116 total views, 2 views today

ملاکنڈ ڈویژن کے 9 اضلاع یعنی سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، دیر لوئر، دیر اَپر، باجوڑ، چترال لوئر اور چترال اَپر میں کرونا وائرس سے تادمِ تحریر پانچ افراد جاں بحق اور 67 متاثر ہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے مرنے والے 5 افراد میں 3 کا تعلق سوات، ایک کا بونیر اور ایک کا دیر لوئر سے ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں کُل مشتبہ افراد کی تعداد 529 تھی، جن کے ٹیسٹ کیے گئے۔ اُن میں 299 افراد کے ٹیسٹ منفی اور 67 افراد کے مثبت آئے۔ اس طرح 163افراد کے ٹیسٹ کا نتیجہ ابھی آنا باقی ہے۔
جن اضلاع کے افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان میں سوات کے25، شانگلہ کے 2، بونیر کے 14، لوئر دیر کے 15، اَپر دیر کے 6، ملاکنڈ کا 1 اور باجوڑ کے4افراد شامل ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے دو اضلاع چترال لوئر اور چترال اَپر کرونا وائرس سے پاک ہیں۔ اَپر چترال میں 6 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے، لیکن کسی میں بھی وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
کرونا وائرس سے پاک اضلاع چترال میں انتظامیہ نے باہر سے آنے والے افراد کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ چترل کے رہائشی افراد کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ہی انہیں داخلہ کی اجازت ہوگی۔
موجودہ صورتحال میں ملاکنڈ ڈویژن میں 16440 افراد باہر ممالک سے اپنے گھروں کو آئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باہر ممالک سے سوات میں 5199، شانگلہ 512، بونیر 2153، لوئر دیر 3695، اَپر دیر 2046، ملاکنڈ 1439، لوئر چترال244، اَپر چترال 108 اور باجوڑ میں 1044 افراد آئے۔ ان میں سے 14570 افراد تک انتظامیہ کی رسائی ہوئی ہے جن میں 11373 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ افراد کرونا وائرس سے پاک ہیں۔ 120 افراد مشتبہ ہیں، جن کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں۔ 1488 افراد تک ابھی تک انتظامیہ کی رسائی نہیں ہوئی۔
ملاکنڈ ڈویژن کے 9 اضلاع میں قرنطینہ کے لیے 59 عمارتوں میں 1742 کمروں کو مخصوص کیا گیا ہے، جن میں 1296 بستروں کی گنجائش ہے۔ سوات کی چودہ عمارتوں میں 525 کمرے، شانگلہ کی 4 عمارتوں میں 198، بونیر کی 6 عمارتوں میں 314، دیر لوئر کی 3 عمارتوں میں 54، دیر اَپر کی4 عمارتوں میں 342، ملاکنڈ کی 2 عمارتوں میں کوئی کمرہ نہیں، چترال لوئر کی 4 عمارتوں میں 101، چترال اَپر کی 3 عمارتوں میں 48 اور باجوڑ کی 19 عمارتوں میں 160 کمروں کو قرنطینہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
(نوٹ:۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ 5 اپریل 2020ء کو مرتب کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)




تبصرہ کیجئے