو اُس کے گھر کی چھت پر بنائی گئی ہے۔ مَیں نے وہاں سے کالاش کی ثقافتی ٹوپی خریدی اور اس کے بعد لالی گُل کے گھر والوں کو خدا حافظ کہہ کر اُن کے گھر سے چلتا بنا۔
راستے میں مجھے ایک ہی خیال ستائے جا رہا تھا، ہزاروں صحت مند ہیں خواتین اور مرد بھیک منگے ہیں، جو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور لالی گل جیسی باہمت خاتون سے نہیں سیکھتے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے