78 total views, 1 views today

پنجاب میں ٹیچنگ ہسپتالوں میں جہاں ایک طرف آئے روز ہڑتال ہوتی ہے، وہیں دوسری جانب ادویہ کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں مفت علاج معالجے کی فراہمی کے لیے حکومت کی جانب سے بروقت ادویہ کی خریداری کے لیے مختص اقساط جاری نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ ایڈمٹ مریضوں کو باہر سے ادویہ خریدنے کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویہ کی فراہمی صیح معنوں میں صرف پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں ممکن ہوپائی تھی۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب اس معاملے میں بہت متحرک ہے اور وقتاً فوقتاً صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ادویہ کی شدید قلت اور ’’لوکل پرچیز‘‘ کا بجٹ ختم ہونے کے خلاف ہسپتالوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔ ’’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سروسز ہسپتال‘‘ نے ادویات کی قلت اور لوکل پرچیز بجٹ مہیا نہ کرنے اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہسپتالوں میں ادویہ کی قلت کو فوری ختم کیا جائے، اور لوکل پرچیز کا بجٹ فوری دیا جائے۔ کیوں کہ ادویہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے کے باعث عام آدمی کے لیے بازار سے بھی ادویہ خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔
یہ مطالبہ صر ف ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کا نہیں بلکہ پنجاب کے تیرہ کروڑ باسیوں کا ہے۔ وہ پنجاب کے وسیم اکرم پلس سے سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے 17 ماہ کے دوران میں پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، لاہور اور گوجرانوالہ میں عوام کی صحت و صفائی اورذرائع مواصلات خصوصاً سڑکوں کی ابتر صورتحال کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ راقم کو گذشتہ اتوار لاہور کے سروسزہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ راولپنڈی سے لے کرلاہور تک جی ٹی روڑ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ پچاس ساٹھ کی سپیڈ سے اُوپر آپ گاڑ ی نہیں چلا سکتے۔ جابجا گھڑے اور ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں گاڑیوں کا منھ چڑاتی دکھائی دیتی ہیں۔ مریض کو جی ٹی روڑ سے لاہور منتقل کرنا اسے قبرستان بھیجنے کے مترادف ہے۔ وفاقی وزیرِ مواصلات مراد سعید آئے روز قومی اسمبلی میں اپنے اعدادو شمار پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی وزارت نے کثیر منافع کمایا ہے، اور بچت اور سادگی کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ اب سمجھ آئی کہ جب آپ ترقیاتی کام نہیں کروائیں گے۔ سڑکوں اور پلوں کے لیے فنڈز مہیا نہیں کریں گے، تو پھر لازماً وزارتیں منافع میں تو جائیں گی۔ خدارا، اس ملک کے بھولے ووٹرزپر ترس کھائیں، جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر اقتدار کی راہداریوں میں پہنچایا، وگرنہ ’’تمہاری تو داستاں بھی نہ ہوتی داستانوں میں۔‘‘
ڈاکٹر شہزاد گل جب پنجاب میں تھے، تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کی حیثیت سے وہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ایڈمنسٹریشن کے گن گاتے تھے، اور ہم تین سو کلومیڑ دور رہنے والے راولپنڈی کے باسی بھی اُن کی چکنی چپڑی باتوں پر یقین کرنے لگے تھے کہ شاید شہباز شریف کے جانے کے بعد اب مزید انتظامی امور میں بہتری آئے گی، لیکن جب میں لاہور کی سروسز ہسپتال میں کسی مریض کی عیادت کے لیے گیا، تو ہسپتال میں گندگی کی صورتحال دیکھ کر حیران و پریشان ہوگیا۔ جابجا گندگی اور کوڑے کے ڈھیر۔ وارڈوں کے باہر اور اندر کوڑا پڑا ہے، اور کوئی صفائی والا خاکروب دکھائی نہیں دے رہا۔ ہاکر، پھلوں والے، قہوہ بیچنے والے اور دال سوئیاں بیچنے والے ’’آرتھوپیڈک آئی سی یو‘‘ میں ڈھٹائی سے اپنا مال بیچ رہے تھے، اور کوئی ایڈمنسٹریشن یا ڈیوٹی پر موجود عملہ انہیں روک نہیں رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ میں کسی ہسپتال نہیں بلکہ فوڈ سڑیٹ میں گھوم رہا ہوں۔ وارڈوں کے ساتھ جابجا مریضوں کے لواحقین کی جانب سے بچا ہوا کھانا پڑا تھا۔ دیواروں پر پان کی پچکاریاں سب اچھا ہے کا پول کھول رہی تھیں۔
سروسز ہسپتال کے ایک نوجوان انقلابی ڈاکٹرسے مکالمہ احاطہ تحریر میں لانا ضروری ہے۔ نوجوان ڈاکٹر بھی ہسپتال میں ادویہ کی عدم فراہمی پر نالاں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مریضوں کے لواحقین پرائیویٹ سٹورز سے ادویہ لائیں لیکن وہ بے بس تھا۔ وہ ایک ٹیبل ٹینس کانیشنل لیول کا کھلاڑی رہ چکا تھا، اس نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے بتایاکہ چند دن پہلے کبڈی کے ایک سکھ کھلاڑی ہسپتال میں چوٹ لگنے کی وجہ سے لایا گیا جس کے ساتھ کم از کم آئی جی لیول کا پروٹوکول تھا، پولیس اور رینجرزکے جوان ہمراہ تھے۔ پولیس کا جوان مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ’’ڈاکٹر! لگتا ہے ہماری وردی تبدیل ہونے سے پولیس کا ڈر تم لوگوں پر ختم ہو گیا ہےـ۔ سب کام چھوڑو اور اس کھلاڑی کے علاج پر توجہ دو۔‘‘ نوجوان ڈاکٹر کو اس بات کا رنج تھا کہ ہماری پولیس کب اپنا رویہ تبدیل کرے گی؟ کون سی اصلاحات پولیس ڈیپارٹمنٹ میں لائی جا رہی ہیں؟ پولیس کا ’’ایٹی ٹیوڈ‘‘ کو ن تبدیل کرے گا؟ پولیس والا اپنے ایک ڈاکٹر کو عزت دینے کے بجائے اسے نیچا دکھانے پرکیوں تُلا ہوا ہے؟
میرے یک روزہ دورۂ لاہور نے پنجاب کے وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب کو چلانا عثمان بزدار کے بس کی بات نہیں ۔ اگر یہی صورتحال رہی، تو اگلے چند سالوں میں پنجاب تباہ و برباد ہو جائے گا۔
مرشد، ضد چھوڑیئے۔ پنجاب میں کسی قابل شخص کو لگائیے، اگر پی ٹی آئی کی بقا چاہیے تو ہم عوام پر ترس کھائیے۔غریبوں کو مہنگائی کے عذاب سے بچائیے۔انہیں جینے کا حق دیجیے۔روٹی نہیں دے سکتے، تو کم از کم علاج کی سہولت تو دیجیے۔
……………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے