112 total views, 1 views today

بدقسمتی سے اس بات میں دو رائے نہیں کہ ہمارے ہاں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی اکثریت قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر جذباتی فیصلے کرتی ہے، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے اگر دیکھا جائے، تو اس سلسلے میں بھرپور سیاست کی بو آ رہی ہے، جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں درست نہیں۔ہمارے ہمسایہ ملک چائینہ میں کرونا وائرس کی وبا نازل ہوئی (یا مسلط کی گئی) تو وہاں کی حکومت اور عوام نے اس کے تدارک کے لیے بروقت اقدامات اُٹھائے اور اس وبا کو مزید بڑھنے سے روک دیا بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ انہوں نے تمام ممالک پر یہ احسانِ عظیم کیا کہ انہوں نے اپنے ملک میں غیر ملکیوں کو اس وقت تک مہمان رکھا جب تک وہ اس وبا کے خاتمہ سے سرخرو نہیں ہوئے، جب کہ دوسری طرف دیکھا جائے، تو دیگر ممالک خاص طور پرایران نے اپنے ملک میں آئے ہوئے ہزاروں مہمان افراد کو زبردستی انہی کے ممالک کی طرف دھکیل دیا، جہاں یہ وبا پہلے موجود نہ تھی۔ خاص طور پر پاکستان کے ہزاروں زائرین کو ایران نے پاسپورٹ پر’’خروج‘‘ لگا کر بارڈر پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا، جو کہ ان پاکستانی زائرین کے ساتھ بہت بڑی زیادتی تھی۔
گو کہ ایران سے مسلک کی بنیاد پر دِلی ہمدردی میں ان زائرین نے ایران کی طرف سے ہونے والے ناروا سلوک پر لب کشائی کرنے کے بجائے پاکستانی حکومت کے ناقص انتظامات پر مختلف سوشل میڈیا کی وساطت سے ایک شور برپا کر دیا جس کے لیے پاکستانی حکومت ذہنی طور پر بالکل تیار نہ تھی، اور اچانک اتنی بڑی تعداد میں زائرین کی واپسی اور انتظامات حکومت کے لیے کسی مشکل صورت حال سے کم نہ تھے۔ اسی حوالے سے بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہنوائی کا مؤقف سامنے آیا کہ ’’بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ ان زائرین کو تفتان بارڈر پر ہی روک لیا جائے، تاکہ کرونا وائرس جیسی وبا سے پاکستان کو محفوظ رکھا جا سکے، لیکن ہماری کوئی بات نہ سنی گئی۔‘‘
دوسری طرف بارڈر پر مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج کی خبریں سامنے آنا شروع ہوگئیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق کچھ زائرین نے اپنی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بیک ڈور چینل سے زلفی بخاری سے داد رسی کی اپیل کی ،جس پر کہا جاتا ہے کہ ان کی سفارش رنگ لے آئی اور تفتان بارڈر کھول دیا گیا۔ پاکستان میں آنے والے ان زائرین کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ زلفی بخاری جوکہ مسلک کی بنیاد پرزائرین سے جذباتی وابستگی رکھتے تھے،نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان زائرین کو بغیر اسکریننگ کے یا قرنطینہ میں رکھے بغیر ملک میں آنے کی اجازت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دوران جب کرونا وائرس کی وبا کے کچھ کیس سامنے آئے، تو زلفی بخاری کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک شور برپا ہوگیا جس میں سیاسی و مذہبی حلقوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلا سوچے سمجھے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔
سوشل میڈیا پر زلفی بخاری کے ہم مسلک بھی ان کی حمایت میں باہر نکل آئے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ باقی ممالک سے بھی پاکستانی، اندرونِ ملک واپس آئے تھے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور یواے ای کی مثال دی جانے لگی۔ اس مؤقف کے مخالفین کا کہنا تھا کہ وہ تمام پاکستانی بذریعہ ہوائی جہاز مختلف پروازوں سے آئے، اورپاکستانی ائیرپورٹ حکام نے ان کواسکریننگ کے ایک مربوط نظام سے گزار کر آنے دیا۔ یہ بحث سوشل میڈیا سے بڑھتے بڑھتے گلی کوچوں تک پھیل گئی جوکہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں درست نہیں۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ اگر حکومت بَروقت اقدامات کرتی اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتی، غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے ان سے باز پُرس کرتی، تو یہ مسئلہ وہاں ہی رُک سکتا تھا، مگر ایسا نہ ہواجس سے براہِ راست عمران خان کی ذات پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی جانے لگیں کہ وہ ملکی مفاد کے بجائے اپنے قریبی ساتھیوں کو ملکی معاملات میں کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، اور دوست پروری کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ کافی عرصے سے زلفی بخاری کے خلاف ایک تنقید ہو رہی تھی کہ ملکی اداروں پر ان کے احکامات چل رہے ہیں، اور پاکستان میں کلیدی عہدوں پر ایک ہی مسلک کے افراد کو سفارشی بنیادوں پر تعینات کرکے نوازا جا رہا ہے۔ یہ بات کسی نہ کسی طرح حقائق کی روشنی میں دیکھی جائے، تو اس کے کافی شواہد موجود ہیں۔ اب بھی وقت ہے عمران خان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان الزامات کا نوٹس لیں، ورنہ ان کی حکومت کے خلاف ایک ہی مسلک کو نوازنے کے سنگین الزامات مزید فرقہ واریت کو ہوا دیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ رائے عامہ وہ راگ ہے جس کو ہر شخص اپنے طور پر بے سُرے طریقے سے الاپتا ہے، اور اس طرح ہزاروں سُروں پر مشتمل ایک بے ہنگم راگ جنم لیتا ہے۔ یہ بے ہنگم راگ موجودہ حکومت کے لیے کسی زہر قاتل سے کم نہ ہوگا۔
بدقسمتی سے موجودہ حکومت کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ کوئی قدم بروقت نہیں اُٹھاتی، اور اس کے نقصانات تنقید کی صورت میں برداشت کر رہی ہے۔ اب تو پی ٹی آئی کے ورکرز کی طرف سے بھی حکومتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جب کہ عوام کی طرف سے یہ شدید ردعمل بھی سامنے آرہا ہے کہ اس ایمان دار حکومت سے چور حکومت لاکھ درجے بہتر تھی۔
رائے عامہ کی اس بدلتی ہوئی صورت حال کو اگر حکومت نے سنجیدگی سے نہ لیا تو حکومت کے لیے مزید مسائل بڑھ سکتے ہیں اور اگر کرونا وائرس کے حوالے سے مزید ہلاکتیں سامنے آتی ہیں تو ڈر ہے کہ یہ کرونا وائرس اس حکومت کو بھی اپنے ساتھ نہ لے جائے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے