60 total views, 1 views today

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوگا کہ ہر وقت ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے یا ایک ہی کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان کی نادیدہ قوتیں اور سلیکٹر ہر بار دو پسندیدہ کھلاڑیوں کو میدان میں اُتارتے رہے ہیں۔ سلیکٹروں نے یہ پہلے سے طے کیا ہوتا ہے کہ کون سے کھلاڑی کو جتوانا ہے، لیکن تماشائیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے دونوں کھلاڑیوں کو کچھ نہ کچھ کارکردگی دکھانے کا کہا جاتا ہے، اور آج تک دونوں اپنی ذمہ داری سے انصاف کرتے چلے آ رہے ہیں۔ایک کہتا ہے کہ “اگر مَیں اقتدار میں آیا، تو مَیں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔” دوسری طرف سے نعرۂ مستانہ بلند ہوتا ہے کہ “مَیں نے تمہیں لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا، تو میرا نام فلاں نہیں، کچھ اور رکھ دینا۔” لیکن آج تک کسی کا احتساب ہوا، اور نہ کسی کو سڑکوں پر گھسیٹا ہی گیا۔
بظاہر 2018ء تک سلیکٹرز یہ کھیل دو کھلاڑیوں سے کامیابی کے ساتھ کھلاتے رہے۔ طُرفہ تماشا یہ ہے کہ جن نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق سے جو دو کھلاڑیشکوہ شکایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اقتدار کی خاطر انہیں اپنے پیاروں کے خونِ ناحق بھی معاف کرتے  رہے۔ سلیکٹرز کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ جس کھلاڑی کو وہ جتوانا چاہتے ہیں، وہ ان کی توقعات پر پورا اترے گا بھی کہ نہیں، ملک و قوم کو اس کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا؟ یہ سب کچھ جائے بھاڑ میں، وہ اپنی مرضی کا کھیل کھیلتے اور کھلواتے رہیں گے۔ پاکستان بننے سے اب تک ان نادیدہ قوتوں کے سبب ملک ترقی کے زینے نہ چڑھ پایا۔
قارئین، مذکورہ کھیل اب تک صرف دو کھلاڑیوں کے درمیان کھلوایا جاتا تھا۔ سلیکٹرز کی نظریں تیسرے کھلاڑی عمران خان پر پڑگئیں اور یوں انھیں بھی اس کھیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن عمران خان کو کھیل میں شامل کرنے کے لیے وقت درکار تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے خلائی مخلوق نے نئے کھلاڑی عمران خان کے دل میں نیٹو افواج کی سپلائی لائن خیبر پختونخوا حیات آباد میں بند کرانے کا وسوسہ ڈال دیا، اور انہیں یہ باور کرایا گیا کہ ایسا کرنے سے تحریک انصاف اور ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ مقبولیت میں مزید اضافہ کے لیے تیسرے کھلاڑی کو 30 اپریل 2011ء کو لاہور میں مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کا مشورہ دیا گیا، تو تیسرے کھلاڑی نے ایسا ہی کیا۔ نتیجتاً جلسہ کامیاب رہا۔ سلیکٹرز کی کوششوں سے پہلے مرحلے میں تیسرا کھلاڑی خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوا، لیکن تختِ لاہور توڑ سکا اور نہ مرکز میں اسے کامیابی ہی نصیب ہوئی۔ نادیدہ قوتوں نے اگست 2014ء میں دوسرے کھلاڑی مسلم لیگ نون حکومت کو دھرنا سے گرانے کی بہت کوشش کی، لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ بالآخر پانامہ لیکس کی گیند پر نواز شریف کو بولڈ کیا گیا۔ نتیجتاً 25 جولائی 2018ء کو سلیکٹر تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے، اور تیسرا کھلاڑی عمران خان مرکز، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوا۔ سابقہ دو کھلاڑیوں سمیت اپوزیشن کی باقی پارٹیوں کو سلیکٹر کا فیصلہ کسی صورت قابلِ قبول نہ تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے تو ابتدا ہی سے اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو حلف نہ لینے پر راضی کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن دونوں بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں نے ان کا مشورہ مسترد کردیا۔ مولانا نے دوسری بار دھرنے سے حکومت گرانے کی کوشش کی، تو یہاں بھی دونوں بڑی پارٹیوں نے مولانا کا ساتھ نہ دیا اور مولانا کو بے نتیجہ دھرنا ختم کرنا پڑا۔
قارئین، تحریکِ انصاف کو اقتدار تو مل گیا، لیکن عمران خان سمیت ٹیم میں شامل تمام کے تمام کھلاڑی اناڑی نکلے۔ عمران خان اور ان کے وزیر، مشیر خود اپنے لیے مسائل پیدا کرکے اپوزیشن کو حکومت کے خلاف بیان بازی کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جب کہ بحرانوں کو حل کرنے کے بجائے اُنہیں ناقابلِ حل بنا دیتے ہیں۔ اپوزیشن کے سیاسی عمائدین تو ویسے بھی مزید تین سال تک باری کا نتظار نہیں کرسکتے، اس لیے انہوں نے ایک بار پھر سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لیے مشوروں کا آغاز کر دیا ہے۔ اپوزیشن عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے نظر آ رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر “مائنس ون” اور “مانئس ٹو” کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں “مائنس ون” کا تذکرہ کوئی نئی بات نہیں۔ کیوں کہ حکومتوں سے یہ مطالبات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ ہماری سیاست میں جب بھی مائنس ون کی باتیں شروع ہونے لگتی ہیں، تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اس کے خلاف دلائل پیش کریں یا اسے اپوزیشن کی خواہش سے تشبیہ دیں، اس کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اس کے پیچھے سلیکٹر کا ہاتھ ہے جو چاہتے ہیں کہ اب کسی نئے کھلاڑی کو آگے لایا جائے۔
معاملہ کچھ بھی ہو، لیکن لوگوں کے دل میں یہ خدشہ گھر کرگیا ہے کہ آج حکومت گئی، کل گئی۔ اس کے باوجود اگر یہ سب افواہیں اور اپوزیشن کا چھوڑا ہوا شوشا ہو، تو پھر بھی حکومتی ارکان کو ڈر لگا رہتا ہے، اور وہ اقتدار میں بھی اطمینان کا سانس نہیں لے سکتے، اور انھیں حکومت ختم ہونے کا روگ لگا رہتا ہے۔ جب ’’مائنس ون‘‘ اور ’’مائنس ٹو‘‘ کی باتیں شروع ہوتی ہیں، تو دال میں کچھ کالا ضرور ہوتا ہے۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے