53 total views, 2 views today

دنیا بھر میں کرونا وائرس نے لاشوں کے انبار لگانے کے بعد اکانومی کا بھی ستایاناس کرنا شروع کر دیا ہے۔ جدید ترین سہولیات اور ٹیکنالوجی سے لیس ممالک بھی سر توڑ کوششوں کے باجود اس کا مقابلہ کرنے میں شدید دقت اور مشکلات سے دو چار ہیں، لیکن وطنِ عزیز میں اب بھی اس وبا کو سیریس نہیں لیا جا رہا، اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق کرونا کو عالمی سازش، جھوٹ کا پلندہ، افواہ، مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کی عالمی سازش وغیرہ وغیرہ قرار دے رہا ہے۔
اٹلی میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانا مشکل ہوگیا ہے۔ مردہ خانوں میں مزید لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں۔ ایسے میں کرونا سے بچنے اور اسے مات دینے کے لیے سنجیدہ اور یقینی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت سے زیادہ عوام کارویہ انتہائی اہم ہے۔ کرونا کا مقابلہ ادویہ سے نہیں بلکہ چند احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے کیا جاسکتا ہے۔
اس میں سرِفہرست
٭ ہاتھوں کو وقتاً فوقتاً دھونا، پُرہجوم جگہوں اور غیر ضروری لوگوں سے میل جول سے پرہیز کرنا شامل ہیں۔
٭ ہاتھ ملانے سے اجتناب کیا جائے اور اسلام علیکم، وعلیکم سلام کہنے پر اکتفا کیا جائے۔
٭ نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار کی علامات ہوں، تو پریشان نہ ہوں اور نہ کسی کلینک اور ہسپتال جانے کی ضرورت ہی ہے، بلکہ خود کو گھر تک محدود رکھیے اور پیراسیٹامول (پینا ڈول)کے علاوہ کوئی اور دوا اور خاص کر اینٹی بائیوٹک سے سختی سے پرہیز کریں۔ لوگوں میں یہ آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے کہ اینٹی بائیوٹک سے صرف بیکٹیریا مرتے ہیں، وائرس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ اینٹی بائیوٹک سے وہ جراثیم بھی مر جاتے ہیں جو ہمارے لیے مفید ہوتے ہیں اور ہماری قوت مدافعت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
قارئین، بدقسمتی سے ہمارے لوگ تب تک سکون سے نہیں بیٹھتے، جب تک ان کو اینٹی بائیوٹک ادویہ نہیں دی جاتیں۔
٭ اس کے علاوہ اگر آپ کسی بیماری میں کچھ عرصہ سے مبتلا ہیں، تو موجودہ حالات میں ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں۔ جہاں اتنا انتظار کیا ہے، تو مزید چند دن انتظار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ہسپتالوں اور کلینک میں صرف اس وقت جائیں جب کوئی ایمرجنسی ہو، ورنہ ہمار ے ہسپتال تو جراثیم اور بیماروں کی آماجگاہ ہیں۔ لہٰذا ہسپتالوں سے دور رہنا ہی دانشمندی ہے ۔
٭ جہاں تک ممکن ہو سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔ کرونا وائرس، پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور سانس کی نالیوں کو ایسے جکڑ میں لے لیتا ہے کہ آکسیجن بننے کا عمل رُک جاتا ہے اور نہ صرف سانس لینے میں ناقابلِ یقین حد تک دشواری ہوتی ہے، بلکہ جسم کے دوسرے اعضا تک آکسیجن زدہ خون نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں یہ اعضا یکے بعد دیگرے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جسے ملٹی آرگن فیلیئر (Multi Organs Failure) کہا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں انسان ہوش و حواس کھو دیتا ہے اور دماغ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوما میں چلا جاتا ہے، پھر مصنوعی تنفس یا ’’وینٹی لیٹر‘‘ پر منتقلی ضروری ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال میں بچنے کی امید پھر بھی بہت کم ہوتی ہے۔
قارئین، آپ سب کے علم میں ہوگا کہ پاکستان میں بمشکل ہی گنتی کے ’’وینٹی لیٹرز‘‘ ہیں اور اس کا گھنٹوں کے حساب سے خرچہ برداشت کرنا ہر کسی کے بس کا کام بھی نہیں۔ اٹلی میں بے تحاشا اموات کی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایک وینٹی لیٹر کے لیے چار سے چھے مریض ہیں اور ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنامشکل پڑ رہا ہے کہ کسے بچایا جائے اور کسے تڑپ تڑپ کر مرنے دیا جائے۔ اس وقت دنیا بھر میں ’’وینٹی لیٹرز‘‘ کی شدید قلت ہے، اور باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان ’’وینٹی لیٹرز‘‘ بنانے والے ممالک سے انہیں خریدنے کی تگ و دوکر رہا ہے، لیکن کوئی بھی ملک انہیں بیچنے پر آمادہ نہیں۔ کیوں کہ اُن کو خود اِن کی ضرورت ہے۔
٭ اس کے علاوہ مرنے کے بعد بھی لاشوں سے یہ وبا تیزی سے پھیلتی ہے اور کفن دفن بھی مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔لہٰذااب وقت کا تقاضا ہے کہ احتیاط برتی جائے۔ ورنہ اپنے پیاروں کو خدا نخواستہ دفن کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔
٭ نمازوں کا اہتمام گھروں میں کیا جائے۔ احتیاطی تدابیر اپنانے کا مقصد یہ نہیں کہ ہمیں اللہ پر بھروسا نہیں، بلکہ جان کی حفاظت کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خود کشی کو حرام کیا گیا ہے، اور اب وقت کا تقاضا یہی ہے کہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائے، ورنہ اس سے روگردانی خودکشی ہی کے مترادف ہے۔
قارئین، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک خطر ناک وبا ہے، لیکن اگر آسان اور سادہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، تو اس کا مقابلہ باآسانی کیا جا سکتا ہے۔
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے