98 total views, 1 views today

جب سے میڈیا ( برقی ذرائع ابلاغ، اخبارات و رسائل) معرض وجود میں آیا ہے ، تب سے اس میڈیا پر اہلِ مغرب کا براہِ راست قبضہ ہے۔ چھاپا خانہ سے لے کر ریڈیو، ٹی وی، تھیٹر اور اخبارات تک سبھی پر اہلِ مغرب مشنری سوچ و فکر کے ساتھ قابض ہیں۔
حالیہ تاریخ میں بی بی سی نے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں مشرق و مغرب پر راج کیا۔ فلموں کی دنیا میں ہالی ووڈ نے اجارہ داری قائم کی۔ تھیٹر اور سٹیج میں بھی اہلِ مغرب کا سکہ چلتا تھا اور چلتا ہے۔
دوسرے نمبر پر بالی ووڈ ہے جو انڈیا کے کفار و مشرکین کا میڈیا ہے۔ مسلم دنیا میں کوئی ایسا میڈیائی سسٹم نہیں جو مقامی یا ملکی حدود سے آگے بڑھ کر دنیا کو اپنی طرف مائل کرے۔ میڈیا پر کفار کے اس لامتناہی کنٹرول کی کئی صدیاں گذر گئیں۔ اس دوران میں اس میڈیا کے صارفین میں جہاں مغربی ممالک کے لوگ ہیں، وہاں سب سے زیادہ مسلم ممالک کی آبادیاں ہیں۔ عرب و عجم میں حساب لگائیں، ہر گھر سے شروع کریں۔ ٹی وی سکرین پر چلنے والے مواد کی حساب کتاب کریں۔ نو فیصد مواد ہندوؤں اور اہلِ مغرب کا دکھایا جاتا ہے۔ مَیں نے عرب دنیا میں کئی سال گذارے اور اس چیز پر بہت تحقیق کی۔ وہاں مغربی ڈرامے، انڈین ڈرامے اور فلمیں صبح شام دکھائی جاتی ہیں اور تو اور عرب معاشرے میں بلیو موویز کا باک ختم ہے۔ وہاں گھر میں میاں بیوی اور بچے ایک ساتھ بیٹھ کر ایسی فلمیں دیکھتے ہیں۔ شائد کچھ دین دار خاندانوں میں ایسا نہ ہو، لیکن غالب اکثریت ایسا کرتی ہے۔ ہندوستاں میں پچیس کروڑ مسلمان بستے ہیں، وہاں کئی اہم مسلم ادارے جیسے ندوۃ العلما اور دیوبند موجود ہیں جن سے ہماری فکری وابستگی بھی ہے۔ وہاں کا میڈیا صبح شام کفریہ مواد دکھا رہا ہے۔ اسی طرح مصر جو مغربی کلچر کے سامنے ننگا لیٹا ہے، وہاں بھی جامعہ الازہر جیسے عظیم ادارے ہیں، جن سے ہمارا روحانی رشتہ ہے۔ پاکستان جہاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور قومی چینلوں پر صبح شام غیر شرعی مناظر دکھائے جاتے ہیں، یہاں بھی بڑے اسلامی مدارس اور دین کے دعویدار موجود ہیں۔ کئی درجن تو اسلامی جماعتیں ہیں، لیکن مجال ہے کہ کسی دینی شخصیت، ادارے، مدرسے، سیاسی پارٹی یا دارالفتاویٰ نے غلطی سے بھی اس کفریہ نظام کے ورلڈ آرڈر پر قائم میڈیائی نظام کے خلاف ایسا مہم چلایا ہو، جو آج کل ترک ڈراما ’’دیریلس ارتغرل‘‘ کے خلاف جاری ہے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ اس ڈرامے سے جہاں اہل مغرب کو تکلیف ہے، اس سے زیادہ تکلیف ’’دین داروں‘‘ کو ہے۔ آج ایک دوست نے ایک شخص کی ویڈیو بھیجی جو کسی مسجد میں ممبر پر بیٹھا پشتو زبان میں ترک ڈرامے کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوتا ہے، اور اسے اسلام کے خلاف سازش قرار دے رہا ہوتا ہے۔ اسی شخص کا کہنا تھا کہ جامعہ بنوریہ، دیوبند اور جامعہ الازہر نے اس ڈرامے کو شرعاً حرام قرار دیا ہے۔ اس ڈرامے میں یہ چیز غلط ہے، وہ چیز غلط ہے۔ اس میں تارِیخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ ساتھ میں کہتا ہے کہ یہ ڈراما مَیں نے نہیں دیکھا۔ تو جناب جب دیکھا تک نہیں، تو اس کا تجزیہ کیسے کیا؟ یہ معیار ہے ہمارے ہاں لانڈے کے سکالرز کا۔
مختلف چیزوں کو بنیاد بیا کر اس ڈرامے کے مثبت اثرات جو نوجوان نسل میں منتقل ہو رہے ہیں،ان کو زائل کیا جا رہا ہے۔ نام نہاد اسلام پسند کہتے ہیں کہ اس ڈرامے میں اختلاط مرد و زن ہے۔ عشق و رومانس ہے۔ نامحرم عورتیں ہیں۔ تصویر اور ویڈیو دیکھنا حرام ہے۔ عثمانی تاریخ مسخ کی گئی ہے۔ اس لیے اس ڈرامے کا دیکھنا شرعاًممنوع ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ڈرامے میں کوئی متنازعہ چیز نہیں۔ کوئی فرقہ واریت نہیں، کوئی فکری و علمی انتشار نہیں۔ کوئی نفرت انگیز چیز نہیں۔ قرآن و سنت کے خلاف بات نہیں۔ جہاں تک بات ہے نامحرم مرد و عورت کے اختلاط کی تو یہ جدید میڈیا کا حصہ ہے، اس کے بغیر میڈیا کا استعمال ناممکن ہے۔ قرآن میں جس لفظ کو بار بار استعمال کیا گیا ہے، وہ ہے ’’حکمت۔‘‘ مومن کو حکمت و فراست کا حکم ملا ہے۔ اس ڈرامے کا اصل مقصد نفسیاتی انداز میں بالخصوص جدید ترک نسل جو اسلام سے بہت دور ہے، اور بالعموم پوری ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو جگانا ہے ۔ اب ان کو کیسے متوجہ کیا جائے، اس کے لیے بصیرت و حکمت چاہیے۔ وہ حکمت جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ وہ حکمت جس کا استعمال ارتغرل نے کیا تھا۔ وہ حکمت جس کا استعمال صلاح الدین ایوبی نے کیا تھا۔ وہ حکمت جسکا استعمال اردگان کر رہا ہے۔
ہندوستاں میں اولیائے کرام نے زیادہ اسلام قوالیوں کے ذریعے پھیلایا۔ وجہ یہ تھی کہ یہاں کے لوگ موسیقی کے دلدادہ تھے۔ اس سے اثر لیتے تھے۔ پاکستان کے پختون علاقے وزیرستان اور بنوں میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں جہادی امیر فقیر ایپی مقامی قبائل کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا (اتنڑ) ڈلواتا۔ لیکن یہ عام مولوی کیا جانیں حکمت کیا چیز ہے، قرآنی روح کیا چیز ہے ؟
قوم کیا ہے قوموں کی امامت کیا ہے
یہ کیا جانیں بیچارے یہ دو رکعت کے امام
امامت کے وصف سے محروم یہ بے دلیل مولوی جو ہمیشہ کفریہ طاقتوں کے ہاتھ میں کھلونا بنتے ہیں، یہ کبھی امہ کو اٹھنے نہیں دیں گے۔ حالاں کہ ارتغرل ڈرامے کے ساز سے لے کر گھڑ سواری، تیر اورنیزہ بازی، ٹائٹل ترانا، بیک گراونڈ قرآنی آیات اور تلوار بازی اور میدانِ جنگ سبھی میں اسلام، امہ، تارِیخ اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کا پیغام ہے، لیکن یہ بے چاری مولوی کیا جانیں!
پاکستان میں جماعت اسلامی سے زیادہ داعی اسلام کوئی نہیں۔ انہوں نے اپنے تمام کارکنان کو یہ ڈراما دیکھنے کی باقاعدہ تلقین کی ہے ۔ اس وقت جب یہ ڈراما پاکستان میں اتنا مقبول نہیں تھا، مجھے جماعت اسلامی کے ایک دوست اختر علی شاہ نے یہ تاکید کی تھی کہ آپ ایک سیاسی سوچ و فکر کے آدمی ہیں، یہ ڈراما ضرور دیکھیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ارتغرل کی مخالفت کرنے والے امہ اور اسلام کے دشمن ہیں۔ اس ڈرامے کو چلنے دیں۔ یہ جدید تقاضوں، ضروریات و نفسیات کی بنیاد پر امہ کے سوئے ہوئے شاہینوں کو جگانے کی ایک کامیاب و پراثر کوشش ہے ۔
لبرلز، دین بے زار اور مغرب و مغربی ذہنیت یا مشرق میں آباد ہندو مشرکین اگر اس ڈرامے کے خلاف چیخیں تو ان کی چیخیں بجا ہیں، لیکن اسلامی لبادے میں ملبوس کوئی شخص اس ڈرامے کے خلاف آواز اٹھائے، تو دو وجوہات ہو سکتی ہیں: اس کی کم عقلی یا اس کا مغربی ایجنٹ ہونا۔ ارتغرل ڈراما دیکھنے کے بعد آپ کو یقینا ایک مشق ہو جائے گی، وہ مشق ہے: دوست کے لباس میں دشمن کی پہچان۔لہٰذا یہ ڈراما ضرور دیکھیں اور اپنے آپ کو اسلامی امہ کے اس مین سٹریم میں شامل کریں، جس کی قیادت عنقریب ترک نسلوں کو ملنے والی ہے۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے