187 total views, 1 views today

(خصوصی رپورٹ) کرغزستان میں پڑھنے والے دس ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ جن میں سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ کا تعلق خیبر پختون خواہ سے ہے، وہاں مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے محصور ہوگئے ہیں۔کرغزستان کے دارالخلافہ بشکیک میں میڈیکل کی سات یونی ورسٹیاں ہیں، جہاں ہزاروں پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ کرونا وائرس کیسوں کی وجہ سے وہاں لاک ڈاؤن ہے جس سے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ان یونی ورسٹیوں میں موجود ہاسٹل طلبہ کے لیے ناکافی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بیشترطلبہ اپنے لیے نجی کمرے یا اپارٹمنٹ کرایہ پر حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ہزاروں پاکستانی طلبہ کرایہ کے اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہیں۔ ہاسٹل سے باہر رہنے والے پاکستانی طلبہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے ہاں اشیائے خور ونوش ختم ہوگئی ہیں۔ حکومت کوئی مداد نہیں دے رہی۔ بینکوں کی بندش کی وجہ سے پیسے بھی نہیں منگواسکتے اورباہر جانے پر حکومت کی جانب سے سخت پابندی اور بھاری جرمانہ عائد ہے۔
اس حوالہ سے سوات کے ایک رہائشی طالب علم ارسلان(فرضی نام) نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ طلبہ شدید اذیت اور نفسیاتی مسائل کاسامنا کررہے ہیں۔ کرغزستان میں غیر ملکی طلبہ یونیورسٹیوں میں کنڑیکٹرز کے ذریعے داخلہ لیتے ہیں۔کنٹریکٹرز کے خلاف یا ان کی اجازت کے بغیر طلبہ سوشل مےڈیا پر اپنی فریاد بھی نہیں دے سکتے۔جو طلبہ ایسا کرتے ہیں کنٹریکٹرز ان کا یونیورسٹی میں داخلہ منسوخ کردیتے ہیں۔
ایک اور طالب علم نے اس حوالہ سے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں کنٹریکٹرز کی طرف سے طلبہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ سوشل میڈیا سے اس حوالہ سے دور رہیں، ورنہ ان کا داخلہ منسوخ کردیا جائے گا۔
کرغزستان میں محصور پاکستانی طلبہ کا کہنا ہے کہ بینکوں کی بندش کی وجہ سے ان کو گھروالے ماہانہ پیسے نہیں بھیج سکتے اور ان کے پاس موجود رقم بھی ختم ہوگئی ہے۔ وہ بمشکل ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں جو کھانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ طلبہ کے مطابق انہیں پاکستانی ایمبیسی سے بھی کوئی خاطرخواہ مدد نہیں مل رہی۔ یونی ورسٹیز کی بندش اور باہر جانے پر پابندی کی وجہ سے طلبہ براہِ راست یونی ورسٹی انتظامیہ کے ساتھ بات بھی نہیں کرسکتے۔
کرغزستان میں محصور طلبہ کے والدین پاکستان میں پریشان ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی سوشل مےڈیا پر گھر والوں سے باتیں ہوتی ہیں، تاہم جو ہم پر گزرتی ہے، وہ ہم نہیں بتا سکتے۔ طلبہ کے مطابق پاکستان سے کرغزستان کے لیے کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہیں ہے۔ پاکستان سے ائیر عربیہ بذریعہ شارجہ اور امارات ائیر لائن بذریعہ دبئی جایا جاتا ہے، لیکن آج کل تمام ائر لائنز گراؤنڈ ہیں۔ طلبہ نے حکومتِ پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی اے کی خصوصی پروازوں سے طلبہ کو واپس نکال لیا جائے، کیو ں کہ تمام طلبہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔




تبصرہ کیجئے