267 total views, 1 views today

رواں ماہِ فروری کے آخری ہفتے تک افغان طالبان اور امریکی انتظامیہ کے درمیان افغان مفاہمتی عمل کے مسودے پر دستخط کیے جانے کی مصدقہ اطلاعات نے بہت بڑی پیش رفت کی نوید سنائی ہے۔ افغان طالبان کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان امن مسودہ پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، تاہم امریکہ اگر عین وقت پر حالات خراب نہ کرے تو۔
اماراتِ اسلامیہ کی جانب سے مسودے پر دستخط سے قبل عارضی جنگ بندی کیے جانے کی تادمِ تحریر مصدقہ اطلاعات نہیں۔ اماراتِ اسلامیہ کا شروع سے مؤقف یہی رہا ہے کہ جب تک امریکہ، معاہدے پر دستخط نہیں کرتا، اُس وقت تک مستقل جنگ بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تاہم ایسی اطلاعات ضرور سامنے آئی ہیں کہ افغان طالبان نے کچھ دن کے لیے جنگ بندی کی پیشکش ضرور کی ہے۔
22 فروری تا 29 فروری کے ایام اہمیت کے حامل ہیں۔ واضح رہے کہ افغان طالبان نے 2018ء کو عید الفطر کے موقع پر 17 برس بعد پہلی مرتبہ عارضی جنگ بندی کی تھی، لیکن جنگ پسند عناصر نے اس عارضی سیز فائر سے نامناسب فائدہ اٹھا کر امن کے قیام کو مشکل بنایا اور اماراتِ اسلامیہ کے اعتماد ٹھیس پہنچایا۔ اب تمام قیاس آرائیوں کو ایک جانب رکھ کر اس اَمر کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ افغانستان میں مستحکم قیامِ امن کے لیے بڑی پیشرفت سے خطے سے امریکہ اور نیٹو ممالک کی واپسی کا عمل شروع ہوجائے۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے فروعی مفادات کے لیے ترقی پذیر ممالک میں پراکسی وار اور جنگوں سے صرف غریب عوام کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ معاہدے پر پیشرفت اس حوالے سے بھی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے کہ افغانستان میں 35 برس تک جنگیں مسلط کرنے والوں کو اپنے مقاصد میں ناکامی کا سامنا ہوا ہے ۔
افغان مفاہمتی عمل میں امریکی افواج کے انخلا، بین الافغان مذاکرات کے ٹائم فریم سے افغانستان میں موجود دیگر اسٹیک ہولڈرز کو حکومت کے نظام و انصرام پر مشاورت کا موقع ملے گا، اور افغان عوام کی امنگوں اور خواہش کے مطابق طرزِ حکومت کا فیصلہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان نے اپنے اصولی مؤقف میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ اُن غلط فہمیوں کے اِزالے کی کوشش ضرور کی، جو افغان طالبان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈے کے تحت دنیا بھر میں پھیلائی گئیں۔ خاص طور پر پاکستان بارے منفی پروپیگنڈا سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلایا گیا کہ امریکہ اور کابل انتظامیہ کے خلاف افغانستان میں پاکستانی ریاست کی مدد شامل ہے۔ اس حکمت عملی کو اب اسٹریٹجک غلطی تسلیم کیا جاچکا ہے کہ امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے غیر جانب دار کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دور میں کئی مرتبہ ریاست پر دباؤ دالنے کی کوششیں ناکا م ہوئیں، جب پاکستان کو پڑوسی ممالک ایرا ن اور چین کے خلاف استعمال ہونے کے لیے دباؤ بڑھایا گیا، تاہم ریاست نے تحمل اور حکمتِ عملی سے مشرق وسطیٰ سمیت جنوبی ایشیا میں کسی ایسی جنگ میں شمولیت سے انکار کردیا، جو خطے میں مزید جنگ اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔ یہ ریاستی اداروں کی بڑی کامیابی رہی کہ انہوں نے پرائی جنگ کے شعلے ایک بار پھر اپنے ملک میں لانے کے تمام دباؤ کو رَد کیا۔ ریاستی اداروں نے اپنی تمام تر توجہ کابل انتظامیہ کے دوہرے معیار اور بھارت کی دراندازیوں اور سازشوں پر مرکوز رکھی، جس کی وجہ سے پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کی بڑی کارروائیوں کا خاتمہ اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی آزادنہ نقل وحرکت اور مذموم سازشوں کو رچانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔
افغان طالبان نے سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف مسلح مزاحمت صرف اس لیے کی، کیوں کہ ان کی سرزمین پر منفی پروپیگنڈوں اور خودساختہ منصوبہ بندی کرکے جارحیت کی گئی۔ ان کی سرزمین پر جنگ مسلط کی گئی۔ فروعی مفادات کے لیے غیور قوم کو اپنی تاریخی آبائی سرزمین سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ لاکھوں افغان عوام کو دنیا بھر میں ہجرت کرنا پڑی۔ پاکستان 40 برس سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے ۔ کرزئی یا غنی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات یا دشنام طرازیوں سمیت داخلی معالات میں مداخلت کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا، اور کئی بار افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کی گئی۔ یہاں تک کہ افغان مہاجرین کے لیے دوہری شہریت دینے کا بھی عندیہ ظاہر کیا گیا۔ کیوں کہ اس وقت پاکستان میں افغان مہاجرین کی تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے اور وہ پاکستان کو ہی اپنا وطن سمجھتی ہے۔
ٹرمپ نومبر میں صدارتی انتخابات سے قبل اپنے کئی انتخابی منشور پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے امریکی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرکے، اپنی متنازع شخصیت کے باوجود صدارت کے لیے دوسری مرتبہ طبع آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے صدر ٹرمپ، انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پیشرفت کو اپنی فتح کے لیے استعمال کرنے میں سنجیدہ ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں واضح اختلافات کے باعث کئی معاملات ہنوز حل طلب ہیں۔ ٹرمپ میکسکو سرحد پر چھے سو کلومیٹر حفاظتی دیوار کو بنانے کے ساتھ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے وعدے کو پورا کرنا ضروری سمجھتے ہیں، لیکن ان کی عجلت پسندانہ عادت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحہ پر نہ ہونے کی وجہ سے کئی عالمی تنازعات کو حل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
29 فروری تک افغان مفاہمتی عمل کے مسودے پر دستخط کے مرحلے کو اگر جنگ پسند قوتوں کی جانب سبوتاژ کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی، تو یہ صدی کی سب سے بڑی خبر ہوگی۔ بین الافغان مذاکرات میں افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک نکتہ پر اکھٹے ہوجائیں گے اور اس اَمر کی قوی امید ہے کہ افغانستان کے نظام و انصرام کا فیصلہ افغان عوام اپنی ثقافت و روایات کے مطابق کریں۔ تاہم ہمیں اس غلط فہمی میں بھی نہیں رہنا چاہیے کہ امریکہ کا افغان طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوتے ہی امن قائم ہوجائے گا ۔یقینی طور پر افغانستان میں ایسے جنگجو اور سیاسی گروپ بھی موجود ہیں، جو اماراتِ اسلامیہ کے مخالف اور ان کے اپنے فروعی مفادات ہیں۔ امریکی اور افغان طالبان کے درمیان معاہدہ انہیں قبول بھی نہ ہو، ان گروہوں میں بھارت کے پے رول پر کام کرنے والے جنگجو اور سیاسی گروہ بھی ہیں جو پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتے۔ صوبائیت، نسل پرستی اور فرقہ وارانہ فضا کو پروان چڑھا نے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر امریکی انتظامیہ بھی دور اندیشی سے کام لے اور افغان مفاہمتی عمل کو ایک بار پھر مُردہ کرنے کی عجلت کو نہ دُہرائے۔ کیوں کہ یہ سب کے حق میں بہتر ہے۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے