72 total views, 1 views today

سب بخوبی آگاہ ہیں کہ مملکت کو 65 سے 70 فیصد ریونیو دینے والا شہر قائد’’مظلوم ماں‘‘ کی طرح کس قدر تکلیف و اذیت سے گذر رہا ہے۔ روشنیوں کا شہر انتظامی نااہلی کے سبب کھنڈرات، گندے ندی نالے اور کچروں کے انبار کے ساتھ دنیا بھر کے دیرینہ مسائل کی آجامگا ہ بن چکا ہے۔ صاف پانی ہو یا سیوریج کا، بے روزگار فرد ہو، تاجر برداری کی پریشانیاں، صحت کا مسئلہ ہو، مُردے دفنانے کے لیے قبرستان میں قبر کے لیے جگہ کا نہ ملنا، غرض مسائل کا انبار ہے۔ شدید گرمی میں مون سون کی بارشوں کے دوسرے اسمارٹ سیزن نے کراچی کو ڈبو دیا، لیکن اربابِ اختیار کو اہلِ کراچی پر ترس نہیں آیا۔
کراچی پر جہا ں کرپٹ گدھ مسلط ہیں، وہاں ایک ایسا عذاب بھی سیاسی مفادات کے باعث شہر قائد پر مسلط کیا گیا ہے، جس کی فرعونیت کاحل کسی کے پاس نہیں۔ کوئی بھی حکومت آئے، کسی بھی سیاسی جماعت کی حکمرانی ہو، حکمراں یا حزبِ اختلاف ہوں، معاشی شہ رگ کے شہریوں کے 99 فیصد صارفین ایوریج بل، اووربلنگ، علانیہ و غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ کی دہائی دیتے نظر آئیں گے۔ ذاتی طور پر جتنے بجلی کے صارفین دیکھے، انہوں نے ہاتھ الٹا کرکے بجلی فراہم کرنے والے ادارے اور ان کے ذمے داروں کو بددعائیں ہی دیں کہ ایک تو بجلی نہیں، دوم اس ادارے نے زندگی اجیرن کردی ہے کہ اتنی تنخواہ نہیں جتنا بجلی کا بل بنا کر بھیج دیا جاتا ہے۔
میٹر ریڈر چاہے جتنی بھی ایمان داری سے استعمال کرنے والے گھریلو یا کمرشل صارف کے میٹر سے یونٹس ریکارڈ کرے، بلنگ ڈیپارٹمنٹ کا اپنا قانون اور اپنا نظریہ ’میٹر ریڈنگ سیفٹی‘‘ کے نام پر اجارہ داری ہے، اپنے فسطائی نظریے کے مطابق نام نہاد اوسط بل بنا دیا جاتا ہے۔ شکایت کرنے پر نیا بل راتوں رات تبدیل اور اصل بل سے تین گنا زائد بل کے ساتھ ضمنی بل بنا کراقساط کرنا، جیسے احسان عظیم کیا گیا۔ اگر بروقت قسط نہ بھری جائے، تو چند ہزار کے بل پر سیکڑوں روپے ’’لیٹ پے منٹ‘‘ کا الگ سر چارج لگادیا جاتا ہے۔ غرض زیادہ سے زیادہ رقم گورنمنٹ چارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ، جنرل سیل ٹیکس،سلیب چارجز کے نام پر تھوپی جاتی ہے۔ سابق مہینے کی ریڈنگ کے ساتھ حالیہ ریڈنگ اوراستعمال شدہ یونٹ بھی ہوں گے اور اس کے ساتھ بل ڈیپارنمنٹ کے نظریے کے تحت اضافی یونٹس بنا کر اووربلنگ معمول بنا چکا ہے۔
لوڈشیڈنگ، اوسط بل اور اوور بلنگ ایک ایسا عذابِ مسلسل ہے، جس سے اہلِ کراچی کو چھٹکارا نہیں مل پا رہا۔ عوام کی عمومی رائے یہی ہے کہ اووربلنگ کے تحت حاصل کردہ زائد رقم بعض جماعتوں، تنظیموں اور بیشتر میڈیا ہاؤس کو دی جاتی ہے، جو نجی ادارے کے خلاف احتجاج کرکے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ یہ حصہ اہلِ کراچی سے تحریری جاری کردہ بھتے کی صورت میں جبراً وصول کیا جاتا ہے۔ عوام کی رائے ہے کہ جس ادارے نے کبھی اضافی بجلی کی فراہمی کے لیے کام نہیں کیا، مالیاتی اداروں سے کھربوں روپے قرض لیے، حکومت سے سہولیات حاصل کیں، لیکن کبھی اس ادارے نے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ اوسط بل، اووربلنگ اور لوڈ شیڈنگ کا ایک ایسا عذاب مسلط کیا ہواہے جس کو کوئی لگام دینے کی اہلیت و ہمت نہیں رکھتا۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی جب نجکاری کی گئی، تو برسوں تک کسی کے علم میں نہیں تھا کہ اس سرکاری ادارے کو خریدنے والا، اصل مالک و شراکت دارکون کون ہیں؟ بعد ازاں سپریم کورٹ میں ایک کیس کے دوران میں وہ خفیہ معاہدہ سامنے آیا، جس میں عوام کے بنیادی حقوق بے رحمی سے فروخت کردیے گئے تھے۔ معروف سیاسی جماعتوں کے رشتے دار بھاری معاوضوں پر بھرتی کرکے سیاسی چھتری استعمال کرنا وتیرہ بن گیا۔ عوام بخوبی واقف ہیں کہ کون کون سی جماعت کے رہنماؤں کے رشتے دار بھرتی ہوئے اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اپنی تنخواہ بھی نکالتے اور جونک کی طرح عوام کا خون بھی پیتے ہیں۔ کراچی مثلِ اُس ماں مظلوم کی ہے جو ریاست کو پال پوس کر جوان کرتی ہے، تو اس کی اولاد ناخلف ونافرمان بیٹے بن جاتے ہیں۔
عوام کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے۔ کوئی شنوائی، سنوائی نہیں۔ سونے کی چڑیا کے پَر نوچے جا رہے ہیں۔ اذیت سے چیخنا اور بلکنا بھی کسی کو نظر نہیں آتا۔ بے رحم کیفیت میں مبتلا اہلِ کراچی کا احساسِ محرومی میں مبتلا ہونا، اور بنیادی حقوق کو سلب کیا جانا نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر حق دار کو اُس کا جائز حق نہ ملے، تو احساسِ محرومی کو کوئی ’’احساس پروگرام‘‘ دور نہیں کرسکتا، بلکہ اس کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، جس کی مثال بلوچستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، جہا ں احساسِ محرومی کے جنم کے بعد اُس کے پنپنے سے دشوار گذار مشکلات پیدا ہوئیں۔
اہلِ کراچی کے ساتھ روا رکھا جانے والا ظلم کا رویہ ختم کرنا ہوگا، یہ ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے