51 total views, 1 views today

1993ء میں جب ملک محمد دیدار اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوکر صوابئی وزیر بنے، تو ان کے دور میں درولئی کو پہلی بار ایک کچی سڑک بنالی گئی تھی، اور اس کے لیے مرینا ہوٹل کے قریب درولئی کو لکڑی کا پُل بنایا گیا تھا۔ اس پل پر سے چھوٹی گاڑیاں بہ آسانی گزر سکتی تھیں۔
2010ء کے تباہ کن سیلاب سے پہلے درولئی کو 5 عدد پُل موجود تھے، جن میں دو پر سے گاڑیاں گزر سکتی تھیں، جب کہ باقی ماندہ تین پر صرف پیدل ہی جایا جاسکتا تھا۔ سیلاب نے درولئی کے پانچوں پلوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور یہ گاؤں باقی ماندہ دنیا سے منقطع ہوکر رہ گیا۔ لوگوں نے عارضی طور پر ایک کیبل لگایا اور اس کے بعد اپنی مدد آپ اور کچھ فوج اور اس وقت کے ایم پی اے سے رقم لے کر موجودہ کڑھا ھئی پُل (جسے اب سیلفی بریج بھی کہا جاتا ہے) بنوا لیا۔ یہاں سے صرف چھوٹی گاڑیاں گزر سکتی ہیں۔ اس پُل پر کچھ رقم ایک صوبائی امیدوار انجینئرامیرمقام کی مدد سے لگوائی گئی، تاکہ اس کو تھوڑا اور پائیدار بنایا جاسکے۔
سیلاب کے بعد اس پورے علاقے میں مختلف گاؤں کے لیے برطانوی حکومت کے بین الاقوامی ترقی کے شعبے کی مدد سے سٹیل بریج بنائے گئے جن میں گورنئی بریج، توروال پلازہ بریج، رامیٹ بریج، چیل بریج، دامانہ بریج وغیرہ شامل تھے۔ اس منصوبے میں ’’درولئی‘‘ اور ’’آئین‘‘ دونوں کو نظر انداز کیا گیا۔ وجہ شائد یہاں کے لوگوں کا اپنی مدد آپ لکڑی کے پُل بنانا تھی۔
سٹیل بریج کے متعلقہ ادارے سے کئی بار رابطہ کیا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اپنے دوسرے مرحلے میں وہ ’’درولئی‘‘ اور ’’آئین‘‘ کے لیے سٹیل بریج بنوائیں گے، مگر ان کا دوسرا مرحلہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر شروع نہ ہوسکا۔ کیوں کہ پاکستانی شعبوں نے ان بریجوں کی تشہیر کسی اور کے کھاتے میں کی تھی، اور اسی وجہ سے دوسرا مرحلہ شروع نہ ہوسکا۔
سوات کی مین شاہراہ پر سٹیل کے پُل چوں کہ آرمی نے بنوائے تھے، اس لیے ہم نے ان سے رابطہ کیا۔ اس وقت کے ایک بریگیڈئیر صاحب سے درولئی پُل کی جگہ کا معائینہ کروایا۔ انہوں نے حامی بھری اور ہم سے کہا کہ آپ کسی طرح پل کے لیے امبینکمنٹ (دان) بنوالیں۔ اس لے لیے ایس آر ایس پی (SRSP) نامی تنظیم سے رابطہ کیا گیا۔ ان سے کافی حد تک بات منوا بھی لی، مگر اسی اثنا میں ان بریگیڈئیر صاحب کا تبادلہ ہوگیا، اور آرمی سوات سے جانے لگی۔ یوں درولئی پُل کا معاملہ ایک بار پھر ادھورا رہ گیا۔
صوبے میں پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت سے رابطے میں رہے، مگر کامیابی نہ ہوئی کہ یہاں کا ایم پی اے اپوزیشن میں تھا۔
صوبے میں جب دوسری بار پی ٹی آئی حکومت آئی، تو یہاں سے پی ٹی آئی کے ہی ایم پی اے جیت گئے۔ ایک آدھ سال گزر گیا۔ سابق وزیرِ سیاحت عاطف خان نے سیاحت کے شعبے میں کئی سڑکوں اور متعلقہ جگہوں کی نشان دہی کی۔ شکر ہے کہ عاطف خان کے جانے کے بعد بھی ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ اور مقامی ایم پی اے نے ان منصوبوں پر کام جاری رکھا، بلکہ کئی نئے منصوبے بھی شامل کیے۔ مذکورہ منصوبوں میں درولئی کا پُل اور ’’بحرین، درولئی سڑک‘‘ بھی شامل ہے۔ یہ سڑک 5 کلومیٹرز کی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کی چوڑائی 20 فٹ تک ہوگی۔
درولئی پُل اور سڑک دونوں یہاں کے لوگوں کے دیرینہ مطالبات ہیں۔ اس پُل سے بحرین بازار اور بحرین کی سیاحت کا بھی بڑا فائدہ ہے کہ لوگوں کے لیے دریا کنارے ایک ’’واکنگ ٹریک‘‘ بھی بن جاتا ہے۔ اس جگہ کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ موجودہ کڑھا پُل شاید پورے شمالی پاکستان میں ایک ایسا پُل ہوگا کہ جس پر کھڑے ہوکر سب سے زیادہ لوگوں نے سیلفیاں بنائی اور تصاویر بنوائی ہیں۔
درولئی کی نئی مجوزہ سڑک موجودہ سڑک کو بھی بنایا جاسکتا ہے، ا ور ایک بالکل نئی سڑک کی بھی گنجائش موجود ہے۔ کسی نے مخالفت نہیں کی اور اس سڑک کی راہ میں روکاوٹ نہیں ڈالی، مگر ایک افواہ پتا نہیں کیسے بنائی گئی، اور آگے بھی بڑھائی گئی کہ فلاں شخص درولئی کی سڑک کا مخالف ہے ۔
ایک تو کسی نے اب تک اس سڑک اور پُل کی مخالفت نہیں کی، اور برملا اعلان کیا کہ اس سڑک کے کنارے اگر کسی کی جائیداد کا کچھ حصہ جاتا بھی ہے، تو وہ اسے دینے کے لیے تیار ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ درولئی کی آبادی کم از کم 10ہزار ہے۔ اس میں ایک بندے کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے کہ جس کی وجہ سے سڑک کو منسوخ کیا جائے، یا اس کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ یہ محض افواہ ہے اور اس کی کوئی اہمیت اور صداقت نہیں۔ اور اگر کوئی ایک بندہ مخالفت بھی کرے، تو اس کی وجہ سے پوری دس ہزار کی آبادی کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اس افواہ پر یقین کیا جاتا ہے، اور اس کو ایک بہانا بنایا جاتا ہے، تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اصل میں کام کرنا ہی نہیں چاہتے اور الزام کسی اور کے سر کرنا چاہتے ہیں۔
بحرین تا درولئی 5 کلومیٹر سڑک ہر صورت میں بننی چاہیے اور اگر نہیں بنائی جاتی، تو احتجاج ہمارا حق بنتا ہے۔ اسی طرح نیا پل ضرور بنایا جائے۔ کیوں کہ اس پُل کی اہمیت دوگنی ہے۔ یہ درولئی کے لیے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے ہوگی۔ دوسری اہمیت اس کے بحرین بازار اور ہوٹلوں کے لیے ہے کہ اس پُل کی وجہ سے بحرین بازار کے ساتھ ہی ایک اچھی واکنگ ٹریک بن جائے گی۔ موجودہ پُل کو اسی طرح اپنی جگہ رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ ایک عجوبہ ہے اپنی صورت میں، اور جس جگہ پہ یہ ہے، وہ سیاحوں کے لیے پُرکشش بھی ہے۔
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے