389 total views, 1 views today

کوئی بھی ملک اُ س وقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا، جب تک اس ملک کی آباد ی کے درست اعداد و شمار معلوم نہ ہوں۔ ملک کی آبادی کا تعین مردم شماری کے عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔ مردم شماری کے تحت حاصل ہونے والے مواد اور اعداد و شمار کے ذریعے محققین اور تجزیہ کار معاشرے کے مختلف امور پر معاشی اور معاشرتی عوامل کے وقوع پذیر ہونے یا ختم ہونے سے پیدا ہونے والے رجحان کی نشاندہی اور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔

آئینِ پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے، لیکن انتہائی افسوس اور مقامِ شرمندگی ہے کہ ہم قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک صرف چھے بار مردم شماری کروا سکے۔ پہلی مردم شماری 1951ء، پھر بالترتیب 1961ء، 1972ء، 1998ء،1981ء اور آخری بارمارچ؍ اپریل 2017ء میں ہوئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے، جس کا خمیازہ آج مسائل کے انبار کی صورت میں بھگت جا رہا ہے۔


آئینِ پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے، لیکن انتہائی افسوس اور مقامِ شرمندگی ہے کہ ہم قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک صرف چھے بار مردم شماری کروا سکے۔

پاکستان کی آبادی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی، تو 2050ء میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔ پاکستان میں چھٹی مردم شماری عبوری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے ادارۂ شماریات نے جمعے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیے ہیں۔ ان اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ اُنیس سالوں کے دوران میں ملک کی آبادی میں سات کروڑ چون لاکھ بائیس ہزار دو سو اکتالیس افراد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ ستاون فیصد اضافے کے برابر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی موجودہ آبادی میں مرد اور خواتین کا تناسب تقریباً برابر ہے اور مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں صرف اکیاون لاکھ زیادہ ہے۔

پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی، تو 2050ء میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔

پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی، تو 2050ء میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔

مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا تھا جن کی تعداد دس ہزار چار سو اٹھارہ بتائی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں تقریباً سات ہزار جبکہ سب سے کم تعداد فاٹا میں ستائیس ہے۔ ابتدائی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں آبادی میں اضافے کی اوسط سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جو ملکی آبادی کا نصف سے زائد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی گیارہ کروڑ ہے جس میں دیہی آبادی تقریباً سات کروڑ ہے جبکہ چار کروڑ یا تقریباً سینتیس فیصد لوگ شہروں میں مقیم ہیں۔ 1998ء میں پنجاب کی آبادی سات کروڑ سے زیادہ تھی۔




مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا تھا جن کی تعداد دس ہزار چار سو اٹھارہ بتائی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں تقریباً سات ہزار جبکہ سب سے کم تعداد فاٹا میں ستائیس ہے۔

آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جو پونے پانچ کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں دو کروڑ انچاس لاکھ مرد، جبکہ دو کروڑ اُنتیس لاکھ خواتین بستی ہیں۔ باقی صوبوں کی نسبت سندھ میں آبادی کا بڑا حصہ شہری علاقوں میں مقیم ہے، جو صوبے کی کل آبادی کا باون فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ کی آبادی پونے چار کروڑ ہے۔ وہاں بھی مرد و خواتین کی تعداد تقریباً برابر ہی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں اکیاسی فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جبکہ فاٹا کی کل آبادی پچاس لاکھ بتائی گئی ہے۔ بلوچستان میں کل آبادی ایک کروڑ تیئس لاکھ سے زائد ہے۔ جہاں چونسٹھ لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کی تعداد اٹھاون لاکھ سے زائد ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق اسلام آباد میں شہری آبادی میں کمی جبکہ دیہی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 1998ء میں اسلام آباد میں شہری آبادی تقریباً چھیاسٹھ فیصد تھی جو اب کم ہو کر تقریباً اکیاون فیصد رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان اعداد وشمار میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج ابھی شامل ہونا باقی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق اسلام آباد میں شہری آبادی میں کمی جبکہ دیہی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 1998ء میں اسلام آباد میں شہری آبادی تقریباً چھیاسٹھ فیصد تھی جو اب کم ہو کر تقریباً اکیاون فیصد رہ گئی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں آج کی صورتحال کو مدِنظر رکھ کر نشستوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے، نہ کہ ماضی کے مطابق۔ ماضی میں ہونے والی مردم شماریوں پر بھی اعتراض اٹھائے گئے۔ 1961ء میں ہونے والی مردم شماری پر مشرقی پاکستان کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے ان کے وسائل پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اسی طرح 1982ء میں بھی کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا۔ 1991ء کی مردم شماری بھی سیاست کی نذر ہوگئی تھی۔ اس وقت بلوچستان اور کراچی کی آبادیوں میں غلطیاں اور تضاد پایا گیا تھا۔ 1998ء کی مردم شماری کو آج تقریباً اٹھارہ سال ہو چکے ہیں۔ چھٹی مردم شماری 2008ء میں ہونا تھی، مگر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مردم شماری کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔

1982ء میں کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا تھا۔

موجودہ مردم شماری کے عبوری نتائج پر ابھی سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں جوکہ خوش آئند علامت نہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے مردم شماری 2017ء کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کم دکھاکر یہاں کی رہنے والی تمام قومیتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ دکھائی گئی ہے جبکہ کراچی میں تین کروڑ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی سے ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو لاپتا کردیا گیا ہے۔ وہ 2017ء کی مردم شماری کو مسترد کرتے ہیں اور ادارۂ شماریات کی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں کراچی میں اٹھارہ ٹاؤن بنائے گئے تھے، جن کے مطابق کراچی کی مجموعی آباد ی دو کروڑ سے زائد تھی جبکہ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی کم ہو کر صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ رہ گئی ہے۔ اسی طرح سندھ حکومت خصوصاً پیپلزپارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں نے بھی ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی شاید سب سے بڑی وجہ قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کا حصہ کم ہوناہے۔ علاوہ ازیں حلقہ بندیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور بجائے بڑھنے کے کم ہونے کا امکان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے اور ان کی جانب سے پیش کر دہ تحفظات کو دورکرے۔

پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں کراچی میں اٹھارہ ٹاؤن بنائے گئے تھے، جن کے مطابق کراچی کی مجموعی آباد ی دو کروڑ سے زائد تھی جبکہ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی کم ہو کر صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ رہ گئی ہے۔

مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی آبادی کے درست اعداد و شمار کو جانے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کے نتائج کو درست اور حقیقت پر مبنی تسلیم نہیں کیا جاتا؟ تعصب اور نسلی امتیاز کو کیوں ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے؟ ہمارا نظام شفاف کیوں نہیں ہو سکتا کہ اس اعدادوشمار کی چھلنی پر سب کو اعتماد ہو۔ اعتراضات کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ یاد رکھیں اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے مفاد کی خاطر اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرتی ہے، تواس کے نتائج انتہائی بھیانک ہونگے۔ ہم ایک قوم ایک قوت اور ایک جان تب ہی ہوں گے، جب ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہوگا۔ وگرنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔




تبصرہ کیجئے