52 total views, 1 views today

یہ 23 اپریل 1930ء کا دن تھا جب خدائی خدمت گار کے سرخ پوش پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار میں اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ برطانوی سامراج سے آزادی کے نعرے لگارہے تھے اور اپنے رہنما باچا خان کی گرفتاری کے خلاف سراپا احتجاج تھے، جو چند دنوں پیشتر چارسدہ اتمانزی میں کی گئی ایک تقریر کی پاداش میں گرفتار ہوچکے تھے۔ قصہ خوانی بازار میں آنے والے یہ سرخ پوش مکمل نہتے تھے۔ کیوں کہ ان کا نعرہ، دعویٰ اور فلسفہ ’’عدمِ تشدد‘‘تھا۔ احتجاج کو روکنے کے لیے برطانوی فوج اور ان کے دیسی نوکر یعنی ’’گھروال رائفلز‘‘ کے سپاہی اسلحہ تانے کھڑے تھے۔ موقع پر موجود برطانوی فوج کے کمانڈنگ افسراس وقت کیپٹن رکٹ تھے۔ یہ’’گھروال رائفلز‘‘ (فورس) بنیادی طور پرغالباً 1881ء میں بنگال میں کھڑی کی گئی تھی، جو برطانوی قبضے کے بعد برٹش رائل آرمی آف انڈیا میں ضم ہوگئی۔ تاہم آزادی کے بعد انڈین فوج کاحصہ بن گئی۔ قصہ خوانی بازار کے سانحہ کے روز کیپٹن رکٹ نے اپنے کمانڈنگ آفیسر سے آرڈر ملتے ہی مظاہرین پر گولی چلانے کے لیے حکم دیتے ہوئے کہا:’’تھری راؤنڈز فائر‘‘۔ لیکن کیپٹن کے بائیں طرف کھڑے حوالدار چندرا سنگھ نے چیختے ہوئے کہا: ’’گھروالے سیز فائر!‘‘ اور یہ حکم سنتے ہی ’’گھروال رائفلز‘‘ کے سپاہیوں نے بندوقیں نیچے رکھ دیں۔ بدقسمتی سے ساتھ ہی کھڑے کچھ برطانوی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور نتیجتاً دو سوسے تین سو تک پُرامن اور نہتے مظاہرین جان بحق ہوگئے۔ کیپٹن رکٹ نے حوالدار چندرا سنگھ کی یہ حکم عدولی دیکھتے ہوئے غصے میں اس سے پوچھا: ’’حوالدار! تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ حوالدار چندرا سنگھ نے جواباً کہا:’’سر! وہ نہتے تھے اورہم نہتے لوگوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے!‘‘
دن گزرگیا، مظاہرین مرگئے اور 30 اپریل 1930ء کا دن تاریخ میں یادگار بن گیا۔ لیکن حوالدار چندرا سنگھ اور اس کے حکم پر بندوق رکھنے والوں کی آزمائش ابھی باقی تھی۔ ان سب پر مقدمہ چلا اور انہیں مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں۔ یوں حوالدار چندرا سنگھ اور اس کے ساتھی تاریخ میں امر ہوگئے۔ کیوں کہ نہتے لوگوں پر لاٹھی اور گولی چلانا کوئی مردانگی نہیں، جو برٹش فوج کیا کرتی تھی۔
قارئین، یہ کہانی مجھے اس لیے یاد آئی کہ چند دنوں پیشتر کوئٹہ میں احتجاجی ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیاگیا، اور ان کوگرفتارکیا گیا۔ اگرچہ بعد میں مسئلہ حل ہوا، لیکن اس وقت جب سارے احتجاجی ڈاکٹرز نہتے تھے، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ کورونا سے محفوظ رکھنے والے مخصوص آلات کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا یہ مطالبہ برحق تھا، کیوں کہ کورونا کے اس وبا سے لڑنے میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ صفِ اول میں لڑنے والے ہیں، اگر ان کو یہ تحفظ حاصل نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہواکہ آپ اپنی فوج کو بغیر بندوق اور بارود کے دشمن سے لڑنے بھیج رہے ہیں۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ بلوچستان حکومت اور پولیس کے ذمہ داران کیوں کر اس دن کیپٹن رکٹ بنے ہوئے تھے، اور لاٹھی چارج اور گرفتاری کا حکم دے رہے تھے۔ کاش، ان میں کوئی ایک بھی حوالدار چندرا سنگھ جیسا ہوتا جو بتاتا کہ ’’سر، نہتے لوگوں کو مارنا ہمارا کام نہیں!‘‘
انگریز کب کا جاچکا ہے، لیکن ہماری بیورو کریسی جس میں پولیس بھی شامل ہے، کے بیشتر افسران وہی سامراجی ذہنیت کے ساتھ اپنے ہم وطنوں سے پیش آتے ہیں۔ پس جو بھی اپنا حق مانگے یا صاحبِ اختیار کے سامنے حق گوئی کی کوشش کرے، اس کو مارنا، پیٹنا، گرفتار کرنا، اغوا کرنا اور قتل کرنا ’’صاحب‘‘ کے لیے گویا جائز ہوجاتاہے۔
یہ معاملہ صرف کوئٹہ کے اس واقعے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں ہر صاحبِ اختیار کا یہی حال ہے۔ کتنے احتجاج ہوئے ہیں ابھی تک جس میں نہتے مظاہرین پر گولی چلانا پولیس اور دیگر ادارے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ سانحۂ ماڈل ٹاؤن اور سانحۂ ساہیوال کے متاثرین تو اب بھی انصاف کے متلاشی ہیں، جنہوں نے کوئی مظاہرہ اور احتجاج بھی نہیں کیاتھا، پھر بھی پولیس کی گولیوں کانشانہ بنے۔ جہاں پولیس کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن رکٹ بنے ہوئے تھے، مگر ماتحتوں میں ایک بھی حولدار چندرا سنگھ جیسا نہیں تھا، جو نہتے لوگوں پر گولی چلانے سے انکار کرتا اور یوں بظاہر بے گناہ لوگ، ناکردہ جرم میں نہ مارے جاتے۔ پولیس کے اس ماوارے قانون عمل کودرست کرنا حکمرانِ وقت کاکام ہے، لیکن بشرط یہ کہ حکمران اپنا ہم وطن ہو، ورنہ پھر حوالدار چندرا سنگھ جیسے حق پرستوں ہی کو سزا ملے گی۔
رہے نام اللہ کا!
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے