133 total views, 2 views today

محترم وزیراعلیٰ صاحب! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے نے آبائی علاقہ تحصیل مٹہ کے تین بڑے گاوؤں شور، گوالیرئی، راحت کوٹ اور ملحقہ گاوؤں کے ایک لاکھ سے زائد مکینوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میں بدترین مشکلات کا سامنا ہے؟ ان یونین کونسلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک “بیسک ہیلتھ یونٹ” (بی ایچ یو) پر ہزاروں لوگوں کا بوجھ ہے۔ زیادہ تر بی ایچ یوز میں ڈاکٹرز اور ادویہ موجود نہیں۔ ان علاقوں میں مستند ڈاکٹر یا پرائیویٹ اسپتال بھی موجود نہیں۔ علاقے کے لوگ غیر تربیت یافتہ یا اسپتالوں میں کلاس فور اور خاکروب کی ڈیوٹی کرنے والوں سے اپنی لاعلمی کی وجہ سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ مختلف گاوؤں میں عطائی ڈاکٹر غیر معیاری ادویہ لوگوں کو دے رہے ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولنس کی سہولت موجود نہیں۔ لوگ پندرہ کلومیٹر دور مٹہ اسپتال اور زیادہ تر پچپن کلومیٹر دور سیدو شریف اسپتال جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
جنابِ عالی، مٹہ کے شور یونین کونسل جس کی کل آبادی تین ہزار سے زائد ہے، کے رہائشی امان خان کا کہنا ہے کہ شور کے علاقے میں تین ہزار سے زائد آبادی کے ساتھ منسلک درجنوں گاؤں ہیں، جن کی مجموعی آبادی دس ہزار سے زائد بنتی ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بیسک ہیلتھ یونٹ ناکافی ہے۔ ان کا  کہنا ہے کہ شور کے ساتھ منسلک درجنوں گاوؤں کے رہائشی اسی ایک بی ایچ یُو سے علاج کرانے آتے ہیں، مگر زیادہ تر لوگ بغیر علاج کے واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں پر ایک ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہوتی ہے جو صبح تا شام کام کرتا ہے۔ اس کے پاس مناسب ادویہ موجود نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی قسم کی امداد نہیں دی جاسکتی۔ ڈاکٹر صرف معائینہ کرتے ہیں اور ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ علاقہ میں کوئی باقاعدہ میڈیکل سٹور بھی موجود نہیں۔ “بی ایچ یُو میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں۔ زچگی کے کیسوں میں بھی خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کو دیگر امراض میں شدید مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے علاقے پسماندہ ہیں۔ روایات اور کلچر کی وجہ سے خواتین، مرد ڈاکٹروں کے پاس بڑی مشکل سے جا پاتی ہیں۔ نیز ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان بھی نہیں کرسکتیں۔ اک معمولی حادثے کی صورت میں بھی لوگ پندرہ کلومیٹر دور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال مٹہ جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔‘‘
جنابِ  عالی! امان خان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے دادا جان کو تکلیف ہوئی، تو اُنہیں بی ایچ یو لے جایا گیا، جہاں پر ڈاکٹر نے آرام کی دوا لکھ کر دی، مگر درست تشخیص نہ ہوسکی۔ کہتے ہیں: ’’ہم نے ان کو پندرہ کلومیٹر دور مٹہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا، جہاں ہمیں بتایا گیا کہ ان کے گردوں میں مسئلہ ہے اور کڈنی اسپتال ریفر کیا۔ جب ہم نے ان کو کڈنی اسپتال پہنچایا، تو اسی اثنا میں خاصی دیر ہوچکی تھی جس کی وجہ سے وہاں دادا جان جاں بحق ہوگئے۔ کڈنی اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُن کی موت انہیں یہاں دیر سے لانے کی وجہ سے ہوئی۔ ہمارے مرحوم دادا جان کے جسم میں وقت زیادہ گزرنے کی وجہ سے زہریلا مواد پھیل گیا تھا۔ اگر ان کی بروقت اور درست تشخیص ہوئی ہوتی، تو ان کے بچنے کے امکانات بہرحال موجود تھے۔ اس طرح سیکڑوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر لوگ مقامی عطائی ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔‘‘
جنابِ والا! ان کا مزید کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں کو صحت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے کے لوگ زیادہ تر غریب ہیں۔ اس لیے وہ اپنا معیاری علاج بھی نہیں کر پاتے۔

مٹہ کے یونین کونسل “شَور” کا ایک دلفریب منظر (فوٹو: لیکچرار جہانزیب کالج لیاقت علی)

جنابِ عالی! تحصیلِ مٹہ کا “گوالیرئی یونین کونسل” بھی صحت کے حوالے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ گوالیرئی کے سماجی کارکن کامریڈ جوہر اقبال اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بتاتے ہیں کہ گوالیرئی میں ایک بی ایچ یُو موجود ہے، مگر اس میں سرے سے کوئی ڈاکٹر ہی نہیں۔ پہلے جو ایک ڈاکٹر موجود تھا، اس کا تبادلہ ہوگیا ہے، اس کی جگہ دوسرے کو تعینات نہیں کیا گیا۔ جوہر اقبال کے بقول: “بی ایچ یو گوالیرئی پر یونین کونسل برتھانہ اور بہا کے ہزاروں لوگوں کا بھی انحصار ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ گوالیرئی کی سولہ ہزار آبادی کے ساتھ مجموعی طور پر چالیس ہزار کے لگ بھگ لوگ گوالیرئی بی ایچ یو سے علاج کراتے ہیں، مگر یہ یونٹ اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔ لوگوں کو عام امراض کھانسی، پیچش، پیٹ درد، بخار وغیرہ کے لیے پندرہ کلومیٹر دور مٹہ اسپتال جانا پڑتا ہے۔ یا پھر زیادہ تر لوگ مقامی غیر تربیت یافتہ بابو، میڈیکل ٹیکنیشن اور اسپتالوں میں دیگر ڈیوٹیاں دینے والوں سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔” جوہر اقبال کا مزید کہنا ہے کہ مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں ہپٹائٹس کے امراض بڑھ رہے ہیں جو کہ لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں متبادل علاج موجود ہی نہیں۔ زچکی کے دوران کئی خواتین جان سے ہاتھ دھو چکی ہیں۔ علاقے کے لوگ زیادہ تر زمین دار ہیں، غریب ہیں، ان کے پاس اتنے وسائل موجود ہی نہیں کہ اپنی گاڑی میں مریضوں کو بروقت شہر کے اسپتال میں منتقل کریں، یا شہر میں پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔ ان کے مطابق کئی مرتبہ اعلیٰ حکام اور سیاسی رہنماؤں سے علاقے میں کٹیگری بی اسپتال کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ہے، مگر تاحال اس پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوا۔ “الیکشن کے دوران متوقع منتخب نمائندوں سے وعدے لیے جاتے ہیں، مگر کامیاب ہونے کے بعد وہ لوگ اپنے کیے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں۔”




مٹہ کے یونین کونسل گوالیرئی کے بازار کا ایک منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

جنابِ والا! مٹہ کے ایک اور بڑے یونین کونسل راحت کوٹ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ویسے تو علاقے کی آبادی تیرہ ہزار بتائی جا رہی ہے، مگر اس کے ساتھ منسلک درجنوں گاؤں ہیں، جن میں بھی صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مقامی صحافی نوید اختر کا کہنا ہے کہ راحت کوٹ میں سرے سے بی ایچ یُو موجود ہی نہیں ہے، جب کہ پورے یونین کونسل میں مستند ڈاکٹر بھی کوئی موجود نہیں جو پرائیویٹ طور پر لوگوں کو علاج کی سہولیات دے سکے۔ “ہزاروں کی آبادی کے لیے کسی ایک بھی لیڈی ڈاکٹر کی کوئی سہولت نہیں۔ ہزاروں لوگ یا تو عطائی ڈاکٹروں، یا پھر غیر تربیت یافتہ میڈیکل ٹیکنیشنز سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں علاقے کے لوگ پندرہ کلومیٹر دور مٹہ تحصیل ہیڈ کواٹر اسپتال میں علاج کرانے پر مجبور ہیں جب کہ علاقے کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔ اپنے لیے ادویہ تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر حکومت کم ازکم علاقے میں ایک بی ایچ یُو قائم کر دے، تو اس سے علاقے کے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوگا۔”
جنابِ والا! آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ سوات میں محکمۂ صحت کی طرف سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق پورے ضلع کے 65 یونین کونسلوں کے لیے 41 بیسک ہیلتھ یونٹس قائم ہیں، جن میں آٹھ سے نو تک میڈیکل سٹاف کام کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ایک مستند ڈاکٹر، دو ایل ایچ وی، ایک دایہ باقی کلاس فور جن میں چوکیدار بھی شامل ہے، ایک ایل ایچ وی کو سالانہ اوسطاً ڈھائی سے تین لاکھ روپے مالیت کی ادویہ اور طبی سہولیات دی جاتی ہیں۔ اس طرح سوات میں ایک یونین کونسل کے لیے ایک بی ایچ یو دیا جاتا ہے، جس کی آبادی بارہ سے سولہ ہزار نفوس پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس وقت سوات کے دور دراز علاقے جن میں کالام ، اتروڑ، بَرشور بشمول ایسے دس بی ایچ یوز ہیں جن میں سرے سے کوئی ڈاکٹر موجود ہی نہیں۔ کوئی بھی ڈاکٹر وہاں ڈیوٹی دینے پر راضی نہیں جب کہ عالمی ادارۂ صحت کے اصولوں کے مطابق پانچ ہزار کی آبادی کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا ضروری ہے۔ اس طرح سوات کے تمام “بی ایچ یُوز” میں لیبر روم بھی موجود نہیں۔ زچگی کے لیے صرف ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے، جب کہ بی ایچ یُو ایک ہی شفٹ میں کام کرتا ہے، وہ بھی صبح آٹھ بجے سے دوپہر دوبجے تک۔ اس پر طرہ یہ کہ سرکاری چھٹی بھی کی جاتی ہے۔
جنابِ والا! آپ کے آبائی حلقے کے تین بڑے یونین کونسلوں اور ملحقہ علاقوں کو طبی سہولیات کے بارے میں جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات ڈاکٹر اکرام شاہ سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ گوالیرئی میں ڈاکٹر کی تعیناتی کے لیے کام ہو رہا ہے۔ وہ وہاں بہت جلد کام شروع کرے گا۔ گوالیرئی، راحت کوٹ اور شور میں بی ایچ یُو موجود ہیں، جس میں سٹاف بھی ہے۔ علاقے کے لوگوں کو دستیاب وسائل کے مطابق طبی امداد دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اکرام شاہ مانتے ہیں کہ تمام بی ایچ یُوز میں پالیسی کے مطابق صبح نو سے شام پانچ بجے تک کام ہوتا ہے، پھر بند کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت سے باقاعدہ دس بی ایچ یُوز کے لیے لیبر روم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔ تاکہ خواتین کو زچگی کے دوران طبی امداد مہیا ہو۔
اب جاتے جاتے آپ سے درخواست ہے کہ ان سطور کو ضرور پڑھیے۔
جنابِ والا! جب آپ کے اپنے آبائی علاقے کا یہ حال ہے، تو باقی سوات کا کیا ہوتا ہوگا، اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے