98 total views, 1 views today

حکومت اور علما کے مابین مذاکرات کی کامیابی کے بعد مساجد میں جمعہ کی نماز اور تراویح کی مشروط اجازت مل چکی ہے۔ صدرِ پاکستان جناب عارف علوی نے علما کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور انہیں بیس نِکاتی مشترکہ ایجنڈے پر راضی کرلیا ہے جو کہ ایک قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔ نجانے کیوں گذشتہ ہفتے چیئرمین رویتِ ہلال کمیٹی جناب مفتی منیب الرحمان نے تمام مذہبی طبقات اور حکومت سے مشاورت کے بنا یک طرفہ طور پر مساجد کھولنے، نمازِ جمعہ اور تراویح کے انعقاد کا اعلان کیا؟ اس اعلان نے ملک گیر سطح پر سخت بے چینی پیدا کی۔
سوال اٹھایا گیا کہ آخر مفتی منیب الرحمان کے پاس ایسا اعلان کرنے کا کیا جواز اور اختیار ہے؟ کرونا جیسی مہلک وبا کے مسلسل پھیلاؤ کے خطرے کے باوصف یہ اعلان کرکے وہ شہریوں کی زندگیوں کو خطرات میں ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس طرح کا عمل خواہ کوئی بھی شخص کرے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف تصور کیا جاتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کی رائے تھی کہ ریاست کو ایسے افراد کے خلاف سختی سے پیش آنا چاہیے، جو ایمرجنسی کی حالت میں بھی انتشار پھیلانے سے باز نہیں آتے ۔ مگر حکومت نے دانشمندی کا ثبوت دیا اور اس اعلان کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مذاکرات کی بساط بچھائی۔ مفتی منیب کے اعلان نے کچھ چبھتے ہوئے سولات ضرور جنم دیے، ہیں جن پر گفتگو ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر علما کو یہ گمان کیوں ہے کہ پاکستان میں وہ تنہا ’’اسلام کے محافظ‘‘ ہیں۔ ان کے علاوہ تمام لوگ خواہ وہ ارکانِ پارلیمان ہوں، یا سرکاری حکام سب ہی مغربی تہذیب کے دلدادہ اور مذہب بے زار ہیں۔
فرنگی عہد میں ایسی سوچ پالنے کی سمجھ آتی ہے۔ اہلِ مغرب علوم وفنون کے امام تھے، اور مسلمانوں کا ظاہری اور باطنی وجود تحلیل ہوچکا تھا۔ منبر و محراب کے علاوہ کوئی ادارہ نہ تھا جو دینی معاملات میں عامۃ الناس کی راہنمائی کرتا۔ علاوہ ازیں انگریزوں اور ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ’’دیسی مفکرین‘‘ مستشرقین کے زیرِ اثر آئے روز مذہب کی شبیہ بگاڑنے اور اسے اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے۔
مفکرینِ مغرب کی طرف سے مسلسل علمی یلغار تھی۔ قلوب و اذہان کو مسخر کرنے کی منظم کوشش کی جاتی تھی۔ ان کوششوں کا سدباب کرنے اور لوگوں کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے علما کی طرف راہنمائی کے لیے رجوع کرنا فطری تھا۔
غلامی کا دور تمام ہوا۔ اسلامی ملک پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ دستورِپاکستان کسی بھی غیر اسلامی قانون کو برداشت نہیں کرتا۔ پارلیمان کے اندر صرف مذہبی جماعتوں کے ارکان ہی نہیں بلکہ دیگر شخصیات بھی اسلامی اقدار کی صدق دل سے احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے ہی 1973ء کا آئین بنایا اور قراردادِ پاکستان کو اس کا حصہ بنایا۔ بدقسمتی سے انگریزکے زمانے میں ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف مزاحمت اور دین کی حفاظت کی جو فکر کوٹ کوٹ کرعلما اور ان کے پیروکاروں کو ذہن نشین کرائی گئی تھی، وہ آج بھی پوری آب و تاب سے قائم ودائم ہے۔ انگریزی عہد کی نفسیاتی کیفیت کا ابھی تک قیدی ہے۔
چلیں، معاہدہ ہوگیا۔ اب نمازِ جمعہ اور تراویح مساجد میں ادا کی جائے گی،لیکن بات یہاں ختم نہیں ہو رہی۔ سوال یہ ہے کہ عالمی ادارے پاکستان میں کرونا سے متوقع ہلاکتوں کے بارے میں جو امکانات ظاہر کررہے ہیں، ان سے کیسے بچا جائے؟ مثال کے طور پر لندن کے امپیریل کالج نے پیش گوئی کی کہ اگر کرونا سے بچنے کے لیے معقول احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں، تو پاکستان کے 45 لاکھ کے لگ بھگ شہری اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے دیگر بے شمار ادارے مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان میں کرونا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہونے کے امکانات ہیں۔ کرونا وائرس آج نہیں تو کل کسی ویکسین کے ہاتھوں ڈھیر ہوجائے گا، لیکن معاشروں میں پائی جانے والی نفرت، عداوت اور بالادستی کی خواہشات کا قلع قمع کرنے کے لیے اجتماعی شعور اجاگرکرنے کی ضرورت ہے۔ جمعہ نماز ضرور ادا کریں اور تراویح کے لیے بھی جمع ہوں، لیکن اس موقع کو استعمال کرکے لوگوں کو منظم کرنے اور انہیں ایک پُرامن اور ذمہ دار شہری بننے کی تلقین کریں۔ انہیں ذہن نشین کرائیں کہ ان کے ایک غلط عمل سے ان کا خاندان، عزیز و اقارب اور دوسرے ملنے جلنے والے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اوروں کی حفاظت اور ان کی سلامتی کا خیال رکھنا اپنا خیال رکھنے سے زیادہ ضروری ہے۔ صحت اور صفائی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات انسانی تہذیبوں کا زیور ہیں۔ طاقوں میں سجانے اور چومنے کے علاوہ انہیں عمومی طور پر فراموش کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے باربار فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ صفائی کی تلقین کے علاوہ یہ موقع ہے کہ علما نمازیوں کو باورکرائیں کہ ریاستی قانون پر عمل درآمدبہت ضروری ہے؟ سگنل توڑنا بہادری نہیں۔ بہادری یہ ہے کہ کوئی دیکھ نہ بھی رہا ہو، تو بھی سگنل نہ توڑا جائے۔ چند روز بعد شروع ہونے والے رمضان کو عوام کی تربیت کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ٹی وی چینلوں بھی رمضان کے حوالے سے بے شمار پروگرام کرتے ہیں، اگرچہ اکثر بے مقصد ہوتے ہیں۔ ان پروگراموں میں لوگوں کو بتایا جائے کہ ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ مددگار ہوتے ہیں۔ ہلڑ بازی، قطار نہ بنانا اور دھونس جما کر کام نکلوانے والوں کی عزت نہیں کی جاتی۔ حقوق اللہ کی معافی کے امکانات روشن ہیں، لیکن انسانوں یعنی خدا کے کنبے سے اچھا سلوک کیے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہ کرپائے گا۔
ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی اور امریکہ کے مسلمانوں نے مساجد کا تصور ہی بدل دیا ہے۔ وہ مسجد کو اب محض صرف نماز کی ادائیگی کی ایک جگہ کے طور پر استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر لائبریری، جم اور تربیتی کلاسز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مبین شاہ نے کوالالمپور سے ایک تصویر بھیجی جو ظاہر کرتی ہے کہ مساجد میں اب بیت المال بھی قائم ہے، جہاں سے ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے۔ ان آئیڈیاز سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
……………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے